این اے سی نے جاری مالی سال کی تیسری سہ ماہی اور سالانہ تخمینوں کی منظوری دیدی،ملکی معیشت کا مجموعی حجم 126.9 کھرب روپے تک پہنچ گیا، فی کس آمدنی 1901 ڈالررہی

این اے سی نے جاری مالی سال کی تیسری سہ ماہی اور سالانہ تخمینوں کی منظوری دیدی،ملکی معیشت کا مجموعی حجم 126.9 کھرب روپے تک پہنچ گیا، فی کس آمدنی 1901 ڈالررہی

اسلام آباد۔13مئی (اے پی پی):نیشنل اکائونٹس کمیٹی (این اے سی) نے جاری مالی سال کی تیسری سہ ماہی اور سالانہ تخمینوں کی منظوری دیدی ہے، جاری مالی سال کی پہلی اور دوسری سہ ماہی کے نظرثانی شدہ شرح نمو بالترتیب 3.92 فیصد اور 4.05 فیصد رہی، ملکی معیشت کا مجموعی حجم 126.9 کھرب روپے (452.1ارب ڈالر ) تک پہنچ گیا، 2023ء کی مردم شماری کی آبادی کے تخمینوں کی بنیاد پر فی کس آمدنی 533629 روپے یعنی 1901 امریکی ڈالر رہی۔۔نیشنل اکائونٹس کمیٹی (این اے سی) کا 117 واں اجلاس بدھ کویہاں پاکستان بیوروبرائے شماریات (پی بی ایس) کے ہیڈکوارٹر میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت سیکرٹری وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات نے کی۔

کمیٹی نے جاری مالی سال کی پہلی سہ ماہی (نظرثانی شدہ)، دوسری سہ ماہی (نظرثانی شدہ) اور تیسری سہ ماہی (عارضی) کے جی ڈی پی گروتھ ریٹس جبکہ مالی سال 2023-24 (حتمی)، 2024-25 (نظرثانی شدہ) اور 2025-26 (عارضی) کی سالانہ شرح نمو کی منظوری دی۔ کمیٹی نے جاری مالی سال کی پہلی اور دوسری سہ ماہی کے نظرثانی شدہ تخمینوں کی منظوری بھی دی، مجموعی جی ڈی پی میں پہلی اور دوسری سہ ماہی کے دوران شرح نمو بالترتیب 3.92 فیصد اور 4.05 فیصد ریکارڈ کی گئی، این اے سی کے 116 ویں اجلاس میں یہ شرحیں 3.63 فیصد اور 3.89 فیصد تخمینہ کی گئی تھیں۔ لائیو سٹاک کی شرح نمو 6.18 فیصد سے کم ہو کر 4.67 فیصد ہو گئی تاہم زراعت کے شعبے نے پہلی سہ ماہی میں 2.95 فیصد ترقی کی جو پہلے 2.72 فیصد بتائی گئی تھی۔

اس بہتری کی وجہ دیگر فصلوں کی شرح نمو کا منفی 6.90 فیصد سے بڑھ کر مثبت 1.93 فیصد اور ماہی گیری کا 0.91 فیصد سے بڑھ کر 2.45 فیصد ہوناہے۔پہلی سہ ماہی میں صنعت کی نظرثانی شدہ شرح نمو 7.80 فیصد رہی جبکہ اس سے قبل 8.86 فیصد کی پیشن گوئی کی گئی تھی،اس کمی کی بڑی وجہ بجلی، گیس و پانی کی فراہمی کے شعبے کی شرح نمو کا 24.51 فیصد سے کم ہو کر 21.38 فیصد اور تعمیرات کا 19.22 فیصد سے کم ہو کر 15.93 فیصد ہونا تھا۔ انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن کے شعبے میں منفی 29.66 فیصد سے بہتری آ کر منفی 7.63 فیصد ہونے کے باعث خدمات کے شعبے کی شرح نمو پہلی سہ ماہی میں 2.44 فیصد سے بڑھ کر 3.16 فیصد ہو گئی۔پہلی سہ ماہی کی طرح دوسری سہ ماہی میں بھی زراعت کی شرح نمو 1.76 فیصد سے بڑھ کر 2.64 فیصد ہو گئی جس کی بنیادی وجہ دیگر فصلوں کی شرح نمو کا منفی 5.69 فیصد سے بڑھ کر مثبت 2.39 فیصد اور ماہی گیری کا 0.77 فیصد سے بڑھ کر 1.47 فیصد ہونا تھا۔

صنعت کی شرح نمو 7.40 فیصد سے کم ہو کر 6.68 فیصد رہی جس کی بڑی وجہ تعمیرات کا شعبہ تھا جو پہلے تخمینہ شدہ 10.53 فیصد کے مقابلے میں 6.42 فیصد تک محدود رہا۔ خدمات کے شعبے کی نظرثانی شدہ شرح نمو دوسری سہ ماہی میں معمولی بہتری کے ساتھ 3.69 فیصد سے بڑھ کر 3.83 فیصد ہو گئی جس کی وجہ ہول سیل و ریٹیل تجارت کا 4.46 فیصد سے بڑھ کر 4.66 فیصد اور انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن کا منفی 5.95 فیصد سے بہتر ہو کر منفی 1.27 فیصد ہونا تھا۔ جاری مالی سال کی تیسری سہ ماہی کے دوران معیشت نے 3.99 فیصد کی مستحکم شرح نمو حاصل کی۔ زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں کی شرح نمو بالترتیب 3.01 فیصد، 4.65 فیصد اور 4.18 فیصد رہی۔ تیسری سہ ماہی کے دوران زراعت کے تمام ذیلی شعبوں نے مثبت نمو ریکارڈ کی جن میں اہم فصلیں 1.10 فیصد، دیگر فصلیں 2.27 فیصد، لائیو سٹاک 3.70 فیصد، جنگلات 1.62 فیصد اور ماہی گیری 1.37 فیصد کی نمو شامل ہیں۔

کان کنی و معدنیات کے شعبے میں منفی 2.55 فیصد اور بجلی، گیس و پانی کی فراہمی میں منفی 13.53 فیصد سکڑائو آیا تاہم بڑے پیمانے کی صنعتوں کی پیداوار میں 9.53 فیصد اضافے کے باعث مجموعی صنعتی شعبہ عارضی طور پر 4.65 فیصد بڑھا۔ تعمیراتی شعبے نے گزشتہ سال کی اسی سہ ماہی میں 14.27 فیصد بلند شرح نمو کے مقابلے میں اس بار 0.48 فیصد کی معمولی نمودکھائی ہے۔ خدمات کے شعبے نے مجموعی طور پر 4.18 فیصد ترقی کی جس میں تمام ذیلی شعبوں نے مثبت کردار ادا کیا جن میں ہول سیل و ریٹیل تجارت 4.13 فیصد، ٹرانسپورٹ و سٹوریج 2.02 فیصد، انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن 9.78 فیصد، مالیات و انشورنس 2.90 فیصد، پبلک ایڈمنسٹریشن و سوشل سکیورٹی 8.88 فیصد، تعلیم 4.14 فیصد، صحت و سماجی خدمات 4.07 فیصد اور دیگر نجی خدمات 3.35 فیصد شامل ہیں۔

کمیٹی نے مالی سال2024 کی مجموعی حتمی جی ڈی پی شرح نمو 2.62 فیصد منظور کی جو پہلے بھی یہی تخمینہ کی گئی تھی۔ اس سال زراعت، صنعت اور خدمات کی حتمی شرح نمو بالترتیب 6.40 فیصد، منفی 0.97 فیصد اور 2.25 فیصد رہی۔ مزید برآں مالی سال 2025 کی مجموعی نظرثانی شدہ شرح نمو 3.18 فیصد منظور کی گئی جبکہ پچھلے اجلاس میں یہ 3.06 فیصد تخمینہ کی گئی تھی۔ نظرثانی شدہ تخمینوں میں زراعت کی شرح نمو 1.53 فیصد پر برقرار رہی جبکہ صنعت اور خدمات کی شرح نمو بالترتیب 5.23 فیصد اور 3.03 فیصد سے بڑھ کر 5.56 فیصد اور 3.14 فیصد ہو گئی جس کی وجہ تعمیرات کے شعبے میں 6.54 فیصد سے بڑھ کر 8.77 فیصد اور مالیات و انشورنس میں 6.27 فیصد سے بڑھ کر 9.10 فیصدکی نمو تھی۔ کمیٹی نے جاری مالی سال کے لیے جی ڈی پی کی عارضی شرح نمو 3.70 فیصد منظور کی۔ زراعت، صنعت اور خدمات کی عارضی شرح نمو بالترتیب 2.89 فیصد، 3.51 فیصد اور 4.09 فیصد رہی۔

زراعت میں اہم فصلوں کی شرح نمو 0.65 فیصد رہی جس کی وجہ مختلف فصلوں کی پیداوار میں ملے جلے رجحانات تھے جن میں گندم کی پیداوار 28.396 ملین ٹن سے بڑھ کر 29.605 ملین ٹن یعنی 4.3 فیصد اضافہ، مکئی کی پیداوار 9.037 ملین ٹن سے کم ہو کر 8.794 ملین ٹن یعنی منفی 2.68 فیصد، چاول 9.723 ملین ٹن سے بڑھ کر 9.998 ملین ٹن یعنی 2.80 فیصد، گنا 84.24 ملین ٹن سے بڑھ کر 89.45 ملین ٹن یعنی 6.20 فیصد جبکہ کپاس 7.084 ملین گانٹھوں سے کم ہو کر 7.052 ملین گانٹھیں یعنی منفی 0.5 فیصد رہی گزشتہ سال 19.74 فیصد کی بلند شرح نمو کے باوجود دیگر فصلوں میں 2.43 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی بڑی وجہ چنے کی پیداوار میں 50.4 فیصد، آلو میں 27.6 فیصد، آم میں 11.6 فیصد، کیلے میں 30.8 فیصد، ہلدی میں 25.1 فیصد اور مرچوں میں 9.2 فیصد اضافہ شامل تھا۔ کپاس جننگ و دیگر ذیلی شعبوں میں کپاس کی کم پیداوار کے باعث صرف 0.07 فیصد معمولی اضافہ ہوا۔ لائیو سٹاک میں 3.75 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ گزشتہ سال یہ شرح 2.95 فیصد تھی۔ اس کی وجہ پیداوار میں 3.46 فیصد اضافہ اور سبز چارے میں 4.5 فیصد کمی تھی۔

جنگلات اور ماہی گیری کے شعبوں میں بالترتیب 2.02 فیصد اور 1.66 فیصد معمول کی ترقی ریکارڈ کی گئی۔ جاری مالی سال کے دوران صنعتی شعبے نے عارضی طور پر 3.51 فیصد ترقی کی۔ اگرچہ کوئلے کی پیداوار میں 4.52 فیصد اضافہ ہوا تاہم قدرتی گیس کی پیداوار میں منفی 2.63 فیصد، خام تیل میں منفی 0.38 فیصد اور دیگر معدنیات کی پیداوار میں کمی کے باعث کان کنی و معدنیات کے شعبے کی مجموعی شرح نمو صرف 0.38 فیصد رہی۔جولائی سے لیکرمارچ تک بڑے پیمانے کی صنعتوں کی پیداوار نے 6.11 فیصد ترقی کی۔ مختلف صنعتی گروپس کی پیداوار میں ملے جلے رجحانات دیکھنے میں آئے تاہم خوراک 9.77 فیصد، تمباکو 11.70 فیصد، پٹرولیم مصنوعات 10.92 فیصد، ربڑ مصنوعات 14.26 فیصد، برقی آلات 11.87 فیصد، آٹوموبائلز 61.66 فیصد، ٹرانسپورٹ آلات 39.93 فیصد، فرنیچر 20.45 فیصد اور دیگر مینوفیکچرنگ (فٹ بال) 23.06 فیصد اضافے نے مثبت کردار ادا کیا۔

بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی کے شعبے میں 10.63 فیصد سکڑائو دیکھا گیا جس کی بڑی وجہ مالی سال 2024-25 کی بلند بنیاد یعنی 29.60 فیصد شرح نمو، توانائی سبسڈی میں کمی اور واپڈا و دیگر کمپنیوں کی پیداوار میں سست رفتار اضافہ تھا۔ گزشتہ سال تعمیراتی شعبے میں 8.77 فیصد بلند شرح نمو کے باوجود رواں سال اس شعبے نے نجی شعبے اور حکومت کے تعمیراتی اخراجات میں اضافے کے باعث 5.73 فیصد ترقی کی۔ خدمات کے شعبے نے بھی مالی سال 2025-26 میں 4.09 فیصد ترقی کی جس میں تمام ذیلی شعبوں نے مثبت کردار ادا کیا۔

ان میں ہول سیل و ریٹیل تجارت 3.71 فیصد، ٹرانسپورٹ و سٹوریج 2.31 فیصد، انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن 7.52 فیصد، پبلک ایڈمنسٹریشن و سوشل سکیورٹی 8.54 فیصد، تعلیم 5.23 فیصد، صحت و سماجی خدمات 6.85 فیصد اور دیگر نجی خدمات 3.69 فیصد شامل ہیں۔ جاری مالی سال کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملکی معیشت کا مجموعی حجم 126.9 کھرب روپے یعنی 452.1 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا جبکہ گزشتہ سال یہ 114.0 کھرب روپے یعنی 408.2 ارب امریکی ڈالر تھا۔

2023ء کی مردم شماری کی آبادی کے تخمینوں کی بنیاد پر فی کس آمدنی 533,629 روپے یعنی 1901 امریکی ڈالر رہی۔ اجلاس کے شرکا نے پی بی ایس کی نیشنل اکائونٹس ٹیم اور اہم شراکت دار اداروں جن میں وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، وزارت خزانہ اور سٹیٹ بینک شامل ہیں، کی سہ ماہی اور سالانہ جی ڈی پی کی تیاری میں کاوشوں کو سراہا۔