ایس ای سی پی کا کمپنیز(فردرایشو آف شیئرز) ریگولیشنز،2020 میں ترامیم کا نوٹیفکیشن جاری

لاہور۔21جنوری (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے کمپنیز(فردرایشو آف شیئرز) ریگولیشنز،2020 میں ترامیم کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے تاکہ لسٹڈ کمپنیوں کے لیے سرمایہ بڑھانے کے عمل کو آسان بنایا جا سکے،اسی طرح سرمایہ کاروں کے لیے مناسب ڈسکلوژرکی ضروریات بھی برقرار رکھی جائیں۔ترجمان نے بتایا کہ یہ ترامیم اس چیلنج کو حل کرتی ہیں جس کا سامنا لسٹڈ کمپنیوں کو موجودہ شیئر …

لاہور۔21جنوری (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے کمپنیز(فردرایشو آف شیئرز) ریگولیشنز،2020 میں ترامیم کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے تاکہ لسٹڈ کمپنیوں کے لیے سرمایہ بڑھانے کے عمل کو آسان بنایا جا سکے،اسی طرح سرمایہ کاروں کے لیے مناسب ڈسکلوژرکی ضروریات بھی برقرار رکھی جائیں۔ترجمان نے بتایا کہ یہ ترامیم اس چیلنج کو حل کرتی ہیں جس کا سامنا لسٹڈ کمپنیوں کو موجودہ شیئر ہولڈرز سے رائٹس ایشو کے ذریعے مزید سرمایہ حاصل کرنے میں ہوتا تھا۔گزشتہ فریم ورک کے تحت،لسٹڈ کمپنیوں پر پابندی تھی کہ وہ رائٹس ایشو کا اعلان نہ کریں اگر کمپنی، اس کے اسپانسرز، پروموٹرز، اہم شیئر ہولڈرز یا ڈائریکٹرز کے کریڈٹ انفارمیشن بیورو (CIB) رپورٹ میں کوئی واجب الادا رقم یا ڈیفالٹ موجود ہو۔

اس پابندی کی وجہ سے مالی طور پر دبائومیں ہونے والی مگر قابل عمل کمپنیوں کے لیے سرمایہ بڑھانا مشکل ہو گیا، حالانکہ ایسے حالات میں موجودہ شیئر ہولڈرز کمپنی کی بحالی، دوبارہ تنظیم یا کاروبار کے تسلسل میں مدد کرنے کے لیے تیار تھے۔ترمیم شدہ فریم ورک کے تحت، صاف کریڈیٹ انفارمیشن بیورو کی رپورٹ کی شرط اس صورت میں لاگو نہیں ہوگی، اگر متعلقہ افراد متعلقہ مالیاتی اداروں سے مجوزہ رائٹس ایشو کے لیے این او سی فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ شفافیت کو یقینی بنانے اور سرمایہ کاروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے ایسی صورتوں میں کمپنیوں کو رائٹس آفر ڈاکیومنٹ میں جامع انکشافات کرنا لازمی ہوں گے اور ان انکشافات میں کسی بھی ڈیفالٹ یا واجب الادا رقم کی تفصیلات، جاری وصولی کے اقدامات اور کسی بھی قرض کی دوبارہ ترتیب کی حیثیت شامل ہونی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ترمیم شدہ ریگولیشنز کارپوریٹ بحالی کی سہولت اور سرمایہ کاروں کو باخبر سرمایہ کاری کے فیصلے کرنے کے قابل بنانے کے درمیان مناسب توازن قائم کرتے ہیں جبکہ ان ترامیم کی اطلاع ایک مشاورتی عمل کے بعد جاری کی گئی ہے جس میں ایس ای سی پی نے مارکیٹ کے مختلف اسٹیک ہولڈرز سے رائے طلب کی جن میں لسٹڈ کمپنیز، ایشو کنسلٹنٹس، پیشہ ورانہ ادارے، صنعتی تنظیمیں، لاء فرمیں اور کیپیٹل مارکیٹ کے ادارے شامل تھے۔ ترجمان نے توقع ظاہر کی کہ یہ ترامیم مارکیٹ کے اعتماد کو بڑھائیں گی، لسٹڈ کمپنیوں کے لیے سرمایہ تک رسائی کو بہتر اور رائٹس ایشو کے فریم ورک میں شفافیت کو مضبوط کریں گی۔