اگست کے بعد ایک بھی پلاسٹک بیگ وفاقی دارالحکومت میں برداشت نہیں کیا جائے گا، ملک امین اسلم

اسلام آباد ۔ 6 اگست (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا ہے کہ پاکستان کا زہریلے پلاسٹک بیگ سے لگائو ختم ہونا چاہئے، 14 اگست کے بعد ایک بھی پلاسٹک بیگ وفاقی دارالحکومت میں برداشت نہیں کیا جائے گا، پلاسٹک کی تھیلی پر پابندی وسیع تر عوامی مفاد کا معاملہ ہے، عوام تعاون کرکے اس پابندی پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ ان …

اسلام آباد ۔ 6 اگست (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا ہے کہ پاکستان کا زہریلے پلاسٹک بیگ سے لگائو ختم ہونا چاہئے، 14 اگست کے بعد ایک بھی پلاسٹک بیگ وفاقی دارالحکومت میں برداشت نہیں کیا جائے گا، پلاسٹک کی تھیلی پر پابندی وسیع تر عوامی مفاد کا معاملہ ہے، عوام تعاون کرکے اس پابندی پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو پلاسٹک کی تھیلی پر پابندی کے سلسلہ میں بلائے گئے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں پلاسٹک بیگ کے استعمال، اس پر پابندی اور متبادل تھیلوں کی دستیابی کے حوالہ سے امور کا جائزہ لیا گیا، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری اور ای پی اے کے اعلیٰ افسران اور دیگر نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی نے پلاسٹک بیگ پر پابندی کے قانون پر مکمل عملدرآمد کیلئے ایک مربوط منصوبہ بنا لیا ہے۔ مذکورہ بین صرف پولی تھین نامی مواد سے بننے والی تھیلی پر لگایا گیا ہے تاہم صنعتی پیکنگ، شہری فضلہ، شفاخانوں کا فضلہ اور زہریلے مواد کیلئے استعمال ہونے والے تھیلوں کو استثنیٰ حاصل ہو گا۔ استثنٰی کا پیمانہ بہت سخت ہے جو کہ پراڈکٹ کی تازگی اور متبادل پیکنگ مواد کی عدم دستیابی کے اصول پر مرتب کیا گیا ہے، متبادل تھیلوں کے درآمد کنندگان، صنعت کار متعلقہ تھیلوں کی ری سائیکلنگ کا منصوبہ مجاز اتھارٹی میں جمع کرانے کے پابند ہوں گے۔ مزید برآں ریکارڈ کیپنگ کے مقصد کیلئے تھیلوں پر صنعتکار/درآمد کنندگان کی شناخت بھی درج ہو گی۔ ایس آر او کی مکمل عملدرآمدی کو یقینی بنانے کیلئے ذرائع ابلاغ، متبادل تھیلوں کی دستیابی اور انتظامی جرمانوں کا سہارا لیا جائے گا۔ وزارت موسمیاتی تبدیلی اسلام آباد کے بازاروں میں ایک لاکھ 10 ہزار تھیلے مفت تقسیم کرے گی۔ ای پی اے اور ضلعی حکومت صنعتکار/ہول سیلر کو ایک لاکھ سے پانچ لاکھ ، دکانداروں کو 10 ہزار سے 50 ہزار اور دیگر ملوث افراد کو 5 ہزار روپے فی کس جرمانہ عائد کر سکے گی۔ اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر کے علاوہ وفاقی سیکرٹری حسن ناصر جامی، سینئر جوائنٹ سیکرٹری حماد شمیمی، ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات اور ای پی اے کے اعلیٰ عہدہ داروں نے شرکت کی۔