ایس ای سی پی کی چھوٹے کاروباروں کی سرمائے کے حصول کیلئے سٹاک ایکسچینج تک رسائی آسان بنانے کیلئے آئی پی او شرائط میں نرمی
ایس ای سی پی کی چھوٹے کاروباروں کی سرمائے کے حصول کیلئے سٹاک ایکسچینج تک رسائی آسان بنانے کیلئے آئی پی او شرائط میں نرمی
اسلام آباد۔4جون (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے شراکت داری میں چلنے والے کاروباروں اور لمیٹڈ لائیبلٹی پارٹنرشپس کے لیے پاکستان سٹاک ایکسچینج کے ذریعے سرمایہ حاصل کرنا مزید آسان بنا دیا ہے۔نئی سہولت کے تحت ایسے کاروبار جو سٹاک ایکسچینج کے ذریعے سرمایہ حاصل کرنا چاہتے ہیں، اپنے کاروبار کو ایس ای سی پی میں کمپنی کے طور پر رجسٹر کروا سکیں گے تاہم ابتدائی عوامی پیشکش کے لیے اہلیت حاصل کرنے کی غرض سے وہ کمپنی میں تبدیل ہونے سے قبل اپنے کاروبار کی سابقہ منافع بخش مالی کارکردگی اور مالیاتی گوشواروں کو بھی استعمال کر سکیں گے۔
یہ سہولت پبلک آفرنگ ریگولیشنز 2017 میں ترامیم کے ذریعے فراہم کی گئی ہے۔ ان اصلاحات کا مقصد لسٹنگ کے عمل کو مزید آسان بنانا اور کارپوریٹائزیشن کو فروغ دینا اور سرمایہ کاری منڈیوں تک رسائی کو وسعت دینا ہے۔نظرثانی شدہ فریم ورک کے تحت اہل کاروبار اب کمپنی کی حیثیت اختیار کرنے سے قبل اپنی منافع بخش کاروباری گوشواروں کو آئی پی او کے لیے درکار دو سالہ منافع بخش ریکارڈ کی شرط پوری کرنے کے لیے استعمال کر سکیں گے۔ اس اقدام سے ایسے مستحکم کاروباروں کے لیے سٹاک ایکسچینج سے کاروبار کے فروغ کے لیے سرمایہ حاصل کرنے میں حائل ایک بڑی رکاوٹ دور ہو جائے گی تاہم سرمایہ کاروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے نظرثانی شدہ ضوابط میں متعدد حفاظتی اقدامات بھی شامل کیے گئے ہیں۔
اہل کاروباروں کو گزشتہ کم از کم دو مالی سالوں کے نظرثانی شدہ مالیاتی گوشوارے تیار کرنا ہوں گے جن کا آڈٹ کوالٹی کنٹرول ریویو سے منظور شدہ آڈٹ فرم کے ذریعے کیا گیا ہو۔ انہیں اس مدت کے آڈٹ شدہ مالیاتی گوشوارے بھی جمع کرانا ہوں گے جس دوران کمپنی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے طور پر کام کر رہی ہو۔ مزید برآں سپانسرز کے تمام حصص لسٹنگ کے بعد دو سال تک تبدیل نہیں کیے جا سکیں گے۔ پبلک آفرنگ ریگولیشنز 2017 میں کی گئی ان ترامیم کا نوٹیفکیشن ایس ای سی پی کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔









