اٹارنی جنرل آف پاکستان اشتر اوصاف علی کی اے پی پی سے خصوصی گفتگو

اسلام آباد ۔ 4 نومبر (اے پی پی) اٹارنی جنرل آف پاکستان اشتر اوصاف علی نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے جائزہ کمیشن نے پاکستان میں انسانی حقوق کیلئے قانون سازی میں پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ جمعہ کو ”اے پی پی“ کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اٹارنی جنرل آف پاکستان نے کہا کہ پاکستان انسانی حقوق کے حوالہ سے 27 کنونشنز اور معاہدوں کا دستخطی …

اسلام آباد ۔ 4 نومبر (اے پی پی) اٹارنی جنرل آف پاکستان اشتر اوصاف علی نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے جائزہ کمیشن نے پاکستان میں انسانی حقوق کیلئے قانون سازی میں پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ جمعہ کو ”اے پی پی“ کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اٹارنی جنرل آف پاکستان نے کہا کہ پاکستان انسانی حقوق کے حوالہ سے 27 کنونشنز اور معاہدوں کا دستخطی ہے اور تمام کنونشنز پر عملدرآمد کیلئے بھرپور طریقہ سے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے جائزہ مشن کا دورہ پاکستان معاہدوں پر پیشرفت کی سالانہ نگرانی اور جائزہ کا سلسلہ ہے اور جائزہ مشن نے پاکستان میں انسانی حقوق کے حوالہ سے قانون سازی پر پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقوق اطفال، ماحولیاتی تحفظ اور لیبر قوانین پر عملدرآمد کی ذمہ داریاں پاکستان پورا کرنے کیلئے ہر ممکن وسائل بروئے کار لا رہا ہے اور یورپی مشن کی مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں سے ملاقاتیں حوصلہ افزاءرہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کبھی بھی اتنے متحرک نہیں رہے جتنے آج ہیں۔ اٹارنی جنرل آف پاکستان نے کہا کہ ان تعلقات میں سب سے اہم پاکستان کا جی ایس پی پلس کا سٹیٹس ہے جو مختلف شعبوں میں تسلی بخش اشارے ملنے کے بعد پاکستان کو دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین ممالک کے ساتھ پاکستان کے تجارتی تعلقات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ سزائے موت کے قانون پر بات چیت کرتے ہوئے اٹارنی جنرل آف پاکستان نے کہا کہ انہوں نے مشن کو آگاہ کیا ہے کہ یورپی یونین دیگر بہت سے ممالک کے ساتھ منسلک ہے جہاں سزائے موت پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین بھارت، امریکہ وغیرہ جیسے ممالک کے ساتھ تجارت کر رہی ہے جہاں سزائے موت دی جاتی ہے۔ انہوں نے آگاہ کیا کہ وہ پاکستان میں اس حوالہ سے وفد کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

Leave a Reply