بیجنگ۔6مارچ (اے پی پی):چین کی اولمپک کینوئنگ چیمپئن اور نیشنل پیپلز کانگریس (این پی سی) کی رکن شو شیاؤ نے شہری علاقوں میں عوامی فٹنس کو فروغ دینے اور شہری جگہوں کے بہتر استعمال کے لیے چھوٹے یا پاکٹ سپورٹس پارکس قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔شنہوا کے مطابق انہوں نے یہ تجویز بیجنگ کے گریٹ ہال آف دی پیپل میں چین کی اعلیٰ قانون ساز اسمبلی اور سیاسی …
اولمپک چیمپئن شو شیاؤ کی شہروں میں پاکٹ سپورٹس پارکس کے قیام کی تجویز

مزید خبریں
بیجنگ۔6مارچ (اے پی پی):چین کی اولمپک کینوئنگ چیمپئن اور نیشنل پیپلز کانگریس (این پی سی) کی رکن شو شیاؤ نے شہری علاقوں میں عوامی فٹنس کو فروغ دینے اور شہری جگہوں کے بہتر استعمال کے لیے چھوٹے یا پاکٹ سپورٹس پارکس قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔شنہوا کے مطابق انہوں نے یہ تجویز بیجنگ کے گریٹ ہال آف دی پیپل میں چین کی اعلیٰ قانون ساز اسمبلی اور سیاسی مشاورتی ادارے کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر خصوصی انٹرویو کے دوران پیش کی۔
ان اجلاسوں کو مجموعی طور پر ٹو سیشنز کہا جاتا ہے، جہاں شو شیاؤ نے ایک کھلاڑی اور قانون ساز کی حیثیت سے اپنے تجربات بھی شیئر کیے۔جیانگ شی صوبے کے ایک دیہی خاندان میں پیدا ہونے والی شو شیاؤ بچپن میں کھیتوں میں کام کرتی تھیں جس سے ان کی جسمانی طاقت میں اضافہ ہوا۔ 13 سال کی عمر میں ایک کوچ نے انہیں منتخب کیا اور انہوں نے کینوئنگ کی تربیت شروع کی۔ 14 سال کی عمر میں وہ پروفیشنل ٹیم میں شامل ہوئیں اور 15 سال کی عمر میں اپنا پہلا قومی ٹائٹل جیتا۔خواتین کی کینوئنگ 2013 میں اولمپکس کا حصہ نہ ہونے کے باعث انہوں نے اسی سال کھیل سے ریٹائرمنٹ لے کر جیانگ شی کی ایک کمپنی میں ملازمت اختیار کر لی۔
بعد ازاں 2017 میں خواتین کی کینوئنگ کو ٹوکیو اولمپکس کے پروگرام میں شامل کیا گیا تو ان کے کوچ نے واپسی کے لیے رابطہ کیا۔شو شیاؤ کے مطابق 4 سال بعد دوبارہ ٹریننگ شروع کرنا آسان نہیں تھا کیونکہ 25 سال کی عمر میں انہیں عمر، فٹنس میں کمی اور پرانی انجریز جیسے چیلنجز کا سامنا تھا۔ تاہم انہوں نے دوبارہ سخت محنت شروع کی۔انہوں نے بتایا کہ نیشنل گیمز سے قبل وہ روزانہ 4مرتبہ ٹریننگ کرتی تھیں جبکہ کشتی میں گھٹنوں کے بل بیٹھنے کی وجہ سے گھٹنوں میں سوجن ہو جاتی تھی ۔
شدید تھکن کے باعث بعض اوقات ان کی نظر بھی دھندلا جاتی تھی مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ستمبر 2017 میں انہوں نے 13ویں نیشنل گیمز میں 2 طلائی تمغے جیتے اور اسی سال قومی ٹیم میں جگہ بنا لی۔انہوں نے کہا کہ جب بھی ہم مقابلہ کرتے ہیں تو ہمارا ہدف اول پوزیشن حاصل کرنا ہوتا ہے، یہی ہماری رفتار اور چین کی رفتار ہے۔2019 میں سن مینگ یا کے ساتھ جوڑی بنانے کے بعد دونوں کھلاڑی بڑی بین الاقوامی مقابلوں میں ناقابل شکست رہی ہیں۔
انہوں نے ٹوکیو اور پیرس اولمپکس میں خواتین کی ڈبل 500 میٹر کینو اسپرنٹ میں طلائی تمغہ جیتنے کے ساتھ نئے اولمپک ریکارڈ بھی قائم کیے۔شو شیاؤ کا کہنا تھا کہ چین میں کھیلوں کی ترقی اور حکومتی تعاون نے کھلاڑیوں کو اپنے اہداف حاصل کرنے میں مدد دی ہے اور پیرس اولمپکس میں بیرون ملک چین کی بہترین کارکردگی اس کی مثال ہے۔انہوں نے کہا کہ اولمپک چیمپئن اور این پی سی رکن کے طور پر وہ اپنے فرائض کو عملی انداز میں دیکھتی ہیں، یعنی ملک کے لیے مقابلہ کرنا اور عوام کی آرا سن کر ان کے مسائل اجاگر کرنا۔
انہوں نے اس سال پیش کردہ اپنی تجویز میں کہا کہ شہروں میں غیر استعمال شدہ یا چھوٹی جگہوں کو فعال بنا کر پاکٹ سپورٹس پارکس قائم کیے جائیں تاکہ محلوں اور گلیوں میں رہنے والے افراد کے لیے ورزش کی سہولت میسر ہو سکے۔ان کے مطابق یہ تجویز عوامی سطح پر کھیلوں کے بڑھتے رجحان کے مشاہدے کے بعد سامنے آئی۔
گزشتہ سال نیشنل گیمز کی تیاری کے دوران انہوں نے جیانگ شی سٹی فٹبال سپر لیگ کے ویڈیوز دیکھے جس میں عام افراد نے حصہ لیا۔113 دنوں میں کھیلے گئے 66 میچز کو 1.23ملین سے زائد افراد نے سٹیڈیم میں دیکھا جبکہ آن لائن ناظرین کی تعداد ڈیڑھ ارب سے تجاوز کر گئی۔شو شیاؤ کا کہنا تھا کہ عوامی سطح پر کھیلوں کا فروغ حقیقی شوق اور عام لوگوں کی شرکت کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ بطور رکن عوام میں ورزش اور کھیلوں میں شرکت کو مزید فروغ دیں گی۔انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگ کھیلوں سے محبت کریں اور ورزش کے ذریعے صحت اور خوشی حاصل کریں۔








