اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی کی ”اے پی پی“ سے بات چیت

وزیراعظم کی عدم موجودگی میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر کا خطاب بھی ہوسکتا ہے اور بجٹ بھی پیش کیا جاسکتا ہے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی کی ”اے پی پی“ سے بات چیت اسلام آباد ۔ 30 مئی (اے پی پی) اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی ملک میں عدم موجودگی میں قائم مقام وزیراعظم کی ضرورت ہوتی ہے نہ ہی آئین میں …

وزیراعظم کی عدم موجودگی میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر کا خطاب بھی ہوسکتا ہے اور بجٹ بھی پیش کیا جاسکتا ہے
اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی کی ”اے پی پی“ سے بات چیت
اسلام آباد ۔ 30 مئی (اے پی پی) اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی ملک میں عدم موجودگی میں قائم مقام وزیراعظم کی ضرورت ہوتی ہے نہ ہی آئین میں نائب وزیراعظم کا کوئی تصور موجود ہے‘ رولز آف بزنس 1973 کی شق 50 اور شق 97 میں وزیراعظم کے فنکشنز کے بارے میں تفصیلات موجود ہیں کہ وزیراعظم کا عہدہ جو ایک ہمہ گیر ادارے کا نام ہے کیسے چلایا جاسکتا ہے۔ پیر کو ”اے پی پی“ سے بات چیت کرتے ہوئے اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیراعظم کی عدم موجودگی میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر کا خطاب بھی ہوسکتا ہے اور بجٹ بھی پیش کیا جاسکتا ہے تاہم مجوزہ بجٹ پر وزیراعظم کے دستخط موجود ہونا ضروری ہیں اور اس سلسلے میں ضروری دستاویزات وزیراعظم کو برطانیہ میں ارسال کردی گئی ہیں جو وزیراعظم کے دستخط کے بعد ایک دو دن میں واپس موصول ہو جائیں گے۔

Leave a Reply