اقوام متحدہ ۔11مارچ (اے پی پی):اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ ایندھن کی شدید قلت کے باعث کیوبا میں انسانی بحران پیدا ہو گیا ہے جبکہ ملک کا صحت کا نظام بھی ایک نازک مرحلے کے قریب پہنچ چکا ہے۔شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹر ی جنرل کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے بریفنگ میں بتایا کہ ایندھن درآمد نہ کر سکنے کی وجہ سے کیوبا میں توانائی کا …
ایندھن کی شدید قلت کے باعث کیوبا میں انسانی بحران پیدا ہو گیا ہے ، اقوام متحدہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔11مارچ (اے پی پی):اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ ایندھن کی شدید قلت کے باعث کیوبا میں انسانی بحران پیدا ہو گیا ہے جبکہ ملک کا صحت کا نظام بھی ایک نازک مرحلے کے قریب پہنچ چکا ہے۔شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹر ی جنرل کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے بریفنگ میں بتایا کہ ایندھن درآمد نہ کر سکنے کی وجہ سے کیوبا میں توانائی کا بحران شدت اختیار کر رہا ہے جس کے نتیجے میں بنیادی خدمات متاثر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صورتحال پر گہری تشویش رکھتا ہے اور امدادی سرگرمیوں کو ممکن بنانے کے لیے مختلف رکن ممالک سے رابطے کر رہا ہے۔اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور (اوسی ایچ اے ) کے مطابق ایندھن کی کمی کے باعث ہسپتالوں میں بار بار بجلی کی بندش، ضروری ادویات کی قلت اور طبی آلات چلانے میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ اس صورتحال نے کینسر کے علاج، ڈائیلاسس، ہنگامی طبی خدمات اور ماں اور بچوں کی دیکھ بھال جیسے شعبوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ادارے کے مطابق کینسر کے تقریباً 16 ہزار مریضوں کو ریڈیو تھراپی جبکہ 12 ہزار سے زیادہ مریضوں کو کیموتھراپی کی ضرورت ہے، مگر بجلی کی بندش اور وسائل کی کمی کے باعث علاج متاثر ہو رہا ہے۔ ایمبولینس سروس بھی ایندھن کی کمی کے باعث متاثر ہے جس سے ہنگامی مریضوں کی منتقلی میں تاخیر ہو رہی ہے۔اقوام متحدہ نے بتایا کہ تقریباً دس لاکھ افراد پینے کے پانی کے لیے ٹینکرز پر انحصار کرتے ہیں، جبکہ ملک کے 80 فیصد سے زیادہ پانی پمپ کرنے کے نظام بجلی پر چلتے ہیں، اس لیے بجلی کی بندش سے پانی کی فراہمی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ خوراک کی فراہمی کا نظام بھی متاثر ہوا ہے کیونکہ خوراک کی پیداوار، ذخیرہ اور ترسیل کے مراحل میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں اور کولڈ اسٹوریج نظام ناکارہ ہونے کے باعث بنیادی اشیائے خورونوش کی دستیابی کم ہوتی جا رہی ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق انسانی امداد فراہم کرنے والی تنظیمیں مدد کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم ایندھن کی کمی کے باعث خوراک اور پانی لے جانے والے ٹرکوں کی سرگرمیاں محدود ہو گئی ہیں جبکہ کئی امدادی کنٹینرز بندرگاہوں پر رکے ہوئے ہیں۔








