یشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے آئندہ ہفتے کے دوران ممکنہ خطرات کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیا۔بدھ کو این ڈی ایم اے کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق این ا ی او سی تمام ممکنہ خطرات کی پیشگی تشخیص اورمتعلقہ اداروں تک بر وقت معلومات کی فراہمی یقینی بنا رہا ہے۔
این ڈی ایم اے کا آئندہ ہفتے کے دوران ممکنہ خطرات کے حوالے سے الرٹ جاری

مزید خبریں
اسلام آباد۔1جولائی (اے پی پی):نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے آئندہ ہفتے کے دوران ممکنہ خطرات کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیا۔بدھ کو این ڈی ایم اے کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق این ا ی او سی تمام ممکنہ خطرات کی پیشگی تشخیص اورمتعلقہ اداروں تک بر وقت معلومات کی فراہمی یقینی بنا رہا ہے۔
گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے گلیشیئر کے ملحقہ علاقوں کے لئے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے باعث سیلاب کا خدشہ ہے۔مسلسل بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور بالائی علاقوں میں متوقع بارشوں کے باعث گلیشیئر پگھلنے کے عمل میں شدید تیزی کا امکان ہے۔گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے باعث اچانک سیلاب، ملبے کے ریلے، لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے کے خطرات میں اضافہ متوقع ہے۔ ہنزہ، نگر، غذر، سکردو، شگر، گانچھے، خرمنگ، استور، دیامر، اپر و لوئر چترال، سوات اور دیگر گلیشیئر سے منسلک وادیوں میں خصوصی احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
درجہ حرارت میں شدید اضافہ اور متوقع بارشوں کے باعث ہسپر-ہوپر نالہ میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافے کا امکان ہے۔مقامی سطح پر اچانک سیلاب، ملبے کے ریلے اور دریائی کناروں کے کٹاؤ کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ این ای او سی نے یکم سے 4 جولائی 2026 تک ممکنہ صورتحال کے حوالے سے بھی الرٹ جاری کر دیا۔یکم سے 4 جولائی کے دوران مون سون سسٹم اور مغربی ہواؤں کے زیرِ اثر پہاڑی ندی نالوں اور موسمی برساتی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافہ متوقع ہے۔خیبر پختونخوا، پنجاب، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں اچانک سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے۔خیبر پختونخوا کے چارسدہ، نوشہرہ، پشاور، مردان، صوابی، کوہاٹ، بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، سوات، دیر، چترال، شانگلہ، بونیر، بٹگرام، تورغر اور کوہستان کے پہاڑی ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ متوقع ہے۔
پنجاب کے راولپنڈی، اٹک، جہلم، چکوال، میانوالی، بھکر، خوشاب، سرگودھا، فیصل آباد، جھنگ، سیالکوٹ، نارووال، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، شیخوپورہ، حافظ آباد اور منڈی بہاؤالدین کے نشیبی علاقوں اور برساتی نالوں میں سیلابی صورتحال متوقع ہے۔بلوچستان کے ژوب، شیرانی، موسیٰ خیل، بارکھان، سبی، کوہلو، ڈیرہ بگٹی، لورالائی اور گردونواح میں مقامی سطح پر اچانک سیلابی صورتحال کا امکان ہے۔آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی اور مقامی سیلاب کا خدشہ برقرار ہے۔شہری علاقوں میں شدید بارش کے دوران نشیبی علاقے زیر آب آنے اور ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کا امکان ہے۔
این ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں کو پیشگی حفاظتی اقدامات، نکاسی آب کے انتظامات اور ہنگامی مشینری کی تیاری یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔سڑکوں، پلوں، آبپاشی کے نظام اور قریبی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔ نشیبی علاقوں اور دریا کے کنارے آبادیوں کو محتاط رہنے اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔متعلقہ اداروں کو دریا کے بہاؤ اور گلیشیائی جھیلوں کی مسلسل نگرانی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ سرکاری ہدایات اور بروقت جاری ہونے والی وارننگز پر عمل کریں۔عوام سے گزارش ہے کہ این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم ایز اور مقامی انتظامیہ کی جاری کردہ ہدایات اور حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔متوقع موسمی صورتحال، ممکنہ خطرات اور حفاظتی تدابیر کے حوالے سے مستندمعلومات کے لئے پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ سے رہنمائی لیں۔








