اسلام آباد ۔ 5 مارچ (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ انسانی حقوق بالخصوص خواتین کے حقوق کا تحفظ اور ان کے خلاف تشدد کو روکنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور موجودہ حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں سماجی تنظیم ”روزن“ کے زیراہتمام تشدد کا شکار خواتین کی …
انسانی حقوق بالخصوص خواتین کے حقوق کا تحفظ اور ان کے خلاف تشدد کو روکنا ریاست کی ذمہ داری ہے، موجودہ حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرنے کیلئے پرعزم ہے،وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 5 مارچ (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ انسانی حقوق بالخصوص خواتین کے حقوق کا تحفظ اور ان کے خلاف تشدد کو روکنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور موجودہ حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں سماجی تنظیم ”روزن“ کے زیراہتمام تشدد کا شکار خواتین کی بعداز عارضی پناہ گاہ، اپنی زندگی باوقار حیثیت سے گزارنے کا حق اور اس سلسلہ میں اقدامات کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مارگریٹ ایڈمزون آسٹریلین ہائی کمشنر برائے پاکستان بھی موجود تھیں۔ وفاقی وزیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ انسانی حقوق کے تحفظ اور خواتین کے خلاف تشدد کو روکنے کیلئے موجودہ حکومت پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوانین پر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ بحیثیت معاشرہ ہمیں اپنی سوچ بدلنی ہو گی اور عورت کو عزت و تحفظ دینا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو ہر قسم کے گھریلو سماجی تشدد سے نجات یقینی بنانے کےلئے ان کی وزارت، وزارت قانون کے ساتھ مل کر قانون سازی کر رہی ہے۔ علاوہ ازیں خواتین کے حقوق کی فراہمی، بچیوں، خواتین کے تحفظ، فرسودہ رسومات سے نجات دلانے، دیہی علاقوں میں نکاح اور بچوں کا اندراج ممکن بنانے سمیت ان کو وراثتی حقوق کی فراہمی کےلئے ہیلپ لائن کے قیام سمیت شعوری بیداری کے پروگرام چلائے جا رہے ہیں، وہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پر یقین رکھتی ہیں اور اس بات کا بھی بخوبی ادراک ہے کہ ہمارے یہاں قوانین موجود ہیں جن پر عملداری ضروری ہے۔ انہوں نے پناہ گزینوں کے ساتھ کام کرنے، پالیسیوں اور پروگراموں کو مطلع کرنے کے میدان میں لانے کےلئے سول سوسائٹی کی معاونت کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ اقتصادی خود مختاری کو یقینی بنانے کےلئے خواتین کی وراثت کے حقوق کی فراہمی پر زور دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے خواتین کے خلاف تشدد کی روک تھام کے سلسلہ میں انسانی حقوق کے تحت چلنے والی ہیلپ لائن کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہمیں خواتین کے خلاف تشدد کی روک تھام کےلئے اپنے نقطہ نظر کو دوبارہ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر قومی کمیشن برائے وقار نسواں کی چیئرپرسن خاور ممتاز اور چیئرمین نیشنل کمیشن آن سٹیٹس آف ویمن نے بھی خطاب کیا۔








