ایران نے امریکا سے مذاکرات کی درخواست کی تردید کر دی

تہران ۔28جنوری (اے پی پی):ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران نے حالیہ دنوں میں امریکا سے کسی قسم کے مذاکرات کی درخواست نہیں کی اور نہ ہی امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف سے کوئی رابطہ ہوا ہے۔ تاس کے مطابق عباس عراقچی نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر دباؤ اور دھمکیوں کے ماحول میں مذاکرات ممکن نہیں۔ایرانی وزیر خارجہ …

تہران ۔28جنوری (اے پی پی):ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران نے حالیہ دنوں میں امریکا سے کسی قسم کے مذاکرات کی درخواست نہیں کی اور نہ ہی امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف سے کوئی رابطہ ہوا ہے۔ تاس کے مطابق عباس عراقچی نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر دباؤ اور دھمکیوں کے ماحول میں مذاکرات ممکن نہیں۔ایرانی وزیر خارجہ کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا کی ایک اور “بحری طاقت” ایران کی جانب بڑھ رہی ہے اورامریکا ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی امید رکھتا ہے۔

عباس عراقچی نے کہا کہ اگرچہ بعض ثالث ممالک ایران کے ساتھ مشاورت اور رابطے میں ہیں، تاہم ایران کی جانب سے کسی براہِ راست مذاکرات کی درخواست نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ دھمکیوں کے سائے میں بات چیت نہیں ہو سکتی اور مذاکرات صرف اسی صورت میں ممکن ہیں جب دباؤ اور غیر معمولی مطالبات ختم کیے جائیں۔ادھر امریکی حکام کے مطابق ایران میں حالیہ ملک گیر مظاہروں کے بعد امریکا نے خلیج میں اضافی فوجی اثاثے تعینات کیے ہیں۔

ان مظاہروں کے نتیجے میں ایران میں 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سخت ترین کریک ڈاؤن دیکھنے میں آیا۔دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے گفتگو میں کہا ہے کہ ایران بین الاقوامی قوانین کے دائرہ کار میں کسی بھی ایسے عمل کا خیرمقدم کرتا ہے جو جنگ کے خطرے کو روکنے میں مددگار ثابت ہو۔