ایئر چیف کی جراتمندانہ قیادت، بروقت فیصلوں اور جدید جنگی حکمت عملی نے معرکہ حق کو تاریخی کامیابی سے ہمکنار کیا، عاصم سلیمان

ریٹائرڈ ایئر مارشل عاصم سلیمان نے کہا ہے کہ چیف آف ایئر سٹاف ظہیر احمد بابر سدھو نے معرکہ حق 2025 کے دوران مسلسل پانچ دن اور پانچ راتیں کمانڈ سینٹر میں رہتے ہوئے آپریشن کی براہ راست نگرانی کی جس کے نتیجے میں پاک فضائیہ کو فیصلہ کن برتری حاصل ہوئی۔ ایئر چیف کی جراتمندانہ قیادت، بروقت فیصلوں اور جدید جنگی حکمت عملی نے معرکہ حق کو تاریخی کامیابی …

راولپنڈی ۔8مئی (اے پی پی):ریٹائرڈ ایئر مارشل عاصم سلیمان نے کہا ہے کہ چیف آف ایئر سٹاف ظہیر احمد بابر سدھو نے معرکہ حق 2025 کے دوران مسلسل پانچ دن اور پانچ راتیں کمانڈ سینٹر میں رہتے ہوئے آپریشن کی براہ راست نگرانی کی جس کے نتیجے میں پاک فضائیہ کو فیصلہ کن برتری حاصل ہوئی۔ ایئر چیف کی جراتمندانہ قیادت، بروقت فیصلوں اور جدید جنگی حکمت عملی نے معرکہ حق کو تاریخی کامیابی سے ہمکنار کیا۔ ’’اے پی پی‘‘ کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں ریٹائرڈ ایئر مارشل عاصم سلیمان نے کہا کہ ایئر چیف نے نہ صرف فرنٹ سے قیادت کی بلکہ جدید فضائی جنگ کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید سافٹ ویئر اور ہارڈویئر کے حصول، ان کی جانچ اور عملی استعمال کی خود نگرانی بھی کی۔ یہی پیشگی تیاری معرکہ حق میں پاک فضائیہ کی کامیابی کی بنیاد بنی۔

انہوں نے کہا کہ معرکہ حق جدید فضائی جنگ کی ایک منفرد مثال تھا جہاں کامیابی کا دارومدار رفتار، انٹیگریشن اور فوری فیصلہ سازی پر تھا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور کی جنگ میں صرف فاصلے پر رہنا بقا کی ضمانت نہیں رہا بلکہ بروقت معلومات اور فوری ردعمل فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ عاصم سلیمان نے بتایا کہ ایئر چیف کی نگرانی میں تیار کردہ حکمت عملی سینسرز، کمانڈ سسٹمز اور ہتھیاروں کے مربوط استعمال پر مبنی تھی جس سے پاک فضائیہ کو حقیقی وقت میں صورتحال سے آگاہی اور فوری کارروائی کی صلاحیت حاصل رہی۔

انہوں نے کہا کہ J-10C اور JF-17 Thunder جیسے جدید طیاروں کی شمولیت سے پاک فضائیہ کو ’’فرسٹ لک، فرسٹ شوٹ‘‘ کی اہم برتری حاصل ہوئی جبکہ طویل فاصلے تک مؤثر کارروائی کی صلاحیت نے دشمن کے عزائم ناکام بنائے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فضائیہ نے دشمن کی پہلی ضرب کے منصوبے کو مؤثر انداز میں ناکام بنایا اور جدید فضائی جنگ اب روایتی بصری مقابلے کے بجائے بروقت نشاندہی اور فوری کارروائی پر منحصر ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ HQ-9B سمیت جدید فضائی دفاعی نظام نے حساس اہداف کو تحفظ فراہم کیا، معرکہ حق کی ایک نمایاں خصوصیت فضائی، زمینی، سائبر، خلائی اور بغیر پائلٹ نظاموں کا مربوط استعمال تھا جنہیں حقیقی وقت کے ڈیٹا لنک کے ذریعے ایک مشترکہ آپریشنل نظام سے منسلک رکھا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپریشن رات کے وقت بی وی آر (بیونڈ وژول رینج) ماحول میں کیا گیا اور حملے کے لیے سرحد عبور نہیں کی گئی جو جدید جنگی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی حملوں کے بعد پاک فضائیہ نے صرف پانچ سے دس منٹ کے اندر ردعمل دیا اور دشمن کو مؤثر جوابی کارروائی کا موقع نہیں ملا۔ عاصم سلیمان کے مطابق سائبر صلاحیتوں نے بھی دشمن کے مواصلاتی نظام کو متاثر کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا جبکہ ایئر چیف کی پیشگی منصوبہ بندی اور فارورڈ تعیناتیوں نے آپریشن کی کامیابی کو یقینی بنایا۔