اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازعہ ٹویٹ کیس کی سماعت کے دوران سٹیٹ کونسل کو جرح کی تیاری کے لئے وقت دیتے ہوئے سماعت 27 نومبر تک ملتوی کر دی۔ منگل کے روز ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے سماعت کی۔ کارروائی کے آغاز پر عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی …
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازعہ ٹویٹ کیس کی سماعت ، سٹیٹ کونسل کو جرح کی تیاری کیلئے وقت دیتے ہوئے سماعت 27 نومبر تک ملتوی

مزید خبریں
اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازعہ ٹویٹ کیس کی سماعت کے دوران سٹیٹ کونسل کو جرح کی تیاری کے لئے وقت دیتے ہوئے سماعت 27 نومبر تک ملتوی کر دی۔
منگل کے روز ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے سماعت کی۔ کارروائی کے آغاز پر عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے لئے نیا سٹیٹ کونسل مقرر کرتے ہوئے شکیل احمد ایڈووکیٹ کو تعینات کر دیا۔
سماعت کے دوران ہادی علی چٹھہ نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا تاہم پراسیکیوٹر کی جانب سے بار بار مداخلت پر دونوں کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ ہادی علی چٹھہ نے عدالت پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی فردِ جرم کے خلاف اپیل اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر التوا ہے۔
عدالت نے کارروائی کا حکم نامہ تحریر کرنا شروع کیا تو جج افضل مجوکہ کی جانب سے توہینِ عدالت کا تذکرہ کیا گیا تاہم ایمان مزاری اور ہادی علی کی استدعا پر جج نے یہ جملہ حکم نامہ سے حذف کرانے کی ہدایت کی۔ جج نے ریمارکس دیئے کہ جہاں میری ذات کا تعلق ہے، میں سرنڈر کردوں گا مگر جہاں بات قانون کی ہوگی وہاں قانون پر عمل ہو گا۔
نئے سٹیٹ کونسل شکیل جٹ نے گواہان پر جرح کرنے سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں مناسب وقت نہیں دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں گزشتہ روز چار بجے اطلاع دی گئی مگر مقدمے کی فائل فراہم نہیں کی گئی۔ شکیل جٹ نے جرح کی تیاری کے لئے مزید وقت دینے کی استدعا کی۔عدالت نے کیس کی سماعت 27 نومبر تک ملتوی کر دی۔








