پاکستان کے فاسٹ بولر حارث رئوف نے کہا ہے کہ موجودہ دور کی کرکٹ میں بڑے اسکور بننے کے باعث بولرز کے لیے چیلنجز بڑھ گئے ہیں، تاہم اچھی بولنگ کے ذریعے بڑے مجموعوں کا دفاع کیا جا سکتا ہے، پاکستان نے ابتدائی دو میچز میں بطور بولنگ یونٹ شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور دونوں میچز میں کامیابی حاصل کی۔قذافی اسٹیڈیم لاہور میں او ڈی آئی ٹرائی سیریز 2026 …
اچھی بولنگ کے ذریعے بڑے مجموعوں کا دفاع کیا جا سکتا ہے،حارث رئوف

مزید خبریں
لاہور۔23اکتوبر (اے پی پی):پاکستان کے فاسٹ بولر حارث رئوف نے کہا ہے کہ موجودہ دور کی کرکٹ میں بڑے اسکور بننے کے باعث بولرز کے لیے چیلنجز بڑھ گئے ہیں، تاہم اچھی بولنگ کے ذریعے بڑے مجموعوں کا دفاع کیا جا سکتا ہے، پاکستان نے ابتدائی دو میچز میں بطور بولنگ یونٹ شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور دونوں میچز میں کامیابی حاصل کی۔قذافی اسٹیڈیم لاہور میں او ڈی آئی ٹرائی سیریز 2026 کے سلسلے میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حارث رئوف نے کہا کہ لاہور میں ہونے والا اگلا میچ بریسٹ کینسر سے آگاہی کے لیے اہم ہے ،پوری قوم کو اس مہم کی حمایت کرنی چاہیے تاکہ اس حوالے سے شعور اجاگر کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ دو میچز میں 300 رنز کے مجموعے کا کامیابی سے دفاع کیا، جو بولنگ یونٹ کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے، پہلے میچ میں فاسٹ بولرز نے مل کر نو وکٹیں حاصل کیں۔ حارث رئوف نے کہاکہ آج کل ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں بڑے اسکور بن رہے اور 400 سے زائد رنز کے اہداف بھی حاصل کیے جا رہے ہیں، اس لیے آئندہ ورلڈ کپ میں ٹیموں کو 350 سے زائد رنز بنانے اور ایسے بڑے اہداف کا تعاقب کرنے کے لیے بھی تیار رہنا ہوگا۔لاہور کی پچ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ میچ سے قبل وکٹ کی صورتحال کے بارے میں حتمی رائے نہیں دی جا سکتی تاہم پاکستانی بولرز کوشش کریں گے کہ گزشتہ دو میچز کی کارکردگی کو یہاں بھی برقرار رکھیں۔ریورس سوئنگ کے سوال پر حارث رئوف نے کہا کہ 34 اوورز کے بعد ایک گیند باقی رہ جانے سے بولرز کو فائدہ ہوتا ہے، خصوصا ًدن کے وقت ریورس سوئنگ کے امکانات بڑھ جاتے ہیں تاہم رات کے میچز میں شبنم کی وجہ سے ریورس سوئنگ حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مڈل اوورز میں وکٹیں حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ اگر حریف ٹیم کے اوپنرز یا مڈل آرڈر کے بلے باز طویل وقت تک کریز پر موجود رہیں تو وہ بولنگ ٹیم کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں،اسی لیے پاکستانی بولرز کی کوشش ہوتی ہے کہ مڈل اوورز میں زیادہ سے زیادہ وکٹیں حاصل کی جائیں۔ڈیتھ اوورز میں بولنگ اور ماضی میں ہونے والی تنقید پر بات کرتے ہوئے حارث رئوف نے کہا کہ آج کل دنیا بھر میں رنز بن رہے ہیں اور کسی ایک میچ میں زیادہ رنز دیئے جانے کا مطلب یہ نہیں کہ اگلے میچ میں بولر وکٹیں حاصل نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے سے انہیں بہت فائدہ ہوا اور اس سے ان کی بولنگ میں بہتری آئی ہے،چار روزہ ڈومیسٹک میچز کھیلنے کے بعد اب ون ڈے کرکٹ کھیلنا ان کے لیے نسبتا ًآسان ہو گیا اور لائن و لینتھ پر ان کی گرفت مضبوط ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ڈومیسٹک کرکٹ بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی انٹرنیشنل کرکٹ۔شاہین شاہ آفریدی کی کپتانی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ شاہین کے ساتھ کافی عرصے سے کھیل رہے ہیں، ان کے درمیان اچھا تال میل ہے، بطور بولنگ یونٹ تمام کھلاڑی ایک دوسرے کو سپورٹ کرتے اور اپنی ذمہ داریاں سمجھتے ہیں۔ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی کے امکانات پر بات کرتے ہوئے حارث رئوف نے کہا کہ ماضی میں ٹیسٹ کرکٹ نہ کھیلنے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ وہ اس فارمیٹ میں کھیلنا نہیں چاہتے تھے بلکہ وہ اس وقت مکمل تیاری کے ساتھ میدان میں اترنا چاہتے تھے تاکہ انہیں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال اور رواں سال وہ چار سے پانچ فرسٹ کلاس میچز کھیل چکے ہیں، اگر پاکستان کو ان کی رفتار اور صلاحیتوں کی ضرورت ہوئی تو وہ ٹیسٹ کرکٹ کے لیے دستیاب ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے چار روزہ میچز اسی مقصد کے تحت کھیلے ہیں تاکہ پاکستان کی جانب سے ریڈ بال کرکٹ کھیلنے کا موقع ملنے پر وہ تیار ہوں۔بولنگ کوچ شان ٹیٹ کے دوبارہ ٹیم کے ساتھ کام کرنے کے حوالے سے حارث رئوف نے کہا کہ شان ٹیٹ پہلے بھی پاکستانی بولرز کے ساتھ کام کر چکے ہیں، وہ بولرز کو پرسکون رکھنے کی کوشش کرتے اور ان کے ساتھ بات چیت ہمیشہ مثبت رہتی ہے، دونوں ایک دوسرے کی طبیعت اور کام کرنے کے انداز کو سمجھتے ہیں، اس لیے کوچ کے ساتھ کھل کر بات کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی۔موجودہ کرکٹ میں 430 رنز جیسے بڑے مجموعے بننے اور بولرز پر تنقید کے حوالے سے حارث رئوف نے کہا کہ چھکے صرف انہیں نہیں بلکہ دنیا بھر کے بولرز کو پڑتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ تنقید سے نہ پہلے گھبرائے ہیں اور نہ آئندہ گھبرائیں گے، ہر شخص کو اپنی رائے دینے کا حق ہے، کھلاڑیوں کی توجہ اپنی کارکردگی بہتر بنانے پر ہونی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ ہر میچ ایک نیا چیلنج ہوتا ہے اور کوئی بھی کھلاڑی ہر مقابلے میں بہترین کارکردگی کی ضمانت نہیں دے سکتا تاہم بھرپور کوشش ضرور کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے جب بھی موقع ملا، کسی چیلنج سے پیچھے ہٹنے کی کوشش نہیں کی، خواہ نئی گیند سے بولنگ کرنا ہو، مڈل اوورز میں ذمہ داری نبھانی ہو یا ڈیتھ اوورز میں بولنگ کرنی ہو۔بیٹنگ لائن کی جانب سے بڑے مجموعے ترتیب دینے کے اثرات پر بات کرتے ہوئے حارث رئوف نے کہا کہ جب بیٹنگ ٹیم اچھا ہدف دیتی ہے تو بولرز زیادہ پراعتماد اور پرسکون ہوتے ہیں، اگر ہدف میں 20 سے 30 رنز کا مارجن موجود ہو تو بولنگ یونٹ اسے سنبھال سکتا ہے، لیکن اگر مجموعہ 70 سے 80 رنز کم ہو تو دنیا کا کوئی بھی بولنگ اٹیک مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نسیم شاہ، شاہین شاہ آفریدی، فہیم اشرف اور وہ خود ایک دوسرے کے کردار سے واقف اور اپنی بہترین کارکردگی پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔پاکستان کے فاسٹ بولنگ ٹرائیو، یعنی حارث رئوف، شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ کی واپسی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان تینوں کی بنیادی ذمہ داری وکٹیں حاصل کرنا ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر وہ رنز روکنے کی ذمہ داری بھی نبھاتے ہیں،ابتدائی دو میچز میں پاکستانی اوپنرز کی ناکامی پر حارث رئوف نے کہا کہ کرکٹ ایک ٹیم گیم اور اس میں تمام کھلاڑیوں کو ایک دوسرے کی حمایت کرنا ہوتی ہے، اوپنرز کے مشکلات کا شکار ہونے کے باوجود مڈل آرڈر کے کھلاڑیوں نے ذمہ داری نبھائی۔ انہوں نے حسن نواز، عرفات منہاس اور سلمان علی آغا کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ فخر زمان اور صائم ایوب بھی آئندہ میچ میں رنز بنانے میں کامیاب ہوں گے۔پاکستانی بولرز کی رفتار میں کمی سے متعلق تنقید پر حارث رئوف نے کہا کہ پیس فاسٹ بولنگ کا ایک اہم عنصر اور موجودہ کرکٹ میں تیز رفتار بولر کی اہمیت بہت زیادہ ہے،کچھ بولرز سوئنگ اور سیم پر انحصار کرتے ہیں لیکن ان کی اپنی ترجیح تیز رفتار بولنگ ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ اپنی فٹنس پر خصوصی توجہ دیتے ہیں تاکہ بولنگ کی رفتار برقرار رکھ سکیں، کرکٹ میں اکثر یہ بات کی جاتی ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ بولرز کی رفتار کم ہو جاتی ہے، تاہم انہیں خوشی ہے کہ وہ اب تک اپنی رفتار برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں اور مستقبل میں بھی اس کے لیے محنت جاری رکھیں گے۔







