ایوانِ اقبال کمپلیکس کے زیرِ اہتمام یومِ دفاعِ پاکستان کے موقع پرشاندار تقریب کا انعقاد

لاہور۔7ستمبر (اے پی پی):ایوانِ اقبال کمپلیکس لاہور کے زیرِ اہتمام یومِ دفاعِ پاکستان کے موقع پر تقریب کا انعقاد کیا گیا- تقریب کی صدارت سینئر صحافی سلمان غنی نے کی جبکہ صدر ایکس سروس مین سوسائٹی بریگیڈیئر (ر) جاوید احمد مہمانِ خصوصی تھے، سینئر صحافی دلاور چودھری، ریڈیو پاکستان کی پروڈیوسر زنیرہ خالد ، ماہرِ قومی ورثہ رابعہ بصری ، شہریوں،طلبہ و طالبات سمیت مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے …

لاہور۔7ستمبر (اے پی پی):ایوانِ اقبال کمپلیکس لاہور کے زیرِ اہتمام یومِ دفاعِ پاکستان کے موقع پر تقریب کا انعقاد کیا گیا- تقریب کی صدارت سینئر صحافی سلمان غنی نے کی جبکہ صدر ایکس سروس مین سوسائٹی بریگیڈیئر (ر) جاوید احمد مہمانِ خصوصی تھے، سینئر صحافی دلاور چودھری، ریڈیو پاکستان کی پروڈیوسر زنیرہ خالد ، ماہرِ قومی ورثہ رابعہ بصری ، شہریوں،طلبہ و طالبات سمیت مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی بڑی تعداد نے بھی تقریب میں شرکت کی-تقریب کے دوران طالبات ماہم بخاری، طیبہ نازش اور مینائل سعید نے ملی نغمے پیش کرکے وطن سے محبت، قومی حمیت اور حب الوطنی کے جذبات کو اجاگر کیا۔

اس موقع پر مقررین نے 1965 کی جنگ، حالیہ معرکہ حق اور پاکستان کی دفاعی تاریخ کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالتے ہوئے نئی نسل کو قومی ذمہ داریوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ قوم اور نوجوان نسل اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں-مہمانِ خصوصی بریگیڈیئر (ر) جاوید احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ 1965 کی جنگ اور معرکہ حق نے بھارت کے کئی مغالطے دور کر دئیے ہیں، پاکستان کی دفاعی قوت کا انحصار صرف ہتھیاروں پر نہیں بلکہ اس کے بہادر جوانوں، باصلاحیت نوجوانوں اور پوری قوم کے عزم و حوصلے پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایم عالم جیسے عظیم پائلٹس آج بھی پاکستان میں موجود ہیں جو اپنی صلاحیتوں اور پیشہ وارانہ مہارت سے ملک کا نام روشن کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بریگیڈیئر (ر) جاوید احمد نے کہا کہ معرکہ حق کے بعد دنیا پاکستان کی بات سن رہی ہے اور موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی حکمتِ عملی کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، دہشت گردوں کے سرپرست بھارت کو واضح اور دوٹوک جواب دینا ہوگا۔ ا نہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی اور استحکام میں ہر شہری کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، بالخصوص نوجوان نسل کو اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے موجودہ دور میں اپنا چراغ خود روشن کرنا ہوگا۔صدرِ مجلس سلمان غنی نے کہا کہ پاکستان پر جب بھی جارحیت مسلط کی گئی، پاکستانی قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ 1965 میں بھی بھارت نے جنگ بندی کی راہ اختیار کی اور معرکہ حق میں بھی اسے پسپائی کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کی سیاسی و دفاعی قوت کے ساتھ ساتھ معاشی خودمختاری بھی ناگزیر ہے، پاکستان معاشی طور پر آزاد اور مضبوط ہوگا تو کشمیر کی آزادی کی منزل بھی قریب ہوگی،ملک پر جب بھی کڑا وقت آیا قوم اپنی افواج کے پیچھے کھڑی ہوئی۔سینئر صحافی دلاور چودھری نے کہا کہ موجودہ عہد میں دفاع صرف روایتی عسکری قوت کا نام نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی، تحقیق، علم اور مہارتوں سے ہم آہنگی بھی قومی سلامتی کا لازمی تقاضا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی سرحدوں پر میجر عزیز بھٹی جیسے بہادر سپوت وطن کی حفاظت کے لیے موجود ہیں۔ انہوں نے سیاسی استحکام کو مضبوط قومی دفاع کے لیے ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاشی مضبوطی طاقتور دفاع سے گہرا تعلق رکھتی ہے جبکہ کمزور معیشت کسی بھی ملک کو سمجھوتوں پر مجبور کر سکتی ہے۔

دلاور چودھری نے مزید کہا کہ متحرک اور موثر سفارت کاری مضبوط دفاع کا اہم جزو ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا کے منفی اور گمراہ کن استعمال کی روک تھام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل کو جدید ذرائع ابلاغ کو مثبت، تعمیری اور قومی مفاد کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ماہرِ قومی ورثہ رابعہ بصری نے کہا کہ پاکستان محض ایک خط ارضی نہیں بلکہ ہماری شناخت اور قومی وجود کی علامت ہے، اس لیے شکایات اور مایوسی کے بجائے ملکی ترقی کے لیے عملی کردار ادا کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ 1965 کی جنگ، معرکہ حق اور 2005 کے تباہ کن زلزلے کے موقع پر پوری قوم متحد ہو کر کھڑی ہوئی اور یہی قومی یکجہتی پاکستان کی اصل طاقت ہے۔ریڈیو پاکستان کی پروڈیوسر زنیرہ خالد نے کہا کہ مسلمان جذب ایمانی، عزم اور حوصلے کے ساتھ بڑے سے بڑے چیلنج کا مقابلہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم نے ہر جنگ اور ہر کڑے وقت میں سیسہ پلائی دیوار بن کر وطن کا دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بدلتے ہوئے دور میں وطن کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے عسکری قوت کے ساتھ ساتھ تحقیق، علم، تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی میں پیش رفت بھی ناگزیر ہے۔

 

مزید خبریں