اسلام آباد ۔ 18 اگست (اے پی پی) نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے موجودہ حکومت کے دو سال کے دوران 83.079 ارب روپے کے محصولات حاصل کئے جو مالی سال 2018-19ءمیں 33.011 ارب روپے تھے اور اب مالی سال 2019-20ءمیں بڑھ کر 50.068 ارب روپے ہو گئے ہیں۔ حکومت کی طرف سے پیش کی گئی دو سالہ کارکردگی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے …
این ایچ اے نے موجودہ حکومت کے دو سال کے دوران 83.079 ارب روپے کے محصولات حاصل کئے، انسداد تجاوزات مہم کے دوران 4.12 ارب روپے مالیت کی 448 کنال اراضی بھی واگزار کرائی گئی، دو سالہ کارکردگی رپورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 18 اگست (اے پی پی) نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے موجودہ حکومت کے دو سال کے دوران 83.079 ارب روپے کے محصولات حاصل کئے جو مالی سال 2018-19ءمیں 33.011 ارب روپے تھے اور اب مالی سال 2019-20ءمیں بڑھ کر 50.068 ارب روپے ہو گئے ہیں۔ حکومت کی طرف سے پیش کی گئی دو سالہ کارکردگی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے 2 سال کے دوران بہترین منصوبہ بندی، اخراجات میں کمی، کفایت شعاری اور شفافیت کے ذریعے نہ صرف ریونیو میں اضافہ کیا بلکہ اداروں کے خسارہ میں کمی بھی کی۔ ماضی کی حکومتوں نے اس سلسلہ میں کوئی سنجیدہ کوششیں نہیں کی تھیں اور مالی سال 2017-18ءکے دوران نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے محصولات صرف 28 ارب روپے تھے، اس دوران کسی قسم کی آڈٹ ریکوری نہیں کی گئی اور نہ ہی تجاوزات مافیا سے کوئی زمین واگزار کرائی گئی۔ این ایچ اے کے نیٹ ورک کے ساتھ ماضی کی حکومت نے کوئی شجرکاری تک نہیں کی لیکن موجودہ حکومت نے اچھے اسلوب حکمرانی متعارف کراتے ہوئے این ایچ اے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے ساتھ ساتھ باہدف ادارہ بنایا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ این ایچ اے کے اس وژن کا مقصد بین الصوبائی منسلکی میں اضافہ اور شمال جنوب موٹرویز کے نیٹ ورک کو مکمل کرنا ہے جس سے نہ صرف مقامی لوگوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں بلکہ محصولات میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو رہا ہے۔ این ایچ اے شرقاً غرباً منسلکی کیلئے بھی اپنے نیٹ ورک کو مستحکم بنا رہی ہے جس کیلئے بلوچستان میں طویل ترین نیٹ ورک بناﺅ، چلاﺅ اور منتقل کرو، کی بنیاد پر نجی شعبہ کی شراکت داری کے ساتھ تعمیر کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے موجودہ دور کے منصوبے قومی خزانہ پر بوجھ نہیں بلکہ لاگت میں کمی کے ساتھ ساتھ مفاد عامہ کو محور بنا کر تعمیر کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پسماندہ علاقوں میں روڈ نیٹ ورک کی تعمیر سے مقامی لوگوں کو روزگار ملے گا اور مجموعی ترقی کی شرح میں بھی اضافہ ہو گا۔ غیر ضروری اخراجات میں کمی کیلئے بھی مو¿ثر حکمت عملی اختیار کی گئی ہے۔ گذشتہ دو سال کے دوران سرکاری نجی شعبہ کی شراکت داری کے ذریعے شروع کئے گئے منصوبوں اور آڈٹ ریکوریز کے ذریعے 100.52 ارب روپے بھی وصول کئے گئے ہیں۔ تجاوزات کے خلاف مہم کے دوران رائٹ آف وے کو تجاوزات سے پاک کیا گیا ہے اور ای ٹینڈرنگ اور ای بلنگ کا نظام متعارف کرایا گیا۔ گذشتہ دو سال کے دوران سی پیک کے چار منصوبے مکمل کئے گئے ہیں، دو منصوبے جاری ہیں اور دو کی منظوری دی گئی ہے۔ انسداد تجاوزات مہم کے دوران 4.12 ارب روپے مالیت کی 448 کنال اراضی بھی واگزار کرائی گئی ہے۔ شجرکاری مہم کے ذریعے 7 لاکھ 63 ہزار 53 پودے لگائے گئے ہیں جس کیلئے نوجوانوں کے تربیتی پروگرام بھی شروع کئے گئے ہیں۔ سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے تحت مالی سال 2020-21ءکیلئے این ایچ اے کے مختلف منصوبوں کیلئے 154.96 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ گذشتہ مالی سال کے دوران 155.1 ارب روپے مختص کئے گئے جو 100 فیصد خرچ کئے گئے ہیں۔ این ایچ اے کے 12 منصوبے مالی سال 2019-20ءکے دوران مکمل کئے گئے جو 1640 کلومیٹر طویل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تین مراحل پر مشتمل جیوگرافک انفارمیشن سسٹم کا اجراءکر دیا گیا ہے یہ منصوبہ 12 دسمبر تک مکمل ہو جائے گا۔ حیدرآباد۔سکھر موٹروے ایم۔6، لیاری مال بردار راہداری، سیالکوٹ۔کھاریاں موٹروے، کھاریاں۔راولپنڈی موٹروے کی فزیبلٹی رواں سال مکمل کی جائے گی تاہم کراچی۔کوئٹہ۔چمن روڈ این۔25 کو دو رویہ کرنے کے علاوہ شاہدرہ فلائی اوور این۔5، بلکسر روڈ کو دو رویہ کرنے، میانوالی۔مظفرگڑھ کے منصوبے بھی بی او ٹی کے تحت تعمیر کئے جائیں گے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے منصوبوں سے متعلق آگاہی اور عوامی شکایات کے ازالہ کیلئے ای کچہریوں کے انعقاد کا بھی اہتمام کیا ہے اور چیئرمین این ایچ اے کی طرف سے کھلی کچہریوں کے انعقاد کے ذریعے مفید معلومات کا تبادلہ کیا جا رہا ہے اور عوام کو این ایچ اے کی کارکردگی اور سرگرمیوں سے باخبر رکھا جا رہا ہے۔ موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے این ایچ اے اپنے صارفین کو باخبر رکھ رہا ہے جبکہ گذشتہ دو سال کے دوران مال برداری اور لاجسٹک پالیسی این ای ایل پی سے متعلق قانونی مسودہ بھی مرتب کیا گیا ہے اور اس پالیسی کے نفاذ کی سفارش کی گئی ہے، یہ مسودہ جلد کابینہ کو پیش کر دیا جائے گا۔








