’’اڑان پاکستان‘‘ اقدام کے تحت 2035ء تک پاکستان کو ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، احسن اقبال

اسلام آباد۔29جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت سالانہ منصوبہ 2025-26 کے وسط مدتی جائزے کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں تمام وزارتوں اور ڈویژنز کے سیکرٹریز، سینئر سرکاری افسران، پلاننگ کمیشن کے ارکان اور صوبائی حکومتوں کے نمائندگان سمیت متعلقہ سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ آج منصوبہ …

اسلام آباد۔29جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت سالانہ منصوبہ 2025-26 کے وسط مدتی جائزے کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں تمام وزارتوں اور ڈویژنز کے سیکرٹریز، سینئر سرکاری افسران، پلاننگ کمیشن کے ارکان اور صوبائی حکومتوں کے نمائندگان سمیت متعلقہ سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ آج منصوبہ بندی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ایک نئی روایت کا آغاز کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر سال بجٹ کے موقع پر سالانہ ترقیاتی منصوبہ تشکیل دیا جاتا ہے جس کے ذریعے قومی معاشی اہداف کا تعین اور وزارتوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ ماضی میں یہ عمل سالانہ بنیادوں پر ہوتا رہا ہے تاہم اسے مزید موثر اور نتائج پر مبنی بنانے کے لیے اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ سالانہ ترقیاتی منصوبے کا سہ ماہی بنیادوں پر جائزہ لیا جائے گا تاکہ قومی اہداف بروقت حاصل کیے جا سکیں۔

وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ گورننس صرف اہداف کے حصول تک محدود نہیں بلکہ ادارہ جاتی صلاحیت سازی کا نام ہے تاکہ نہ صرف موجودہ اہداف حاصل کیے جا سکیں بلکہ مستقبل کے لیے بہتر اہداف بھی طے کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ سالانہ ترقیاتی منصوبہ ملکی معیشت کے لیے رہنما فریم ورک کی حیثیت رکھتا ہے اور پانچ سالہ ترقیاتی اہداف کے حصول کا واضح راستہ فراہم کرتا ہے۔حکومت کے طویل المدتی وژن پر روشنی ڈالتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ’’اڑان پاکستان‘‘ اقدام کے تحت 2035ء تک پاکستان کو ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان اہداف کے حصول اور موثر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ جائزہ اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد بیشتر سماجی و معاشی شعبے صوبائی دائرہ اختیار میں آ چکے ہیں، لہٰذا قومی معاشی اہداف کے حصول کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان قریبی ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ انہوں نے زراعت، خدمات، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور بالخصوص سماجی شعبے کو معیشت کی بہتری کے کلیدی محرکات قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان شعبوں میں پیداواریت میں بہتری کے بغیر پائیدار معاشی ترقی ممکن نہیں۔انہوں نے بتایا کہ آئندہ دنوں میں تفصیلی جائزہ اجلاسوں کا سلسلہ شروع کیا جائے گا جن میں معاشی اشاریوں کا گہرائی سے تجزیہ کیا جائے گا۔

وزارتیں نہ صرف اپنے مقررہ اہداف کے مقابلے میں پیش رفت سے آگاہ کریں گی بلکہ عملدرآمد میں درپیش رکاوٹوں اور خامیوں کے ازالے کے لیے اصلاحی تجاویز بھی پیش کریں گی۔ ان سہ ماہی جائزہ اجلاسوں سے کارکردگی، احتساب اور نظام ترسیل میں نمایاں بہتری آئے گی۔احسن اقبال نے مزید کہا کہ موجودہ پانچ سالہ منصوبے کے اہداف کو اڑان پاکستان فریم ورک سے ہم آہنگ کر دیا گیا ہے۔ جائزہ عمل کے دوران یہ دیکھا جائے گا کہ کون سے اہداف مقررہ مدت میں حاصل ہو چکے ہیں اور کن کے لیے مزید کوشش درکار ہے۔

ان جائزوں کی بنیاد پر حکمت عملی کو مزید بہتر بنایا جائے گا اور وزارتوں کی کارکردگی پر مبنی جامع رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کی جائے گی۔اجلاس کے دوران چیف اکنامسٹ ڈاکٹر امتیاز احمد نے سالانہ منصوبہ 2025-26 کے پہلے نصف سال کے دوران معاشی و ترقیاتی پیش رفت اور درپیش چیلنجز پر بریفنگ دی۔ انہوں نے حالیہ سیلابوں کے شدید سماجی و معاشی اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ان سیلابوں سے تقریباً 65 لاکھ افراد متاثر ہوئے اور ایک ہزار سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ سیلاب کے باعث تقریباً 33 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی کو نقصان پہنچا، مویشیوں کا بھاری نقصان ہوا اور سڑکوں، پلوں، سرکاری عمارات، تعلیمی اداروں اور صحت کی سہولیات سمیت بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔ ابتدائی تخمینوں کے مطابق مجموعی معاشی نقصان تقریباً 822 ارب روپے ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات نے یورپی یونین، عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) سمیت ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون سے ایک جامع رپورٹ’’2025 کے بعد کے سیلاب: اسباق، مواقع اور ایک لچکدار و خطرات سے آگاہ پاکستان کی جانب سفر‘‘ پر تجزیاتی اور توثیقی کام کا آغاز کر دیا ہے جو آئندہ ماہ کے اختتام تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔چیف اکانومسٹ نے اجلاس کو قیمتوں میں استحکام، پالیسی ریٹ میں کمی، صنعتی شعبے کے لیے توانائی ٹیرف میں کمی، بڑے پیمانے کی صنعتوں کی کارکردگی اور خلیجی ممالک میں بہتر معاشی حالات کے باعث ترسیلات زر میں اضافے سے بھی آگاہ کیا۔

انہوں نے پالیسی ترجیحات پر بات کرتے ہوئے معاشی استحکام اور پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے موثر استعمال پر زور دیا۔ حکومت نے منصوبہ بندی و ترقی کے نظم و ضبط کو مضبوط بنانے، وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی اور ترقیاتی ترجیحات کے بروقت نفاذ کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ ملک میں پائیدار اور جامع معاشی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔