وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کے تعلیمی اداروں کو صرف تدریسی مراکز نہیں بلکہ تحقیق، جدت اور قومی ترقی کے مراکز بنانا ہوگا۔ مصنوعی ذہانت مستقبل میں طب اور دندان سازی کے شعبوں میں بنیادی کردار ادا کرے گی
مصنوعی ذہانت مستقبل میں طب اور دندان سازی کے شعبوں میں بنیادی کردار ادا کرے گی،پروفیسر احسن اقبال
اسلام آباد۔7اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کے تعلیمی اداروں کو صرف تدریسی مراکز نہیں بلکہ تحقیق، جدت اور قومی ترقی کے مراکز بنانا ہوگا۔ مصنوعی ذہانت مستقبل میں طب اور دندان سازی کے شعبوں میں بنیادی کردار ادا کرے گی جبکہ یونیورسٹیوں کی تحقیق کا براہِ راست تعلق ملک کی معاشی و سماجی ترقی سے ہونا چاہیے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے زیر اہتمام پہلی بین الاقوامی ڈینٹل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وائس چانسلر نے اپنے خطاب میں وفاقی وزیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی وزیر احسن اقبال نے زیبمبو میڈیکل یونیورسٹی بلاک کے منصوبے کی منظوری دی، جس پر جامعہ ان کی انتہائی شکر گزار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ دندان سازی کے شعبے میں پی ایچ ڈی کے نو نئے پروگرام شروع کیے جا رہے ہیں، جس کا سہرا بھی احسن اقبال کی سرپرستی اور تعاون کو جاتا ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ ان کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ انہیں اس اہم منصوبے کی منظوری اور سنگِ بنیاد رکھنے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ وائس چانسلر نے اس منصوبے کی منظوری کے لیے مسلسل محنت اور پیروی کی جبکہ حکومت کا مقصد دندان سازی کے اس ادارے کو ملک کے دیگر صوبوں کے لیے ایک جدید، معیاری اور مثالی ادارہ بنانا تھا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو علم پر مبنی معیشت بنانے کے لیے ضروری ہے کہ جامعات تحقیق کو قومی ضروریات سے ہم آہنگ کریں۔ ہمیں ایسی تحقیق کی ضرورت ہے جو عوام کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائے اور ملکی ترقی میں عملی کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی بڑی جامعات بھی اپنے طبی شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر کام کر رہی ہیں اور پاکستان کو بھی اس سمت میں تیزی سے آگے بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ انسانی صحت کا براہِ راست تعلق منہ کی صحت سے ہے اور ہمارے دینِ اسلام میں بھی نبی کریم ﷺ نے مسواک کی اہمیت اجاگر کرکے منہ کی صحت کی طرف رہنمائی فرمائی ہے۔ انہوں نے ڈینٹل ماہرین کو ہدایت کی کہ وہ قومی سطح پر منہ کی صحت سے متعلق پالیسی کا مسودہ فوری تیار کریں، حکومت اسے موصول ہوتے ہی اس پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔ احسن اقبال نے کہا کہ آج سے ایک سال قبل پاکستان نے معرکۂ حق میں دشمن کو دندان شکن جواب دیا تھا، اب وقت آ گیا ہے کہ معاشی اور ترقیاتی معرکے میں کامیابی حاصل کرکے بھی دنیا کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن اب روایتی جنگ کے بجائے بدامنی کے ذریعے پاکستان کی ترقی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2022 میں جب موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تو پاکستان ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑا تھا۔ 2018 سے 2022 کے دوران قومی معیشت کو ایسی پالیسیاں دی گئیں جن سے معیشت کے ’’دانت خراب‘‘ ہوگئے تاہم 2022 سے 2026 تک حکومت نے معیشت کا بہترین ’’روٹ کینال‘‘ کرکے اسے دوبارہ مستحکم اور مسکرانے کے قابل بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معاشی بحالی دشمن کو برداشت نہیں ہو رہی، اس لیے بدامنی کے ذریعے ترقی کے سفر میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اب قوم کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ مضبوط اور مستحکم معیشت کے ساتھ باوقار انداز میں دنیا کے سامنے کھڑی ہونا چاہتی ہے یا دوبارہ معاشی مشکلات کی طرف جانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اڑان پاکستان کے تحت 2035 تک پاکستان کو ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کے ہدف کے حصول کے لیے ہر شہری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے تمام ڈینٹل اداروں پر زور دیا کہ وہ رضاکارانہ طور پر سرکاری اسکولوں میں منہ کی صحت سے متعلق آگاہی مہمات چلائیں کیونکہ بچوں میں منہ کی صحت کا شعور پیدا کرنا قومی ذمہ داری ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی تقریباً 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو ملک کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل کے تمام ڈینٹسٹ قوم کی خدمت کو اپنا مشن بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم کاکروچ نہیں بلکہ علامہ اقبال کے شاہین ہیں اور یہی شاہین اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے پاکستان کو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں نمایاں مقام دلائیں گے۔









