جکارتہ۔4فروری (اے پی پی):انڈونیشیا 2026 اکنامک سمٹ میں بی 57 پلس ایشیا پیسیفک ریجنل ہیڈ کوارٹر کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے جسے بی 57 پلس لیڈرز انیشی ایٹو میں اہم سنگ میل قرار دیا گیا ہے۔ اسلامک چیمبر آف کامرس اینڈ ڈویلپمنٹ (ICCD) کے زیراہتمام شروع کیا گیا یہ اقدام نجی شعبے کی قیادت میں ایک اہم اسٹریٹجک پروگرام ہے جس کا مقصد اسلامی ممالک کے درمیان اقتصادی …
انڈونیشیا 2026 اکنامک سمٹ میں بی 57 پلس ایشیا پیسیفک ریجنل ہیڈ کوارٹر کے قیام کا اعلان

مزید خبریں
جکارتہ۔4فروری (اے پی پی):انڈونیشیا 2026 اکنامک سمٹ میں بی 57 پلس ایشیا پیسیفک ریجنل ہیڈ کوارٹر کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے جسے بی 57 پلس لیڈرز انیشی ایٹو میں اہم سنگ میل قرار دیا گیا ہے۔ اسلامک چیمبر آف کامرس اینڈ ڈویلپمنٹ (ICCD) کے زیراہتمام شروع کیا گیا یہ اقدام نجی شعبے کی قیادت میں ایک اہم اسٹریٹجک پروگرام ہے جس کا مقصد اسلامی ممالک کے درمیان اقتصادی انضمام کو فروغ دینا اور عالمی معیشت کے ساتھ ان کا تعلق مضبوط کرنا ہے۔
سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسلامک چیمبر آف کامرس اینڈ ڈویلپمنٹ کے صدر اور سعودی چیمبرز کی فیڈریشن کے صدر عبداللہ صالح کامل نے اس موقع پر ایشیا پیسیفک کی نئی شاخ کی تزویراتی اہمیت کو اجاگر کیا ۔ انہوں نے اسے پہلکاری کو وسعت دینے اور اقتصادی شراکت داری کو کوآرڈینیشن فریم ورک سے براہ راست ترقیاتی اثرات کے ساتھ قابل عمل منصوبوں میں تبدیل کرنے کے سلسلہ میں ایک اہم قدم قرار دیا۔ عبداللہ صالح کامل نے وضاحت کی کہ بی 57 پلس اقدام اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے رکن ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری میں ایک دیرینہ فرق کو دور کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔
دوارب سے زیادہ آبادی اور وسیع قدرتی اور مالی وسائل کے باوجود، انٹرا او آئی سی تجارت اس وقت کل تجارت کا صرف 20تا 22 فیصد ہے۔ انہوں نے اس فرق کو ساختی چیلنجزبشمول متنوع ریگولیٹری فریم ورک، بکھرے ہوئے نجی شعبے کی نمائندگی اور پالیسی سازوں اور کاروباری برادریوں کے درمیان رابطے کے لیے محدود پائیدار چینلز سے منسوب کیا ۔بی 57 پلس پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے لیے ایک منظم اور پائیدار پلیٹ فارم قائم کرکے ان چیلنجوں پر قابو پانے کی کوشش ہے۔
عبداللہ صالح کامل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ اقدام حکومتی پالیسیوں اور عملی سرمایہ کاری اور نجی شعبے کی آپریشنل ضروریات کے درمیان ایک پل کا کام کر ے گا۔ یہ اقتصادی تعاون کے فریم ورک کو توسیع شدہ تجارت، سرحد پار سرمایہ کاری میں اضافہ، روزگار کی تخلیق اور مشترکہ خوشحالی جیسے ٹھوس نتائج میں تبدیل کرے گا ۔بی 57 پلس اقدام ایک جامع عالمی اقتصادی پلیٹ فارم ہے جو او آئی سی کے رکن ممالک سے آگے پھیلا ہوا ہے جس میں قابل ذکر مسلم آبادی والے ممالک، اسلامی مالیات اور تجارت کے بین الاقوامی مراکز اور اسلامی معاشیات کے اصولوں کے ساتھ منسلک عالمی اداروں کو شامل کیا گیا ہے۔
پلس "+” کی علامت اس جامع وژن کی عکاسی کرتی ہے جو ایک باہم مربوط اقتصادی نیٹ ورک کی تخلیق پر زور دیتا ہے جو قلیل مدتی مفادات اور جیو پولیٹیکل پولرائزیشن سے آگے بڑھتے ہوئے ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کے درمیان انضمام کو فروغ دیتا ہے۔انہوں نے نوٹ کیا کہ یہ اقدام اسلامی دنیا میں نجی شعبے کے کردار میں ایک قابلیت یعنی مواقع پر محض سرمایہ کاری سے فعال طور پر اثر کی تشکیل کے لیے منتقلی کی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے اور اس طرح عالمی ترقی کے ایک بڑے محرک کے طور پر اسلامی معیشت کی پوزیشن کو تقویت ملتی ہے۔
مستقبل کے حوالے سے بی 57 پلس سے مشترکہ اقتصادی پالیسیوں کو ہم آہنگ کرنے، سرحد پار سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور اقتصادی معاہدوں کو ٹھوس منصوبوں میں تبدیل کرنے کے لیے ایک عملی فریم ورک فراہم کرنے کی توقع ہے جس سے بالآخر عالمی اقتصادی نظام میں اسلامی معیشت کی موجودگی اور اثر و رسوخ کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔








