اسلام آباد۔22جنوری (اے پی پی):ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) اور بلغاریہ کی نیوز ایجنسی (بی ٹی اے) نے خبروں کے تبادلے اور قریبی ادارہ جاتی روابط کو فروغ دینے کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان معلومات کے بہاؤ کو یقینی بنانا اور قارئین کو دونوں طرف سے معتبر خبروں تک براہ راست رسائی حاصل کرنے میں …
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان اور بلغاریہ کی نیوز ایجنسی بی ٹی اے کے درمیان خبروں کے تبادلے اور قریبی روابط کے فروغ کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط

مزید خبریں
اسلام آباد۔22جنوری (اے پی پی):ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) اور بلغاریہ کی نیوز ایجنسی (بی ٹی اے) نے خبروں کے تبادلے اور قریبی ادارہ جاتی روابط کو فروغ دینے کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان معلومات کے بہاؤ کو یقینی بنانا اور قارئین کو دونوں طرف سے معتبر خبروں تک براہ راست رسائی حاصل کرنے میں مدد کرنا ہے۔ اے پی پی کے منیجنگ ڈائریکٹر محمد عاصم کھچی اور بی ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل کریل والچیو نے ایم او یو پر دستخط کیے ۔ سیکرٹری اطلاعات و نشریات اشفاق خلیل اور بلغاریہ کی سفیر ارینا گانچیوا کی موجودگی میں ایم او یو پر دستخط کیے گئے۔
یہ معاہدہ دونوں قومی خبر رساں اداروں کے درمیان تعاون کا فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ ایم او یو کے تحت، اے پی پی اور بی ٹی اے باقاعدگی سے خبروں کے مواد، تصاویر اور ادارہ جاتی تعاون کا اشتراک کریں گے۔ تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کے بعد خبروں کی ترسیل میں اے پی پی کے کردار کو اجاگر کرنے سے متعلق ڈاکومنٹری دکھائی گئی۔ اس موقع پر مہمان خصوصی سیکرٹری اطلاعات اشفاق خلیل نے کہا کہ پاکستان اور بلغاریہ کے درمیان باہمی احترام اور تعاون پر مبنی دوستانہ تعلقات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اے پی پی اور بی ٹی اے کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط دو طرفہ تعلقات بالخصوص میڈیا کے شعبے میں ایک اہم پیشرفت ہے۔ یہ ایم او یو دونوں ریاستی خبر رساں ایجنسیوں کے درمیان تعاون کے لیے ایک واضح فریم ورک فراہم کرے گا۔انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ معاہدہ پاکستان اور بلغاریہ کے درمیان تعاون اور تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی راہیں کھولے گا۔ ایم ڈی اے پی پی محمد عاصم کھچی نے بلغاریہ کے مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط پاکستان اور بلغاریہ کے درمیان میڈیا تعاون کے ایک نئے دور کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی کی عکاسی ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اے پی پی اور بی ٹی اے کا مشترکہ مقصد اپنے قارئین کو درست اور بروقت معلومات فراہم کرنا ہے۔ اس ایم او یو کے ذریعے دونوں نیوز ایجنسیاں اپنی کوریج کو وسیع کرنے کے لیے وسائل، تجربے اور مواد کا اشتراک کر سکیں گی۔ایم ڈی محمد عاصم کھچی نے کہا کہ حکومت پاکستان دوسرے ممالک کے ساتھ میڈیا تعاون کو فروغ دینے کے اقدامات کی بھرپور حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے دونوں ایجنسیوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں بلغاریہ کے کردار کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ خبروں کے اشتراک اور ادارہ جاتی رابطہ کاری میں عملی نتائج کا باعث بنے گا۔
انہوں نے بلغاریہ کے شرکا کو اے پی پی کے مکمل تعاون کا یقین دلایا اور کہا کہ تقریب میں بلغاریہ کے سینئر حکام کی موجودگی دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو اہمیت کی عکاسی کرتی ہے۔ ڈائریکٹر جنرل کریل والچیو نے اپنے خطاب میں کہا کہ مفاہمت نامے پر دستخط ، وعدوں کو عملی جامہ پہنا نے کی طرف ایک عملی قدم ہے ۔ الفاظ عمل کے ذریعے ہی معنی حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ دونوں ایجنسیوں کے درمیان روزانہ خبروں کے تبادلے کو یقینی بنا کر تعاون کو اہمیت دے گا۔ کریل والچیو نے کہا کہ مفاہمت نامے کے تحت، بی ٹی اے اور اے پی پی اپنے پلیٹ فارم پر ایک دوسرے کی خبروں اور دیگر مواد کو جگہ فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بی ٹی اے پاکستان سے اے پی پی کی منتخب خبریں شائع کرے گا، اسی طرح اے پی پی بلغاریہ سے متعلق بی ٹی اے کی خبریں لے سکے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس انتظام سے دونوں ممالک کے قارئین، کاروبار سے وابستہ افراد ، سیاحوں اور محققین کو مدد ملے گی اور وہ قابل اعتماد معلومات حاصل کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال پاکستان اور بلغاریہ کے سفارتی تعلقات کے 60 سال مکمل ہوئے۔اے پی پی اور بی ٹی اے کے درمیان یہ اپنی نوعیت کا دوسرا معاہدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں نیوز ایجنسیوں کے درمیان تعاون کا پہلا معاہدہ بی ٹی اے کے قیام کے دو سال بعد مارچ 1967 میں ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بی ٹی اے آرکائیوز نے ابتدائی تعاون کے ریکارڈ کو محفوظ کیا ہواہے۔ کریل والچیو نے کہا کہ بی ٹی اے کے اس وقت 50 قومی خبر رساں ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کے معاہدے ہیں، جن میں ایشیا سے قابل ذکر تعداد ہے۔
انہوں نے کہا کہ اے پی پی اور بی ٹی اے میں کئی مماثلتیں ہیں جن میں ان کی جدید ریاستوں کی آزادی کے بعد ان کا قیام بھی شامل ہے۔ بلغاریہ کی سفیر ارینا گانچیوا نے کہا کہ ایم او یو پر دستخط ایک اہم اور بامعنی لمحہ ہے، جو دونوں ممالک کو بات چیت اور تعاون کے ذریعے قریب لایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی ماحول میں معتبر اور پیشہ ور میڈیا کا اہم کردار ہے، جہاں معلومات تیزی سے سرحدوں کے پار منتقل ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی خبر رساں ایجنسیاں ایک ایسے وقت میں ایک اہم ذمہ داری نبھا رہی ہیں جب معاشروں کو غلط معلومات اور غیر تصدیق شدہ مواد سے متعلق چیلنجز کا سامنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بی ٹی اے اور اے پی پی کے درمیان معاہدہ رسمی انتظامات سے آگے کا مرحلہ ہےاور قابل اعتماد معلومات اور پیشہ ورانہ معیارات کے تبادلے کے ذریعے قریبی تعاون کی طرف ایک قدم کی نمائندگی کرتا ہے۔ معزز سفیر نے کہا کہ میڈیا کا تعاون عوام سے لوگوں کے رابطے میں بھی مدد گاراور ثقافت، تعلیم، معیشت، سائنس اور سیاحت جیسے شعبوں میں مواقع کو اجاگر کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دستخط ایک اہم موقع پر ہوئے ہیں کیونکہ پاکستان اور بلغاریہ نے گزشتہ سال سفارتی تعلقات کی چھ دہائیاں مکمل کی ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے گزشتہ برسوں میں احترام اور تعاون کی بنیاد پر تعلقات استوار کیے ہیں۔ تقریب کا اختتام دونوں فریقین کی جانب سے اس عزم اور اعتماد کے اظہار کے ساتھ ہوا کہ منظم خبروں کے تبادلے سے پاکستان اور بلغاریہ کے عوام کے درمیان آگاہی اور افہام و تفہیم میں بہتری آئے گی۔ تقریب میں پاکستان کی وزارت اطلاعات کے سینئر حکام، سینئر صحافیوں، سفارت کاروں اور دونوں نیوز ایجنسیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔








