کراچی ۔ 12 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی رانا تنویر نے کہا ہے کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشنوگرافی ( این آئی او) ایک اہم ادارہ ہے جو ملک کی سمندری حدود پر سروے اور تحقیق کرتا ہے اور وقت بوقت حکومت کو سمندر سے وابستہ مسائل پر تجاویز دیتا ہے، این آئی او کو شپ کی فراہمی پر وزارت غور کر رہی ہے۔ ان خیالات …
این آئی او اہم ادارہ ہے جو سمندری حدود پر سروے اور تحقیق کا کام کرتا ہے، سمندر سے وابستہ مسائل پر تجاویز دیتا ہے، وفاقی وزیر رانا تنویر

مزید خبریں
کراچی ۔ 12 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی رانا تنویر نے کہا ہے کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشنوگرافی ( این آئی او) ایک اہم ادارہ ہے جو ملک کی سمندری حدود پر سروے اور تحقیق کرتا ہے اور وقت بوقت حکومت کو سمندر سے وابستہ مسائل پر تجاویز دیتا ہے، این آئی او کو شپ کی فراہمی پر وزارت غور کر رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشنو گرافی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے اجلاس میں اور میڈیا کو بریفنگ کے دوران کیا۔ اجلاس میں ادارے کے پانچ سالہ منصوبے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر آصف انعام نے بتایا کہ سمندر میں تحقیق اور سروے کے لئے ادارے کو شپ کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں پاک بحریہ، سپارکو، وزارت دفاع اور دیگر اداروں کے اعلی حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر رانا تنویر نے کہا کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشنو گرافی ایک اہم ادارہ ہے جو ملک کی سمندری حدود پر سروے اور تحقیق کرتا ہے اور وقت بوقت حکومت کو سمندر سے وابستہ مسائل پر تجاویز دیتا ہے۔ اس موقع پر وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی کے سیکرٹری فضل عباسی نے کہا کہ بدین اور ٹھٹہ کی ساحلی پٹی کو سمندری کٹاﺅ سے بچانے کے لئے پانچ سالہ پروجیکٹ بنایا گیا ہے، منصوبے کی پی سی ون بن چکی ہے اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت مکمل کی جا چکی ہے۔








