او آئی سی-ڈبلیو ڈی او کانفرنس میں پاکستان کی جانب سے خواتین کے معاشی بااختیار بنانے کے لیے تعلیم اور ٹی وی ای ٹی اصلاحات پر روشنی

قاہرہ۔3فروری (اے پی پی):حکومت پاکستان نے خواتین کے معاشی بااختیار بنانے کے لیے مربوط تعلیمی، فنی و پیشہ ورانہ تربیت (TVET) اور لیبر مارکیٹ اصلاحات کے ذریعے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ یہ اظہار او آئی سی ویمن ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (OIC-WDO) کی کانفرنس بعنوان ’’او آئی سی رکن ممالک میں خواتین کے حقوق کے فروغ اور تحفظ پر مذہبی و میڈیا بیانیے کے اثرات‘‘ کے دوران کیا گیا جو 1 …

قاہرہ۔3فروری (اے پی پی):حکومت پاکستان نے خواتین کے معاشی بااختیار بنانے کے لیے مربوط تعلیمی، فنی و پیشہ ورانہ تربیت (TVET) اور لیبر مارکیٹ اصلاحات کے ذریعے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ یہ اظہار او آئی سی ویمن ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (OIC-WDO) کی کانفرنس بعنوان ’’او آئی سی رکن ممالک میں خواتین کے حقوق کے فروغ اور تحفظ پر مذہبی و میڈیا بیانیے کے اثرات‘‘ کے دوران کیا گیا جو 1 تا 2 فروری 2026 ءکو مرکز الازہر الشریف، قاہرہ میں صدر جمہوریہ عرب مصر عبدالفتاح السیسی کی سرپرستی میں منعقد ہوئی۔

منگل کو وزارت انسانی حقوق سے جاری پریس ریلیز کے مطابق حکومت پاکستان کے سرکاری وفد کی قیادت وجیہہ قمر، وزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت نے کی جبکہ مہرین گل نے وزارت انسانی حقوق کی نمائندگی کی۔ وفد نے اس امر پر زور دیا کہ خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت میں اضافہ نہ صرف ایک سماجی ترجیح ہے بلکہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے بھی ایک کلیدی محرک ہے، بالخصوص ان ممالک کے لیے جو آبادیاتی اور معاشی دبائو کا سامنا کر رہے ہیں۔

وفد نے پاکستان کی جاری اصلاحاتی و ترقیاتی اقدامات پر روشنی ڈالی جن میں خواتین کی کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کی پالیسیاں، لیبر قوانین میں اصلاحات، ڈیجیٹل مہارتوں کی ترقی کے پروگرام، خواتین دوست کام کی جگہوں کا قیام اور سماجی تحفظ کے اقدامات شامل ہیں جن کا مقصد خواتین کی ملازمت اور معاشی شمولیت میں حائل ساختی رکاوٹوں کا خاتمہ ہے۔

تعلیم اور ٹی وی ای ٹی کے تناظر میں پاکستان نے ابھرتے ہوئے معاشی شعبوں سے ہم آہنگ طلب پر مبنی مہارتوں کی فراہمی کی اہمیت پر زور دیا، نیز خواتین کی تربیت اور رسمی ملازمت میں برقرار رہنے کے لیے نگہداشت سے متعلق معاون بنیادی ڈھانچے کی فراہمی کو بھی ناگزیر قرار دیا۔ وفد نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مالی شمولیت کو تصدیق شدہ مہارتوں، کاروباری معاونت اور ڈیجیٹل خواندگی کے ساتھ مربوط کیا جائے تاکہ خواتین کو پیداواری اور پائیدار ذریعہ معاش کی جانب منتقل ہونے میں مدد مل سکے۔

اپنے اختتامی کلمات میں وفد نے اس امر پر زور دیا کہ تعلیم، مہارتوں کی ترقی، نگہداشت کے نظام، مالی شمولیت اور مضبوط قانونی تحفظات پر مشتمل ایک مربوط حکمت عملی خواتین کی معاشی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے ناگزیر ہے۔ پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایسی جامع پالیسیاں او آئی سی رکن ممالک کے لیے جامع اور پائیدار ترقی کے حصول کا ایک موثر ترین ذریعہ ہیں۔

ویمن ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (WDO) کے رکن ملک کی حیثیت سے، پاکستان نے ڈبلیو ڈی او کے مینڈیٹ سے اپنی مکمل وابستگی کا اعادہ کیا۔ وزارتِ انسانی حقوق جو پاکستان میں ڈبلیو ڈی او کے لیے لیڈ وزارت ہے، او آئی سی رکن ممالک میں خواتین کے حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لیے قومی و بین الاقوامی تعاون کو آگے بڑھانے میں مرکزی کردار ادا کرتی رہے گی۔

مزید خبریں