ایران کی مجلس خبرگان رہبری نے سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر منتخب کرلیا

تہران ۔9مارچ (اے پی پی):ایران کی’’ مجلس خبرگان رہبری ‘‘ نے 28 فروری 2026 کو امریکی و اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے بیٹے سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر منتخب کرلیا،1979 کے انقلاب ایران کے بعد وہ ملک کے تیسرے منتخب سپریم لیڈر ہیں۔ العربیہ اردو کے مطابق ایران کی 88 ارکان پر …

تہران ۔9مارچ (اے پی پی):ایران کی’’ مجلس خبرگان رہبری ‘‘ نے 28 فروری 2026 کو امریکی و اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے بیٹے سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر منتخب کرلیا،1979 کے انقلاب ایران کے بعد وہ ملک کے تیسرے منتخب سپریم لیڈر ہیں۔

العربیہ اردو کے مطابق ایران کی 88 ارکان پر مشتمل مجلسِ خبرگانِ رہبری نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ غیر معمولی اجلاس میں مجلس کے نمائندوں کی فیصلہ کن ووٹنگ کی بنیاد پر مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کو اسلامی جمہوریہ کا تیسرا سپریم لیڈر مقرر کیا ہے۔

مجلسِ خبرگانِ رہبری نے ایرانی عوام سے اتحاد برقرار رکھنے اور نئے سپریم لیڈر کی حمایت کرنے کی اپیل بھی کی۔ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی کا کہنا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای ان حساس حالات میں ایران کی قیادت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ہم نئے سپریم لیڈر کے پیچھے متحد ہو کر کھڑے ہونے کی اپیل کرتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ماہرین کی مجلس نے حملوں کے خطرات کے باوجود مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر منتخب کیا ۔ شہید سید علی خامنہ ای کے دوسرے بیٹےمجتبیٰ حسینی خامنہ ای 8 ستمبر 1969 کو شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد میں پیدا ہوئے،ان کی پرورش 1979 میں ایران میں شہنشاہیت کے خاتمے کے بعد تشکیل پانے والے مذہبی اور سیاسی ماحول میں ہوئی ۔

ان کا تعلق ایران کے ایک معروف مذہبی خاندان سے ہے۔ انہوں نے اپنی ثانوی تعلیم تہران کے علوی مذہبی سکول سے حاصل کی بعد ازاں 1999 میں وہ مذہبی تعلیم جاری رکھنے کے لیے حوزہ علمیہ قم منتقل ہو گئے۔

مزید خبریں