اڑان پاکستان میں خواتین کی شرکت ترقی کی بنیادی شرط قرار، آئندہ پانچ سال اور طویل مدت میں 2035 تک معاشی اہداف مقرر

پاکستان کی قومی اقتصادی تبدیلی کے منصوبے ’’اڑان پاکستان‘‘ میں خواتین کی فعال شرکت کو ملکی ترقی کے لیے بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت آئندہ پانچ سال اور طویل مدت میں 2035 تک معاشی اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔

اسلام آباد۔ 10 مارچ (اے پی پی):پاکستان کی قومی اقتصادی تبدیلی کے منصوبے ’’اڑان پاکستان‘‘ میں خواتین کی فعال شرکت کو ملکی ترقی کے لیے بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت آئندہ پانچ سال اور طویل مدت میں 2035 تک معاشی اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔یہ پالیسی ’’پانچ ایز (5Es)‘‘ یعنی برآمدات، ای-پاکستان، مساوات و بااختیاری، ماحولیاتی و خوراک و پانی کا تحفظ، اور توانائی و بنیادی ڈھانچے پر مشتمل ایک جامع فریم ورک فراہم کرتی ہے، جس کا مقصد پاکستان کو پائیدار معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔پاکستان کو معاشی بحالی کے مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم موجودہ حکومت نے ایسے وقت میں اڑان پاکستان کا اعلان کیا جب مہنگائی میں کمی اور کئی معاشی اشاریوں میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اس منصوبے کا افتتاح کرتے ہوئے کہا تھا کہ پروگرام کی کامیابی کا انحصار برآمدات پر مبنی ترقی پر ہوگا۔ ان کے مطابق صنعتوں کو سستی بجلی اور گیس فراہم کر کے مقامی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے گا اور سالانہ 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔اڑان پاکستان کا بنیادی مقصد پاکستان کو 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر معیشت بنانا ہے۔ یہ منصوبہ برآمدات میں اضافہ، آئی ٹی اور ٹیکنالوجی کی ترقی، سستی اور پائیدار توانائی کی فراہمی، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور پسماندہ طبقات کو ترقی کے دھارے میں شامل کرنے جیسے اہم اہداف پر مشتمل ہے۔وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق پاکستان کی ترقی کا کوئی بھی قومی ہدف خواتین کی فعال شرکت کے بغیر حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بیٹیاں، مائیں اور بہنیں اپنی محنت اور صلاحیت کے ذریعے قومی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔

انہوں نے قائداعظم محمد علی جناح کے اس قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کوئی قوم اس وقت تک عظمت کی بلندیوں تک نہیں پہنچ سکتی جب تک اس کی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ نہ ہوں۔احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اڑان پاکستان میں خواتین کی شمولیت محض سماجی ضرورت نہیں بلکہ قومی ترقی کی بنیادی شرط ہے۔ ان کے مطابق برآمدات، ای-پاکستان، ماحولیات یا خوراک و پانی کے تحفظ سمیت کسی بھی قومی ہدف کو خواتین کی شمولیت کے بغیر حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب خواتین آگے بڑھتی ہیں تو پاکستان بھی آگے بڑھتا ہے۔اس پروگرام کے تحت آئی ٹی، مینوفیکچرنگ، زراعت، معدنیات اور بلیو اکانومی جیسے شعبوں کو فروغ دیا جائے گا۔ منصوبے میں سالانہ 60 ارب ڈالر برآمدات کا ہدف رکھا گیا ہے جبکہ آئی سی ٹی فری لانسنگ انڈسٹری کو 5 ارب ڈالر تک لے جانے اور ہر سال دو لاکھ آئی ٹی گریجویٹس تیار کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 50 فیصد کمی، پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ، جنگلات کی افزائش اور آفات سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر بنانے جیسے اقدامات بھی اس پروگرام کا حصہ ہیں۔ اسی طرح توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں جدید منصوبوں کے ذریعے سستی اور قابل اعتماد توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

منصوبے کے تحت سماجی شعبے میں بھی بہتری لانے پر زور دیا گیا ہے جس میں شرح خواندگی میں اضافہ، خواتین کی لیبر فورس میں شمولیت میں اضافہ، نوجوانوں کی بے روزگاری میں کمی اور یونیورسل ہیلتھ کوریج کو فروغ دینا شامل ہے۔ماہرین کے مطابق اگر اس منصوبے پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد کیا گیا تو یہ پاکستان کو معاشی استحکام، پائیدار ترقی اور عالمی معیشت میں مضبوط مقام دلانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔