اسلام آباد۔6دسمبر (اے پی پی):پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے غزہ کی پٹی کے مکینوں کو عرب جمہوریہ مصر منتقل کرنے کے مقصد سے رفح کراسنگ کو ایک سمت میں کھولنے سے متعلق اسرائیلی بیانات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق اپنے ایک مشترکہ بیان میں ان ملکوں کے وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کو …
اہم مسلم مملک کے وزرائے خارجہ کا رفح کراسنگ کو ایک سمت میں کھولنے سے متعلق اسرائیلی بیانات پر گہری تشویش کا اظہار

مزید خبریں
اسلام آباد۔6دسمبر (اے پی پی):پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے غزہ کی پٹی کے مکینوں کو عرب جمہوریہ مصر منتقل کرنے کے مقصد سے رفح کراسنگ کو ایک سمت میں کھولنے سے متعلق اسرائیلی بیانات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق اپنے ایک مشترکہ بیان میں ان ملکوں کے وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کی کسی بھی کوشش کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تجویز کردہ منصوبے پر مکمل عمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا جس میں رفح کراسنگ کو دونوں سمتوں میں کھلا رکھنے، آبادی کے لیے نقل و حرکت کی آزادی کو یقینی بنانےاور غزہ کی پٹی کے کسی بھی باشندے کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور کرنے سے گریز کرنے کے ساتھ ساتھ ایک جامع وژن کے تحت ان کےلئے اپنی سرزمین پر رہنے اور اپنے وطن کی تعمیر میں حصہ لینے کےلئے مناسب حالات پیدا کرنے کو ضروری قرار دیا گیا جس کا مقصد استحکام کی بحالی اور وہاں انسانی زندگی کے حالات کو بہتر بنانا ہے۔
وزرائےخارجہ نے مشترکہ بیان میں خطے میں امن کے قیام کی خاطر صدر ٹرمپ کے عزم کی تعریف کا اعادہ کرتے ہوئے سلامتی و امن کے حصول اور علاقائی استحکام کی بنیادوں کو مستحکم کرنے کےلئے ٹرمپ پلان پر بلا تاخیر یا بغیر رکاوٹ کے مکمل عمل درآمد کے ساتھ آگے بڑھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ وزرائےخارجہ نے جنگ بندی کو مکمل طور پر برقرار رکھنے، شہریوں کی تکالیف کو کم کرنے، غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کے غیر محدود داخلے کو یقینی بنانے، جلد بحالی و تعمیر نو کی کوششیں اور فلسطینی اتھارٹی کےلئے اپنی ذمہ داریوں کو دوبارہ شروع کرنے کی خاطر ضروری حالات پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2803 اور سلامتی کونسل کی دیگر تمام متعلقہ قراردادوں پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانے، بین الاقوامی قانونی جواز اور دو ریاستی حل کے مطابق ایک منصفانہ، جامع اور پائیدار امن کے حصول کےلئے آسان بنیاد فراہم کرنے کے لئے امریکا اور تمام متعلقہ علاقائی و بین الاقوامی فریقوں کے ساتھ کام اور ہم آہنگی جاری رکھنے کے ضمن میں اپنے ممالک کی تیاری کی تصدیق کی جس کے تحت 4 جون 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آئے جس میں غزہ اور مغربی کنارے کے مقبوضہ علاقے بھی شامل ہوں اور جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔








