تہرا ن ۔6نومبر (اے پی پی):ایران نے جوہری سائنسدان کے قتل کے الزام میں تین افراد کو سزائے موت سنا دی۔العربیہ کے مطابق ایران کی عدلیہ نے کہا کہ 2020 میں ملک کے ایک اعلیٰ جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کے قتل کے الزام میں تین افراد کو موت کی سزا سنائی گئی ہے۔ عدلیہ کے ترجمان اصغر جہانگیر نےایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ان تینوں افراد کی عدالتی …
ایران نے جوہری سائنسدان کے قتل کے الزام میں تین افراد کو سزائے موت سنا دی

مزید خبریں
تہرا ن ۔6نومبر (اے پی پی):ایران نے جوہری سائنسدان کے قتل کے الزام میں تین افراد کو سزائے موت سنا دی۔العربیہ کے مطابق ایران کی عدلیہ نے کہا کہ 2020 میں ملک کے ایک اعلیٰ جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کے قتل کے الزام میں تین افراد کو موت کی سزا سنائی گئی ہے۔
عدلیہ کے ترجمان اصغر جہانگیر نےایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ان تینوں افراد کی عدالتی کارروائی ارومیہ کی انقلابی عدالت میں کی گئی اور ابتدائی مرحلے میں انہیں موت کی سزا سنائی گئی۔ اور یہ مقدمہ اس وقت اپیل کے مرحلے میں ہے۔انہوں نے کہاکہ مغربی صوبے آذربائیجان میں گرفتار کیے گئے آٹھ میں سے تین افراد پر کچھ تحقیقات کے بعد اسرائیل کی قابض حکومت کے لیے جاسوسی کا الزام لگایا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان تینوں پر شراب والے مشروبات کی سمگلنگ کی آڑ میں شہید فخری زادہ کے قتل کے لیے سامان ایران منتقل کرنے کا بھی الزام ہے۔فخری زادہ اس وقت ہلاک ہو گئے تھے جب نومبر 2020 میں دارالحکومت کے باہر ایک ہائی وے پر ان کی گاڑی پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا تھا جس کا الزام ایران نے اپنے حلیف دشمن اسرائیل پر لگایا تھا۔
دسمبر 2022 میں عدلیہ کے اس وقت کے ترجمان مسعود ستائشی نے کہا کہ قتل میں اسرائیل کے ساتھ مل کر مشتبہ سازش کرنے کی بنا پر نو افراد کو "بدعنوانی” کے سنگین جرم کا ملزم قرار دیا گیا۔
فخری زادہ کو جب قتل کیا گیا تو وہ ایران کے جوہری پروگرام میں اپنے کردار کی وجہ سے امریکی پابندیوں کی زد میں تھے۔ایرانی حکام نے بتایا کہ حملہ آوروں نے انہیں قتل کرنے کے لیے ایک بم اور ریموٹ کنٹرول مشین گن کا استعمال کیا۔








