اپیل کے ساتھ تمام متعلقہ دستاویزات لگانا بنیادی قانونی تقاضا ہے، وفاقی آئینی عدالت

وفاقی آئینی عدالت نے کہا ہے کہ اپیل کے ساتھ تمام متعلقہ دستاویزات لگانا بنیادی قانونی تقاضا ہے، عدالت میں کیسز کی سماعت کے دوران التوا کی درخواستوں پر وکلا کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ عدالت نے سابق سیکرٹری سپریم کورٹ بار سلمان منصور کی طرف سے مہلت کی درخواست پر ریمارکس دیئے

اسلام آباد۔11مئی (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے کہا ہے کہ اپیل کے ساتھ تمام متعلقہ دستاویزات لگانا بنیادی قانونی تقاضا ہے، عدالت میں کیسز کی سماعت کے دوران التوا کی درخواستوں پر وکلا کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ عدالت نے سابق سیکرٹری سپریم کورٹ بار سلمان منصور کی طرف سے مہلت کی درخواست پر ریمارکس دیئے کہ مقدمات کو بلاجواز طول دیا جا رہا ہے۔سماعت کے دوران سلمان منصور نے موقف اختیار کیا کہ وہ انکوائری رپورٹ اپیل کے ساتھ جمع کرانا چاہتے ہیں اور اس کے لیے مہلت دی جائے جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ انکوائری رپورٹ اپیل کے ساتھ پہلے ہی کیوں جمع نہیں کرائی گئی؟

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ کسی دوسرے ملک میں ایسا کرتے تو آپ پر بھاری جرمانہ عائد ہوتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدالت کے اندر التوا کی درخواستیں دی جاتی ہیں جبکہ باہر جا کر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ججز کام نہیں کرتے۔عدالت نے قرار دیا کہ تمام متعلقہ دستاویزات اپیل کے ساتھ لگانا بنیادی قانونی تقاضا تھا جو پورا نہیں کیا گیا۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ مقدمات ملتوی ہونے کی 90 فیصد وجوہ وکلا خود ہوتے ہیں۔سماعت کے دوران عدالت نے مزید ریمارکس دیئے کہ ججز رات دیر تک فائلیں پڑھتے ہیں لیکن صبح عدالت میں آ کر التوا کی درخواستیں دائر کر دی جاتی ہیں۔واضح رہے کہ سلمان منصور غیرقانونی بھرتیوں کے الزام میں برطرفی کے کیس میں عدالت میں پیش ہوئے تھے۔

مزید خبریں