ایندھن کے اخراج کے باعث ناسا کا انسان بردار قمری مشن مارچ تک موخر

واشنگٹن ۔4فروری (اے پی پی):ناسا نےحتمی آزمائشی مراحل کے دوران ایندھن کے اخراج (لیکس) سامنے آنے کے بعد چاند کی طرف پہلے انسان بردار خلائی مشن کی لانچ مارچ تک موخر کر دیاہے، جو گزشتہ پچاس سالوں میں اپنی نوعیت کا پہلا مشن ہوگا۔اے ایف پی کے مطابق امریکی خلائی ادارے نے بتایا کہ جس آزمائشی مرحلے کو ویٹ ڈریس ریہرسل کہا جاتا ہے، اس کے دوران پیش آنے والی …

واشنگٹن ۔4فروری (اے پی پی):ناسا نےحتمی آزمائشی مراحل کے دوران ایندھن کے اخراج (لیکس) سامنے آنے کے بعد چاند کی طرف پہلے انسان بردار خلائی مشن کی لانچ مارچ تک موخر کر دیاہے، جو گزشتہ پچاس سالوں میں اپنی نوعیت کا پہلا مشن ہوگا۔اے ایف پی کے مطابق امریکی خلائی ادارے نے بتایا کہ جس آزمائشی مرحلے کو ویٹ ڈریس ریہرسل کہا جاتا ہے، اس کے دوران پیش آنے والی خرابیوں کے باعث یہ امکان ختم ہو گیا کہ مشن اتوار کو لانچ کیا جا سکے۔

اب اگلی ممکنہ لانچ ونڈو 6 مارچ کو کھلے گی۔دو روزہ ٹیسٹ کے دوران سپیس لانچ سسٹم (ایس ایل ایس) راکٹ میں مائع ہائیڈروجن اور مائع آکسیجن بھری گئی، تاہم آزمائش کے دوران ہائیڈروجن کے اخراج کے متعدد مسائل سامنے آئے۔ناسا کے ایڈمنسٹریٹر جیرڈ آئزک مین نےبیان میں کہا کہ ٹیمیں ابتدا میں کچھ لیکس پر قابو پانے میں کامیاب رہیں، لیکن فرضی کاؤنٹ ڈاؤن کے ٹی مائنس پانچ منٹ کے قریب پہنچنے پر لیک مزید سنگین ہو گئی، جس کے باعث آپریشن روک دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ناسا اس تاریخی مشن کو مکمل تیاری کے یقین کے بغیر لانچ نہیں کرے گا۔

ناسا حکام کے مطابق ہائیڈروجن محفوظ طریقے سے قابو کرناانتہائی مشکل ہوتا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ لیکس کے علاوہ ٹیموں کو ہیچ پریشرائزیشن سے متعلق ایک والو کے مسئلے اور آڈیو کمیونیکیشن میں تعطل کا بھی سامنا کرنا پڑا۔یہ مسائل آرتیمس ون مشن کے دوران پیش آنے والی خرابیوں سے مماثلت رکھتے ہیں، جس کے باعث 2022 میں ہونے والی اس بغیر عملے کی آزمائشی پرواز کئی ماہ تاخیر کا شکار رہی تھی۔

آرٹیمس ٹو مشن مینجمنٹ ٹیم کے سربراہ جان ہنی کٹ نے کہا کہ آرٹیمس ون میں سامنے آنے والی لیکس کو سمجھنے کے لیے سخت اور تفصیلی ٹیسٹنگ کی گئی تھی، تاہم زمینی ٹیسٹس میں تمام حقیقی حالات کو مکمل طور پر شامل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ راکٹ کے پیچیدہ نظام کے باعث یہ مسئلہ غیر متوقع طور پر سامنے آیا۔مشن منیجرز کے مطابق جمع کیے گئے ڈیٹا کا تجزیہ کیا جا رہا ہے اور ایک اور ڈریس ریہرسل سے قبل ضروری مرمتیں کی جائیں گی، جنہیں فی الحال فلوریڈا کے لانچ پیڈ پر ہی انجام دیا جا سکتا ہے۔

آرٹیمس ٹو مشن کے تحت چار خلا بازوں کو تقریباً 10 روزہ پرواز کے دوران چاند کے گرد بھیجا جائے گا، جو آئندہ مرحلے میں چاند پر انسانی لینڈنگ کے منصوبے کی بنیاد فراہم کرے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ وہ خلا میں امریکی قیادت کے اظہار کے لیے جلد از جلد خلا بازوں کو دوبارہ چاند پر بھیجنا چاہتے ہیں۔لانچ میں تاخیر کے باعث آرٹیمس ٹو کے خلا بازوں کا ہیوسٹن میں قرنطینہ ختم کردیا گیا ہے، جبکہ ٹیم کمانڈر ریڈ وائز مین کے مطابق عملہ مارچ میں متوقع لانچ کے لیے دوبارہ تربیت کا آغاز کرے گا۔

مزید خبریں