ایران جنگ کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور آبنائے ہرمز کی بندش سے دستیابی میں تعطل کا بوجھ عوام پر نہیں پڑنے دیاگیا،وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کی قومی اسمبلی میں بریفنگ

ایران جنگ کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور آبنائے ہرمز کی بندش سے دستیابی میں تعطل کا بوجھ عوام پر نہیں پڑنے دیاگیا،وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کی قومی اسمبلی میں بریفنگ

اسلام آباد۔6اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پاکستان توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے 80 فیصد تیل درآمد کرتا ہے،ایران جنگ کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور آبنائے ہرمز کی بندش سے دستیابی میں تعطل کا بوجھ عوام پر نہیں پڑنے دیاگیا،تمام اکائیوں کو اعتماد میں لے کر حالیہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا اور ساتھ ہی متوسط طبقہ کو ریلیف دیا گیا،ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی فراہم کی جارہی ہے،خطے میں کشیدگی کے باوجود عوام کو بلا تعطل پٹرول فراہم کیا جارہا ہے،خطے میں امن و استحکام کے لئے پاکستان بھرپور کردار ادا کررہا ہے،چھوٹے کسانوں کو 1500 روپے فی ایکڑ سبسڈی دی جارہی ہے،روٹ متاثر ہونے کی وجہ سے شپمنٹ کے کرایوں میں لاکھوں ڈالر اضافہ ہوا۔

پیر کو قومی اسمبلی میں ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے،عام آدمی کے لئے حکومتی ریلیف اقدامات اور اس صورتحال میں حکومت کی جانب سے وفاقی اکائیوں کے ساتھ مل کر اقدامات کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اپنی توانائی کی ضرورت کا 80 فیصد درآمد سے پوری کرتا ہے، خطے کی موجودہ صورتحال نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہےجس کے اثرات تمام دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں، ہماری حکومت نے ان حالات میں اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں، مقبول فیصلوں کی بجائے حقیقی اقدامات اٹھائے، اگر یہ فیصلے نہ کرتے تو پاکستان 2022 کی نہج پر پہنچ جاتا۔ انہوں نے بتایا کہ 28 فروری کو ایران پر حملے کے بعد آبنائے ہرمز سے آمدورفت میں خلل پڑا، دنیا کو 15 سے 20 فیصد پٹرولیم مصنوعات سمیت دیگر توانائی سے متعلقہ مصنوعات اسی راستے ہو کر جاتی ہیں، خام تیل، پٹرول، ایل پی جی، ڈیزل ، ایل این جی اور فرٹیلائزر سمیت کیمیکل کی آمدورفت اسی راستے سے ہوتی ہے، یہاں پر رکاوٹ کی وجہ سے دنیا میں ان کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے، ہم نے ایسی صورتحال میں یہ فیصلہ کرنا تھا کہ کیا اپنے عوام کو پٹرولیم مصنوعات کی دستیابی کو یقینی بنانا ہے یا پڑوسی ممالک کی طرح لمبی لائنیں اور لڑائی جھگڑوں کی صورتحال پیدا کرنی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے وسائل کی دستیابی تک پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ نہیں کیااور عوام کو ہفتہ وار 50 سے 60 ارب روپے کی سبسڈی دی ، کفایت شعاری اور ترقیاتی فنڈز سے رقم منتقل کی، منافع بخش اداروں سے بھی وسائل لے کر 100ارب روپے تک کا ریلیف دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دو ، تین ہفتے صورتحال اسی طرح چلتی رہی، ہم آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام میں ہیں، دنیا میں کروڈ آئل کی قیمت فی بیرل 70 ڈالر سے بڑھ کر تاریخ کی بلند ترین سطح 170 ڈالر تک بھی گئی جس سے حکومتی وسائل پر بوجھ کا حجم بڑھا، ہم نے دو، تین سال کے استحکام کو مدنظر رکھ کر خام تیل میں اضافہ کے بعد بڑی تکلیف سے ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا، ڈیزل کی قیمتیں 88 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 290 سے 300 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھیں، پاکستان 50 سال کیلئے ڈیزل کویت سے درآمد کر رہا ہے جہاں اسے پانچ ڈالر پریمیئر تقریباً ایک ڈالر کرایہ پڑتا تھا تاہم یہ ساری سپلائی ایک دن میں ختم ہو گئی،

وزیراعظم نے فوری طور پر خلیجی ممالک کے سربراہان سے گفتگو کی اور اس کا حل نکالا، ہماری ایل این جی کی تمام سپلائی قطر سے ہو رہی تھی، آبنائے ہرمز کی بندش سے اس کی سپلائی ختم ہو گئی تاہم ہم نے گیس لانے کیلئے اقدامات اٹھائے، عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کیلئے وزراء اعلیٰ سے مشاورت کی، پھر ایوان صدر میں تمام اکائیوں کا اجلاس بلایا گیا، ہم نے مشاورت سے کسان، تاجر، پبلک ٹرانسپورٹ، موٹر سائیکلوں سمیت کمزور طبقات کو تحفظ دینے پر غور کیا، بھرپور مشاورت اور صوبائی وزراء اعلیٰ و فیلڈ مارشل سمیت تمام احباب کی مشاورت سے ترجیحات کا تعین کیا گیا، سب کو ایک پیج پر لا کر وزیراعظم نے ٹارگٹ سبسڈی کے ساتھ قیمتوں میں ردوبدل کا فیصلہ کیا، حکومت کی جانب سے دی جانے والی سبسڈی سے صاحب حیثیت زیادہ فائدہ اٹھا رہے تھے، آئی ایم ایف پروگرام کے تحت معیشت کے استحکام اور اسے پائیدار ترقی کے راستے پر گامزن رکھتے ہوئے عام آدمی تک ریلیف پہنچانے کے اقدامات اٹھانے کافیصلہ ہوا، صدر مملکت نے اس تمام عمل کی نگرانی کی، تمام وزراء اعلیٰ کی جانب سے اس صورتحال میں بھرپور تعاون پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں، اتحادی جماعتوں اور بلاول بھٹو زرداری کے بھی شکرگزار ہیں جنہوں نے مکمل تعاون کیا۔

انہو ں نے بتایا کہ قیمتوں میں اضافہ کے ساتھ ساتھ ہم نے سبسڈی کا بھی اعلان کیا، انفارمیشن منسٹری کی جانب سے ای-والٹس کے ذریعے مستحق افراد کو باعزت طریقہ سے سبسڈی کا انتظام کیا گیا جس کے بعد ایکسائز کے پاس رجسٹرڈ لاکھوں لوگوں کو پیسے منتقل کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تیل کا 90 فیصد آبنائے ہرمز کے راستے آتا ہے، سعودی عرب کے شکرگزار ہیں کہ اس نے آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد معمول سے ہٹ کر بلاتعطل یمبو پورٹ کے ذریعے تیل مہیا کیا، فوجیرا اور اومان سے بھی تیل کے جہاز پہنچ رہے ہیں، ان سب کا شکریہ ادا کرتے ہیں، قیمتوں میں اضافہ ضرور ہے تاہم تیل کی دستیابی میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی آئل و گیس کمپنیوں نے بھی اپنی گیس کی فراہمی میں نمایاں اضافہ کیا جس سے کھانے کے اوقات کار میں گیس کی دستیابی ممکن ہوئی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ دنیا میں تیل کے بحران سے بھی بڑا بحران کھاد کی دستیابی کا ہے، وزیراعظم نے خصوصی ہدایت کی کہ کھاد کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، ہمارے پڑوسی ملک میں کھاد کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہوا تاہم پاکستان میں کھاد بنانے والی 10 فیکٹریوں کو بلاتعطل گیس کی فراہمی یقینی بنا رہے ہیں اور انہیں پابند کیا ہے کہ فی بوری قیمت 4500 روپے سے اوپر نہیں ہو گی۔ علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت ایران کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے آبنائے ہرمز میں پھنسے ہمارے دو جہازوں کو محفوظ راستہ دیا، ایرانی حکومت نے سارے گلے شکوے اور تحفظات ایک طرف رکھ کر پاکستان کے جنگ بندی کے کردار کو دیکھتے ہوئے ان جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی۔

انہوں نے وزارت بحری امور، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اپنے تمام وسائل فعال کئے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بین الوزارتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لیتی ہے، ہم ہر وہ قدم اٹھائیں گے جو ریاست پاکستان کے مفاد میں ہو گا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر ریلوے کرائے نہیں بڑھائے گئے، پبلک سروس بسوں کا ریکارڈ لے کر انہیں ایک لاکھ روپے ماہانہ سبسڈی دی جا رہی ہے، صوبوں نے انٹرسٹی سفری سہولیات مفت کرنے کا اعلان کیا ہے، وفاقی حکومت نے بھی اسلام آباد میں چلنے والی سرکاری ٹرانسپورٹ مفت کی ہے، صوبوں کی مشاورت سے ٹیوب ویلوں اور ٹریکٹروں کو بھی کسان کارڈ ، ہاری کارڈ اور کے پی ورلڈ بینک کے لینڈ ریکارڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے سبسڈی دی جا رہی ہے، 25 ایکڑ کی حد تک کے کاشتکار کو 1500 روپے فی ایکڑ سبسڈی دی جا رہی ہے، اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں اس کی ذمہ داری وفاق نے لی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اتنے بڑے بحران میں حکومت نے عوام کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کئے ہیں، خطرات کے تدارک کیلئے منصوبہ بندی کی ہے، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں مارکیٹیں رات 8 بجے بند کرنے کے فیصلے میں پہل کی گئی ہے جس پر ان کے مشکور ہیں، اس سے توانائی کی پیداوار کیلئے فرنس آئل کا استعمال نہیں ہو گا، امید ہے کہ دوسرے صوبے بھی جلد اس کا فیصلہ کریں گے۔