اسلام آباد۔14نومبر (اے پی پی):پاکستان کی سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی پی) نے این بی ایف سی ریگولیشنز 2008 میں قرض سے متعلق اہم تبدیلیاں کی ہیں تاکہ جدت کو فروغ دیا جا سکے اور ٹیکنالوجی کے ذریعے لوگوں کو آسانی سے قرض تک رسائی مل سکے۔جمعہ کے روز سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ایس ای سی پی کے فن …
ایس ای سی پی نے این بی ایف سی ریگولیشنز 2008 کے تحت قرض دینے کے طریقہ کار میں اہم تبدیلیاں نوٹیفائی کر دیں

مزید خبریں
اسلام آباد۔14نومبر (اے پی پی):پاکستان کی سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی پی) نے این بی ایف سی ریگولیشنز 2008 میں قرض سے متعلق اہم تبدیلیاں کی ہیں تاکہ جدت کو فروغ دیا جا سکے اور ٹیکنالوجی کے ذریعے لوگوں کو آسانی سے قرض تک رسائی مل سکے۔جمعہ کے روز سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ایس ای سی پی کے فن ٹیک جدت اور سٹارٹ اپس کے لیے سازگار ماحول کے وژن کے مطابق قرض فراہم کرنے والی این بی ایف سیز کے بانیوں اور چیف ایگزیکٹو افسران کے لیے تجربے کی شرط کو نرم کر دیا گیا ہے تاکہ نوجوان کاروباری افراد ریگولیٹڈ ڈیجیٹل لینڈنگ نظام میں آسانی سے شامل ہو سکیں۔مزید یہ کہ ایک سادہ ’’بوروئر فیکٹ شیٹ‘‘ (simplified borrower factsheet)متعارف کرائی گئی ہے تاکہ قرض لینے والوں کی شفاف اور آسان رجسٹریشن ممکن ہو سکے اور صارفین قرض کی شرائط، قیمت اور اپنی ذمہ داریوں کو مکمل طور پر سمجھ سکیں۔کم مالیاتی سہولت رکھنے والے طبقات تک بہتر رسائی اور ان کی مدد کے لیے این بی ایف سی فریم ورک میں ایک نئی سرگرمی شامل کی گئی ہے
جسے کریڈٹ گارنٹی انسٹی ٹیوشن (سی جی آئی) کہا جاتا ہے۔ یہ ادارے قرض دینے والوں کو کریڈٹ گارنٹی فراہم کریں گے اور مالیاتی شعبے میں رسک شیئرنگ کو فروغ دیں گے۔ریگولیشنز میں سی جی آئی کے لیے مزید سخت ایکسپوژر لمٹس اور پائیداری کے معیارات بھی شامل کیے گئے ہیں تاکہ بہتر رسک مینجمنٹ اور طویل المدتی استحکام یقینی بنایا جا سکے۔ان ترامیم میں پیئر ٹو پیئر (پی ٹوپی) لینڈنگ کے شعبے میں اصلاحات شامل ہیں جن کے تحت موجودہ نظام کو بہتر بنایا گیا ہے، سکیورٹائزڈ لینڈنگ کی اجازت دی گئی ہے اور ذمہ دارانہ اور پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کے لیے پرڈینشل لمٹس میں اضافہ کیا گیا ہے۔ان ترامیم کا مقصد قرض دینے والوں کا تحفظ، رقوم کے بہائو میں شفافیت کو فروغ دینا اور پی ٹو پی پلیٹ فارمز کے لیے زیادہ وضاحت پر مبنی تقاضے لازم کرنا ہے۔اس کے علاوہ پی ٹو پی سروس فراہم کرنے والوں کی مالی پائیداری اور مضبوط گورننس کو یقینی بنانے کے لیے بھی نئے اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں۔نان بینکنگ مائیکروفنانس سیکٹر (این بی ایف سیز) کے لیے مائیکرو انٹرپرائز اور ہائوسنگ فنانس کے قرض کی حد 15 لاکھ روپے سے بڑھا کر 30 لاکھ روپے کر دی گئی ہے
جبکہ مائیکرو انٹرپرائز کی تعریف میں بھی تبدیلی کی گئی ہے تاکہ زیادہ لوگوں تک رسائی بڑھائی جا سکے اور چھوٹے کاروبار زیادہ رقم کے قرض حاصل کر سکیں۔خواتین کی شمولیت اور بہتر گورننس کے لیے این بی ایم ایف سیز کے بورڈ میں خواتین ڈائریکٹرز کی تعداد ایک سے بڑھا کر دو کر دی گئی ہے اور کم از کم ایک خاتون ڈائریکٹر کا آزاد ہونا لازمی ہوگا۔ترمیمات کے مطابق اب تمام این بی ایف سیز کے لیے کریڈٹ بیوروز کو رپورٹ کرنا لازمی ہوگا جس سے مکمل کریڈٹ ہسٹری بن سکے گی، قرض لینے والوں کا بہتر انداز میں جائزہ لیا جا سکے گا اور مالیاتی شعبے میں قرض کے نظم و ضبط کو مضبوط بنایا جا سکے گا۔یہ اصلاحات سرمایہ کاروں کے تحفظ، مارکیٹ کی شفافیت اور مالیاتی شعبے کی لچک کو یقینی بناتے ہوئے ایک ذمہ دار، جامع اور ٹیکنالوجی سے چلنے والے قرض دینے والے ماحولیاتی نظام کو فروغ دینے کے لیے ایس ای سی پی کے مسلسل عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔








