امریکی یہودیوں نے غزہ سے فلسطینیوں کو نکالنے کے منصوبے کو قابل نفرت قرار دے دیا، نیویارک ٹائمز میں پورے صفحے کا اشتہار جاری

نیویارک۔14فروری (اے پی پی):امریکا کے 350 ربیوں سمیت سینکڑوں یہودی رہنمائوں و کارکنوں نے جنگ سے تباہ حال غزہ سے فلسطینی شہریوں کونکالنے کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کی شدید مذمت کی ہے۔ جمعرات کو معروف روزنامے نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے پورے صفحے کے اشتہار میں ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کی پوری آبادی کو مستقل طور پر یہاں سے منتقل کرنے کے منصوبے کا جواب دیا گیا …

نیویارک۔14فروری (اے پی پی):امریکا کے 350 ربیوں سمیت سینکڑوں یہودی رہنمائوں و کارکنوں نے جنگ سے تباہ حال غزہ سے فلسطینی شہریوں کونکالنے کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کی شدید مذمت کی ہے۔ جمعرات کو معروف روزنامے نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے پورے صفحے کے اشتہار میں ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کی پوری آبادی کو مستقل طور پر یہاں سے منتقل کرنے کے منصوبے کا جواب دیا گیا ہے۔

اس منصوبے کا اعلان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے 4 فروری کو وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا تھا۔ بعد ازاں رواں ہفتے فاکس نیوز کو انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ غزہ کے فلسطینیوں کو دوبارہ تعمیر ہونے کے بعد علاقے میں واپس آنے کا حق حاصل نہیں ہوگاکیونکہ ان کے پاس بہت بہتر مکانات ہوں گے،میں ان کے لئے مستقل جگہ بنانے کی بات کر رہا ہوں،انہوں نے اردن، مصر اور دیگر عرب ممالک سے فلسطینیوں کو اپنانے کا مطالبہ بھی کیا ۔ یہ ایسی تجویز تھی کہ جسے عرب ممالک اور دیگر اتحادیوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا، نسلی تطہیر کے منصوبے کے طور پر اس کی مذمت کی گئی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان غزہ میں حماس اسرائیل جنگ بندی کے بعد آیا جہاں اسرائیلی فوجی حملوں میں 46,000 سے زیادہ فلسطینی مارے جا چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے تھے جبکہ فضائی حملوں سے غزہ میں بہت زیادہ انفراسٹرکچر تباہ ہوچکا ہے۔ ’’ ان اوور نیم کمپین ‘‘ کے ڈائریکٹر اور اشتہار کے منتظمین میں سے ایک کوڈی ایڈگرلی نے کہا کہ یہ بیان ایک نازک وقت پر آیا ہے کیونکہ سیاسی ریڈ لائنز جو کبھی ناقابل تبدیل سمجھی جاتی تھیں تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں کیونکہ ٹرمپ نیتن یاہو اتحاد دوبارہ قائم ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مذہبی اور سیاسی میدان میں اس قدر تیزی سے حمایت کا مشاہدہ کرنا خوش آئند ہے۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کے لئے ہمارا پیغام یہ ہے کہ آپ اکیلے نہیں ، ہماری توجہ آپ سے نہیں ہٹی، ہم غزہ میں نسلی تطہیر روکنے کی جدو جہدکے لئے پرعزم ہیں۔اشتہار کے ساتھ ایک نیوز ریلیز میں سپٹزر، نیوٹن اور میساچوسٹس میں کلیسیا کے سینئر ربی دورشی زیڈک نے کہا کہ یہ انتہائی اہم ہے کہ ہم امریکی یہودی کمیونٹی میں اپنی آواز ان تمام لوگوں تک پہنچائیں جو اس مکروہ منصوبے سے انکار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہٹلر کا جرمنی کو یہودیوں سے پاک کرنے کا خواب ہمارے لوگوں کے قتل عام کا باعث بنا ۔

سپٹزر نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ غزہ میں عارضی جنگ بندی کو مستقل کیا جائے، تمام یرغمالیوں کو گھر واپس لایا جائے، غزہ کی تعمیر نو کی جائے۔ پیٹر بینارٹ ’’ایڈیٹر-ایٹ لارج آف جیوش کرینٹس‘‘ جنہوں نے اس اشتہار پر دستخط بھی کئے، کہا کہ یہ دیکھنا انتہائی خوفناک ہے کہ وہ لوگ جو ہماری کمیونٹی میں بڑی قانونی حیثیت اور احترام سے لطف اندوز ہوتے ہیں کسی ایسی چیز کی حمایت کرنے کو تیار ہیں جسے 21ویں صدی کے سب سے بڑے جرائم میں سے ایک سمجھا جائے گا۔واشنگٹن ڈی سی میں نیو سیناگوگ پراجیکٹ کے ربی یوزف برمن نے کہا کہ بظاہر ایسالگتا ہے کہ ٹرمپ اپنے ملک اور دنیا پر حکمرانی کرنے، اس کے مالک ہونے اور اس پر غلبہ پانے کا اختیار رکھنے والا خدا ہے لیکن یہودی مذہبی تعلیمات میں واضح ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ خدا نہیں ،وہ فلسطینیوں کے موروثی وقار کو نہیں چھین سکتا اور نہ ہی جائیداد کے حصو ل کے لئے ان کی زمین ان سے چھین سکتا ہے، غزہ سے فلسطینیوں کو نسلی طور پر پاک کرنے کی ٹرمپ کی خواہش اخلاقی طور پر قابل نفرت ہے۔

یوزف برمن نے کہا کہ یہودی رہنما ٹرمپ کی نقل مکانی اور مصائب سے منافع کمانے کی کوششوں کو مسترد کرتے ہیں اور انہیں اس گھناؤنے جرم کو روکنے کے لئے اقدامات کرنا ہوں گے۔

مزید خبریں