مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کا پاکستان کی معاشی بحالی، اصلاحات اور سرمایہ کاری کے روشن امکانات پر زور

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد نے کہا ہے کہ پاکستان نے معاشی استحکام کے مرحلے سے آگے بڑھتے ہوئے پائیدار، نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کی جانب سفر شروع کر دیا ہے

کراچی ۔7اگست (اے پی پی):مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد نے کہا ہے کہ پاکستان نے معاشی استحکام کے مرحلے سے آگے بڑھتے ہوئے پائیدار، نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کی جانب سفر شروع کر دیا ہے، جس کی بنیاد ساختی اصلاحات، سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور مضبوط ہوتے معاشی اشاریے ہیں۔وہ کراچی میں انسٹیٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (آئی سی ایم اے پاکستان) کے زیر اہتمام منعقدہ فیوچر آف فنانس سمٹ 2026 سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ خرم شہزاد نے کہا کہ گزشتہ دو سے تین برسوں کے دوران پاکستان کی معیشت شدید مالی دباؤ اور بیرونی خطرات سے نکل کر معاشی استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملکی شرح نمو 3.7 فیصد تک پہنچ چکی ہے، زرعی شعبے میں 2.89 فیصد جبکہ بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار (ایل ایس ایم) میں 6.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ تقریباً چار برسوں کی بہترین کارکردگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالیاتی نظم و ضبط کے باعث مالی سال 2026 کے پہلے نو ماہ کے دوران مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے ایک فیصد سے بھی کم رہا جبکہ قرضوں کا حجم جی ڈی پی کے تناسب سے تقریباً 75 فیصد سے کم ہو کر 68 فیصد رہ گیا۔ اسی طرح کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2022 کے تقریباً 17.5 ارب ڈالر سے کم ہو کر 140 ملین ڈالر سے بھی نیچے آ گیا، جبکہ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 2023 کے آغاز میں تقریباً 3 ارب ڈالر سے بڑھ کر 18 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز کی جانب سے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کو B اور اسٹیبل آؤٹ لک تک بہتر بنانا عالمی سطح پر پاکستان کی معاشی سمت پر اعتماد کا اظہار ہے، جو تقریباً نو برس بعد اس ادارے کی جانب سے پاکستان کی بہترین ریٹنگ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نجکاری، سرکاری اداروں کی اصلاحات، توانائی، ٹیکس، ٹیرف، قرضہ جات کے انتظام، پنشن، رائٹ سائزنگ، ڈیجیٹلائزیشن اور مالیاتی سہولیات تک رسائی سمیت مختلف شعبوں میں اصلاحات تیزی سے جاری ہیں۔ ان اصلاحات کے نتیجے میں نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں تقریباً 15 فیصد اضافہ، دو دہائیوں میں سب سے زیادہ 11 آئی پی اوز، مالی سال 2026 کے دوران 43 ہزار سے زائد نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں، خصوصاً نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی شرکت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ خرم شہزاد نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کے دائرہ کار میں توسیع کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان کی علاقائی شراکت داری مزید مضبوط ہوگی۔ انہوں نے فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کی نجکاری میں پاکستان، ترکیہ اور چین سمیت 12 ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی کو بھی پاکستان کی سرمایہ کاری اور نجکاری پالیسی پر اعتماد کا مظہر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2027 کا بجٹ صنعت، کاروبار، برآمدات، ایس ایم ایز اور زراعت جیسے پیداواری شعبوں کی معاونت کے لیے اہم پالیسی تبدیلیوں کا عکاس ہے، جن کا مقصد کاروباری لاگت میں کمی، مالیاتی سہولیات تک رسائی، مسابقت میں اضافہ اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کو فروغ دینا ہے۔ خرم شہزاد نے کہا کہ 2023 سے 2025 کے دوران 79 غیر ملکی کمپنیوں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی، جبکہ صرف 19 کمپنیوں نے انخلا کیا، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کی واضح علامت ہے۔ انہوں نے صکوک کی بہتر کارکردگی اور سرمایہ کاری کے ایک پرکشش ذریعہ بننے کے ساتھ ساتھ نوجوان سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کو بھی خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مسابقت بڑھانے اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پالیسی کا واضح اور قابلِ اعتماد فریم ورک فراہم کرنے کے لیے جامع صنعتی پالیسی اور درمیانی مدت کی ٹیکس پالیسی تیار کر رہی ہے۔خرم شہزاد نے کہا کہ پاکستان کی معاشی سمت اب واضح ہے، جس میں معاشی استحکام بنیاد، ساختی اصلاحات محرک اور نجی شعبہ پائیدار ترقی کا اصل انجن ہے۔ انہوں نے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اصلاحات کے عمل کو مزید تیز، ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ اور برآمدات پر مبنی، نجی شعبے کی قیادت میں پائیدار معاشی ترقی کو یقینی بنایا جائے گا۔ سمٹ میں پالیسی سازوں، مالیاتی ماہرین، کاروباری شخصیات، سرمایہ کاروں، پیشہ ور افراد اور مالیاتی شعبے سے تعلق رکھنے والے اسٹیک ہولڈرز نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔