اسلام آباد۔5دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ اپوزیشن نے حکومت پر دبائو ڈالنے کیلئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کئے لیکن یہ لوگ ناکام رہے، پاکستان عام حالات میں نہیں ہے، کورونا نہ ہوتا تو ہمیں ان کے جلسوں کی کوئی پرواہ نہ ہوتی لیکن حکومت کیلئے عوام کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے،11 جماعتوں کا جتھا مذموم سیاسی …
اپوزیشن جماعتوں کے قائدین پر بدعنوانی کے سنگین الزامات ہیں، اگر یہ اس کی بنیاد پر استعفے دینا چاہتے ہیں تو بھلے دیں ، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز کی نجی ٹی وی سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد۔5دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ اپوزیشن نے حکومت پر دبائو ڈالنے کیلئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کئے لیکن یہ لوگ ناکام رہے، پاکستان عام حالات میں نہیں ہے، کورونا نہ ہوتا تو ہمیں ان کے جلسوں کی کوئی پرواہ نہ ہوتی لیکن حکومت کیلئے عوام کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے،11 جماعتوں کا جتھا مذموم سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے عوام کی صحت اور ملکی معیشت کو خطرے میں ڈال رہا ہے، تحریک انصاف حکومت ملک سے لوٹ مار کے دور کو ختم کر رہی ہے اور دوسری جانب پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) جماعتیں لوٹ کھسوٹ کے دور کو واپس لانا چاہتی ہیں لیکن اب ایسا نہیں ہو گا، اپوزیشن جماعتوں کے قائدین پر بدعنوانی کے سنگین الزامات ہیں، اگر یہ اس کی بنیاد پر استعفے دینا چاہتے ہیں تو بھلے دیں ہم دوبارہ انتخابات کرائیں گے، عوام نے 2018ءمیں تحریک انصاف کے حق میں اپنا فیصلہ سنایا تھا اسلئے ہم انتخابات سے خوفزدہ نہیں ہیں، اگر دوبارہ انتخابات ہوئے تو تحریک انصاف زیادہ سیٹوں کے ساتھ اقتدار میں آئے گی۔ ہفتہ کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ برس اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب میں مسئلہ کشمیر اور اسلامو فوبیا کے حوالے سے جو مومینٹم بنایا ہوا تھا جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دھرنا دے کر اسے سبوتاژ کیا اور پھر بغیر کسی نتیجہ کے بھاگ گئے، ان کے دھرنے سے حکومت کی کارکردگی میں کوئی کمی نہیں آئی، جلسے جلوس اور دھرنا تحریک انصاف سے بہتر کوئی نہیں جانتا، تحریک انصاف سے بڑے جلسے کسی نے نہیں کئے، عوامی مینڈیٹ تحریک انصاف کی سب سے بڑی اخلاقی قوت ہے جو ہمیں کمزور ہونے دیتی ہے اور نہ ہی شک و شبہات میں مبتلا ہونے دیتی ہے، وزیراعظم عمران خان مختلف قسم کے لیڈر ہیں اور عوام پوری طاقت کے ساتھ ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ شبلی فراز نے کہا کہ تحریک انصاف بھرپور جوش و جذبے اور پختہ عزم کے ساتھ ملک کو ترقی کے سفر پر گامزن ہے، گورننس کی بہتری اور اداروں کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے، اپوزیشن جماعتیں اگر یہ سمجھتی ہیں کہ وہ جلسے کر کے حکومت گرا لیں گی تو یہ ان کی غلط فہمی ہے، اپوزیشن کے پاس جلسے کرنے کا اخلاقی جواز ہے اور نہ ہی عوامی طاقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف سیاسی جماعت ہے ، حکومت نے پہلے بھی اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کرنے کی کوشش کی اور آگے بھی ہم کرتے رہیں گے لیکن ہمارا واسطہ ایسے لوگوں سے پڑا ہے جو جہالت اور خودغرضی کی بنیاد پر لوگوں کی جانوں اور معیشت کو نقصان پہنچانے کا ماحول پیدا کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے کورونا کی پہلی لہر کو کامیابی کے ساتھ ہینڈل کیا، ہمارے پاس اب تجربہ بھی ہے اور ہم زیادہ اچھے طریقے سے اس کا مقابلہ کر سکتے ہیں لیکن اپوزیشن عوام دشمنی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، یہ لوگ ذاتی مفادات کو تحفظ دینے اور مذموم سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے عوام کو اجتماعی خودکشی کی طرف راغب کر رہے ہیں لیکن انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن میں اتنی جرات نہیں کہ یہ استعفے دیں، اگر یہ مستعفی ہو جاتے ہیں تو حکومت دوبارہ انتخابات کرائے گی، عوام طے کریں گے کہ وہ اسٹیس کو یا لوٹ مار کرنے والوں کو واپس لانا چاہتے ہیں یا تحریک انصاف کے حق میں فیصلہ سناتے ہیں، ہمیں اس بات میں کوئی شک نہیں کہ تحریک انصاف کو 2018ءسے بڑھ کر سیٹیں ملیں گی۔ شبلی فراز نے کہا کہ تحریک انصاف کے 2014ءکے دھرنے کا اپوزیشن کے موجودہ جلسوں کے ساتھ موازنہ درست نہیں، ہم ایک کاز کیلئے کھڑے تھے جبکہ دوسری جانب یہ لوگ ذاتی مفادات کیلئے اس وقت بھی ساتھ تھے اور آج بھی اکٹھے ہیں، ان لوگوں نے لوٹ مار کر کے ملک کا استحصال کیا اور آئین کا مذاق اڑایا، ان لوگوں کو اقتدار سے باہر جانے کے بعد سب یاد آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن منافقانہ سیاست کر رہی ہے، شاہد خاقان عباسی جو آج بڑی بڑی تقریریں کر رہے ہیں، اپنے آبائی حلقے میں انہیں شکست ہوئی تو وہ انتخابات غلط تھے جبکہ لاہور میں دوبارہ انتخابات جیتے تو وہ ٹھیک تھے، اسپیکر قومی اسمبلی نے کورونا کے حوالے سے اجلاس بلایا اپوزیشن نے بائیکاٹ کیا







