ایران جوہری مسئلے پر مذاکرات کے دوبارہ آغاز کی ضرورت ہے، چین

اقوام متحدہ ۔24دسمبر (اے پی پی):چین نے کہا کہ ایران جوہری مسئلے پر مذاکرات کے دوبارہ آغاز کی ضرورت ہے۔شنہوا کے مطابق کے اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل مندوب سن لی نے کہاکہ چین متعلقہ فریقوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں، فوری طور پر مذاکرات کا دوبارہ آغاز کریں اور اتفاق رائے تک پہنچنے کی کوشش کریں تاکہ مثبت نتائج حاصل …

اقوام متحدہ ۔24دسمبر (اے پی پی):چین نے کہا کہ ایران جوہری مسئلے پر مذاکرات کے دوبارہ آغاز کی ضرورت ہے۔شنہوا کے مطابق کے اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل مندوب سن لی نے کہاکہ چین متعلقہ فریقوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں، فوری طور پر مذاکرات کا دوبارہ آغاز کریں اور اتفاق رائے تک پہنچنے کی کوشش کریں تاکہ مثبت نتائج حاصل کیے جا سکیں۔انہوں نے ایران جوہری معاہدے (جوائنٹ کمپریہنسو پلان آف ایکشن (جے سی پی او اے )کو اہم کثیر الجہتی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کی منظوری اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کے ذریعے دی گئی تھی۔ تاہم، 2018 میں امریکا نے یکطرفہ طور پر اس معاہدے سے دستبرداری اختیار کی،

‘ایران پر یکطرفہ پابندیاں عائد کیں اور "زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی اپنائی۔ جون 2025 میں، امریکا اور اسرائیل نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے )کی رپورٹس ایرانی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کیا۔ چینی سفیر نے کہاکہ امریکا کی دستبرداری کے بعد، جوہری معاہدے کے تین یورپی فریق (برطانیہ، فرانس اور جرمنی) نے امریکا کے ساتھ یکطرفہ پابندیاں عائد کیں، جے سی پی او اےکے تحت اپنے وعدوں کو پورا نہیں کیا، تنازعہ کے حل کے طریقہ کار کو استعمال نہیں کیا اور "سنیپ بیک” کی پابندیوں کو نافذ کرنے پر زور دیا، جس سے فریقوں کے درمیان کشیدگی اور تصادم میں اضافہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ طاقت اور تصادم اس مسئلے کا حل نہیں ہیں۔ تمام فریقوں کو تحمل سے کام لینا چاہیے اور احتیاط کے ساتھ سفارتکاری اور مکالمہ جاری رکھنا چاہیے۔

‘انہوں نے کہاکہ امریکا کو اپنی ذمہ داریاں سنجیدگی سے قبول کرنی چاہیے، سیاسی ایمانداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کا واضح عہد کرنا چاہیے اور ایران کے ساتھ مذاکرات کا دوبارہ آغاز کرنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یورپی فریقوں کو "مائیکروفون سفارتکاری” کو ترک کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے اور اختلافات کو حل کرنے میں تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے۔چین کے مندوب نے کہا کہ ایران نے بار بار اپنے جوہری پروگرام کے پُرامن ہونے کا یقین دلایا ہے اور یہ کہ اس کا کوئی جوہری ہتھیار تیار کرنے کا ارادہ نہیں ہے۔

ایران نے تمام فریقوں کے ساتھ تعاون کا عزم ظاہر کیا ہے اور مسائل کے حل کے لیے سرگرم کوششیں کی ہیں۔ سن لی نے کہا کہ چین متعلقہ ممالک سے اپیل کرتا ہے کہ وہ ایران کی نیک نیتی اور مثبت اقدامات کو اہمیت دیں اور یکطرفہ دباؤ اور مداخلت کے اقدامات سے گریز کریں۔سن لی نے کہا کہ تمام فریقوں کو ایک دوسرے کی معقول سیکیورٹی تشویشات کا احترام کرنا چاہیے، مساوی بنیادوں پر مکالمہ کے ذریعے کشیدگی کم کرنی چاہیے، باہمی اعتماد قائم کرنا چاہیے اور جلد از جلد ایک ایسا حل تلاش کرنا چاہیے جو عالمی برادری کی توقعات پر پورا اترے۔

انہوں نے کہاکہ چین نے ایران جوہری مسئلے پر مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے لیے عالمی سطح پر کوششوں میں اپنا کردار ادا کرنے کی عزم کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ چین سلامتی کونسل کے مستقل رکن اور جے سی پی او اےکا حصہ ہونے کے ناطے ہمیشہ ایران جوہری مسئلے پر تعمیری کردار ادا کرتا رہا ہے اور امن و مذاکرات کی حمایت کرتا ہے۔ ہم تمام فریقوں کے ساتھ مل کر مذاکرات کے دوبارہ آغاز کی کوششیں جاری رکھیں گے اور عالمی جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام کا تحفظ کریں گے۔

مزید خبریں