اسلام آباد۔11نومبر (اے پی پی):انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی ) کے زیر اہتمام چوتھے پاک-چین تھنک ٹینک فورم کا انعقاد کیا گیا ، یہ فورم چائنا انسٹیٹیوٹ آف کنٹیمپرری انٹرنیشنل ریلیشنز (سی آئی سی آئی آر ) کے تعاون سے منعقد کیا گیا۔ فورم کا موضوع ’’تبدیل ہوتے بین الاقوامی اور علاقائی منظرنامے میں سٹریٹجک اور عملی تعاون‘‘ تھا۔ اس موقع پر چین اور پاکستان …
انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز کے زیر اہتمام چوتھے پاک-چین تھنک ٹینک فورم کا انعقاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔11نومبر (اے پی پی):انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی ) کے زیر اہتمام چوتھے پاک-چین تھنک ٹینک فورم کا انعقاد کیا گیا ، یہ فورم چائنا انسٹیٹیوٹ آف کنٹیمپرری انٹرنیشنل ریلیشنز (سی آئی سی آئی آر ) کے تعاون سے منعقد کیا گیا۔ فورم کا موضوع ’’تبدیل ہوتے بین الاقوامی اور علاقائی منظرنامے میں سٹریٹجک اور عملی تعاون‘‘ تھا۔ اس موقع پر چین اور پاکستان کے ممتاز ماہرین، سفارتکاروں اور محققین نے شرکت کی۔
چینی وفد کی قیادت ڈاکٹر ہو شی شینگ نے کی۔افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس ایس آئی سفیر سہیل محمود نے کہا کہ یہ فورم پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت قائم جوائنٹ ورکنگ گروپ برائے بین الاقوامی تعاون کا ایک اہم ادارہ جاتی پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فورم عالمی و علاقائی تغیرات کا تجزیہ، چیلنجز کی نشاندہی اور پاک-چین شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے لئے پالیسی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سی پیک صرف ایک معاشی یا انفراسٹرکچر منصوبہ نہیں بلکہ سماجی و اقتصادی تبدیلی اور علاقائی روابط کا جامع فریم ورک ہے، فیز-II میں صنعتی ترقی، تکنیکی تعاون، سبز معیشت، زرعی جدیدیت، اور انسانی وسائل کی ترقی پر توجہ دی جائے گی۔سفیر سہیل محمود نے مزید کہا کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں جن میں جغرافیائی سیاسی مسابقت، معاشی عدم استحکام اور نئے سکیورٹی چیلنجز شامل ہیں، پاک-چین تعلقات استحکام، اعتماد اور لچک کا مظہر ہیں۔
انہوں نے 2026 میں پاک-چین سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ اور بالترتیب 2047 (پاکستان) اور 2049 (چین) کی صدی تقاریب کے تناظر میں مستقبل بین وژن اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔چینی وفد کے سربراہ ڈاکٹر ہو شی شینگ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاک-چین تعلقات عالمی تبدیلیوں کے باوجود مضبوط اور مستحکم ہیں۔ انہوں نے افغانستان کی صورتحال، یوکرین تنازع اور مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کے تناظر میں کہا کہ پاک-چین تعاون جنوبی ایشیا میں استحکام کا ضامن ہے۔
انہوں نے ’’پاکستان-چین کمیونٹی آف شیئرڈ فیوچر ایکشن پلان (2025–2029)‘‘ اور سی پیک فیز-II کو باہمی تعاون کے نئے سنگِ میل قرار دیا۔چینی سفارتخانے کے نائب سربراہ شی یوان چیانگ نے اپنے خطاب میں کہا کہ چین اور پاکستان کے تعلقات سیاسی اعتماد، معاشی تعاون، عوامی ترقی، سکیورٹی اور کثیرالجہتی ہم آہنگی پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تھنک ٹینکس اور ماہرین کی تحقیقاتی شراکت دونوں ممالک کے مشترکہ مستقبل کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری (ایشیاء پیسفک) سفیر عمران احمد صدیقی نے کہا کہ سی پیک فیز-II صنعتی ترقی، اختراع اور پائیدار ترقی کا محرک بن سکتا ہے جبکہ علاقائی روابط کو فروغ دے کر امن و خوشحالی کی راہ ہموار کرے گا۔ورکنگ سیشنز کی صدارت ڈاکٹر طلعت شبیر نے کی جن میں دونوں ممالک کے ماہرین نے تحقیقی مقالے پیش کئے۔ سفیر مسعود خالد نے کہا کہ عالمی منظرنامہ جغرافیائی تبدیلیوں اور تحفظ پسندی کے باعث نئے چیلنجز سے دوچار ہے تاہم ایشیا کی ابھرتی ہوئی حیثیت اور چین-روس ہم آہنگی نئے مواقع فراہم کر رہی ہے۔
سفیر معین الحق، ڈاکٹر وانگ شی دا، ڈاکٹر حسن دائود بٹ اور دیگر مقررین نے پاک-چین شراکت داری کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔اختتامی کلمات میں چیئرمین بورڈ آف گورنرز آئی ایس ایس آئی سفیر خالد محمودنے کہا کہ سی پیک فیز-II علاقائی معاشی انضمام، صنعتی جدیدیت اور پائیدار ترقی کے لئے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
فورم کے اختتام پر شرکاء نے پاک-چین دوستی، باہمی اعتماد اور سٹریٹجک شراکت داری کے عزم کو دہراتے ہوئے اس بات پر اتفاق کیا کہ یہ فورم دونوں ممالک کے درمیان پالیسی و فکری ہم آہنگی کے فروغ کے لئے ایک مؤثر پلیٹ فارم کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے گا۔گزشتہ سال تیسرا پاک-چین تھنک ٹینک فورم بیجنگ میں منعقد ہوا تھا جس کا موضوع “Decade of CPEC: Review and Outlook’’ تھا۔








