اسلام آباد۔5مارچ (اے پی پی):اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے اہم اداروں نے رکن ممالک کو موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات سے نمٹنے کیلئے سائنسی تعاون، علم کے تبادلے اور موثر پالیسی سازی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ یہ بات جمعرات کو ’’بدلتے ہوئے موسمی حالات میں لچک پیدا کرنے کی حکمت عملیاں‘‘ کے عنوان سے منعقدہ ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ …
او آئی سی کے اہم اداروں کا سائنسی تعاون، علم کے تبادلے اور موثر پالیسی سازی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور

مزید خبریں
اسلام آباد۔5مارچ (اے پی پی):اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے اہم اداروں نے رکن ممالک کو موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات سے نمٹنے کیلئے سائنسی تعاون، علم کے تبادلے اور موثر پالیسی سازی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ یہ بات جمعرات کو ’’بدلتے ہوئے موسمی حالات میں لچک پیدا کرنے کی حکمت عملیاں‘‘ کے عنوان سے منعقدہ ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس ویبینار کا مشترکہ انعقاد او آئی سی کے اداروں اسٹیٹسٹیکل، اکنامک اینڈ سوشل ریسرچ اینڈ ٹریننگ سینٹر فار اسلامک کنٹریز (سیسرک)، او آئی سی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے سائنسی و تکنیکی تعاون (کامسٹیک)، اسلامی ترقیاتی بینک (آئی ایس ڈی بی) اور اسلامک ورلڈ ایجوکیشنل، سائنٹیفک اینڈ کلچرل آرگنائزیشن (آئیسسکو) نے کیا۔ویبینار میں او آئی سی کے رکن ممالک سے تعلق رکھنے والے پالیسی سازوں، محققین اور ترقیاتی ماہرین نے شرکت کی اور موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں پائیدار ترقی کو فروغ دینے اور ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال کیا۔
کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر ایم اقبال چوہدری کی جانب سے افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے کامسٹیک کے مشیر پروفیسر ڈاکٹر مدثر اسرار نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے حوالے سے زیادہ غیر محفوظ ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ خوراک کی فراہمی، عوامی صحت، آبی وسائل اور اقتصادی استحکام جیسے اہم شعبوں کے لیے بھی بڑا چیلنج بن چکی ہے، خاص طور پر او آئی سی کے کئی رکن ممالک میں اس کے اثرات نمایاں ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر مدثر اسرار نے اس بات پر زور دیا کہ او آئی سی کے اداروں کے درمیان سائنسی تعاون، علم کے تبادلے اور استعداد کار میں اضافے کے ذریعے موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے جدید اور پائیدار حل تلاش کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تحقیقی اداروں، حکومتوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے درمیان مضبوط شراکت داری ناگزیر ہے تاکہ ٹیکنالوجی کی منتقلی، موسمیاتی موافق پالیسیوں اور جامع ترقیاتی حکمت عملیوں کو فروغ دیا جا سکے۔ ویبینار کے دوران ماہرین نے موسمیاتی تبدیلی کے مطابق ڈھلنے اور اس کے اثرات کو کم کرنے کے حوالے سے تجربات اور بہترین طریقہ کار بھی شیئر کیے۔ شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ او آئی سی کے ادارے باہمی تعاون کو فروغ دیتے ہوئے رکن ممالک کو زیادہ مضبوط، پائیدار اور موسمیاتی تبدیلی کے مطابق معاشروں کی تشکیل میں مدد فراہم کریں گے۔








