این ڈی ایم اے کا گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے باعث ممکنہ سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کا الرٹ جاری

این ڈی ایم اے نے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے باعث ممکنہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری کردیا ہے۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی

مزید خبریں

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی عمران ندیم کی ملاقات، پارلیمانی امور، قانون سازی اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال اسلام آباد۔17اگست (اے پی پی):سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے پیر کو سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی عمران ندیم نے ملاقات کی جس میں پارلیمانی امور، قانون سازی اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ ملاقات میں پارلیمانی اداروں کے استحکام اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے مشترکہ کاوشیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کہا گیا ۔ ملاقات میں عوامی مسائل کے حل اور قانون ساز اداروں کی موثر کارکردگی سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔ سپیکر قومی اسمبلی نے پارلیمانی اداروں کے درمیان باہمی رابطوں اور تجربات کے تبادلے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ مضبوط پارلیمانی ادارے ہی جمہوریت کے استحکام کی ضمانت ہیں، تمام قانون ساز اداروں کے درمیان باہمی مشاورت اور تجربات کا تبادلہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپیکر کانفرنس پارلیمانی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے ایک موثر پلیٹ فارم ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی نے گلگت بلتستان اسمبلی کے نومنتخب اراکین کے لیے انسٹیٹیوٹ آف پارلیمانی سروسز میں تربیتی پروگرام کے انعقاد پر زور دیا اور انہوں نے عمران ندیم کو سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی اور ان کے لئے سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی عمران ندیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔ سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی عمران ندیم نے پارلیمانی تعاون کے فروغ کے لیے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے کردار کو سراہا۔

12

اسلام آباد۔17اگست (اے پی پی):نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) کی جانب سے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے باعث ممکنہ سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کا الرٹ جاری کیا ہے۔

پیر کو این ڈی ایم اے سے جاری بیان کے مطابق 17 تا 23 اگست گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے حساس پہاڑی علاقوں میں گلیشیئرز اور برف پگھلنے، بڑھتے ہوئے در حرارت اور مون سون بارشوں کے باعث، اچانک سیلاب اور ملبے کے بہاؤ کا خطرہ ہے۔غذر، ہنزہ، نگر، شگر، گلگت، روندو، تانگیر، داریل، دیامر، استور، سکردو، گانچھے، کھرمنگ، وادی نیلم اور ملحقہ علاقوں میں خصوصی احتیاط کی ہدایت کی گئی ہے۔بدسوات، اشکومن، ہنارچی، ترسات ہندور، التر، چینٹر، گوپس، یاسین، سوست، ارندو، روشن، حاکس، چتی بوئی، تھلو 1 و 2، ریشون، بریپ، بونی، سردار گول، لشت، پنڈورو چاٹ، کھپلو، ہسپر ہوپر، گلگت، گلمن، بتورا، ششپر، سونگھور، روشن اور شمشال کے علاقے حساس قرار دئیے گئے ہیں۔این سی او سی کی جانب سے گلگت بلتستان میں لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ بھی جاری کیا گیا ہے۔22 تا 24 اگست گلگت بلتستان کے حساس پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور پتھر گرنے کا خدشہ ہے۔ہنزہ میں حسن آباد، مرتضیٰ آباد، عطاآباد، ششکٹ، گلمن، گلمیت، گُلکن، حسین آباد، پاسو اور خیبر میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ نگر میں ہوپر، کنجوکشال، گُتاس، سمیار، میاچار، پسن، مناپن، غلمت، تھول نلت اور ہسپر میں لینڈ سلائیڈنگ متوقع ہے۔استور میں ترشنگ، رُپل ویلی اور ترشنگ رُپل روڈ؛ دیامر میں رائیکوٹ تا ٹاٹو کوریڈور، فیری میڈوز روڈ، تھلیچی تا جلی پور اور نانگا پربت کے شمالی و شمال مغربی پہاڑی ڈھلوانیں، جبکہ اسکردو روڈ پر RD-20 تا RD-80 خصوصی طور پر لینڈ سلائیڈ کے حوالے سے حساس قرار دئیے گئے ہیں۔ حساس پہاڑی سڑکوں، شاہراہ قراقرم اور حساس وادیوں میں پتھر گرنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سڑکیں بند، آمدورفت متاثر اور آبادیوں کا رابطہ منقطع ہونے کا خدشہ ہے۔17سے 21 اگست تک بالائی علاقوں میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ پنجاب کے بعض علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور کہیں کہیں موسلادھار بارش متوقع ہے۔نارووال، سیالکوٹ، گجرات، جہلم، راولپنڈی، اسلام آباد، چکوال، منڈی بہاؤالدین، حافظ آباد، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، لاہور، قصور، فیصل آباد، چنیوٹ اور اٹک کے شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے۔17 سے 21 اگست تک گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے بالائی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور کہیں کہیں موسلادھار بارش متوقع ہے۔بارشوں کے باعث دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے، پہاڑی علاقوں میں اچانک سیلاب اور برساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ہے۔خیبر پختونخوا میں اپر دیر، لوئر دیر، سوات، شانگلہ، بونیر، باجوڑ، ملاکنڈ، مردان، چارسدہ، نوشہرہ، کوہاٹ، بٹگرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، صوابی، مہمند، کرم، ہنگو، جنوبی وزیرستان، کرک اور لکی مروت کے ندی نالوں اور برساتی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ دریائے کابل کے معاون دریاؤں میں بھی اچانک تیز بہاؤ کا خدشہ ہے۔ آزاد کشمیر کے باغ، حویلی، پونچھ، ہٹیاں، سدھنوتی، کوٹلی، میرپور اور بھمبر جبکہ گلگت بلتستان کے ہنزہ اور استور بھی سیلابی خدشے کے پیش نظر حساس قرار دیاگیا ہے۔این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کی جانب سے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔بالائی علاقوں، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، کشمیر اور پنجاب میں موجودہ مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ تمام بڑے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ متوقع ہے۔دریائے سندھ میں کالا باغ، چشمہ، تونسہ اور گڈو؛ دریائے جہلم میں منگلا کے بالائی علاقوں، دریائے چناب میں مرالہ، خانکی اور قادر آبادکے مقام پر درمیانے درجے کا بہاؤ متوقع ہے۔ دریائے راوی میں بلوکی اور سدھنائی جبکہ دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر کم سے درمیانے درجے کے بہاؤ کی صورتحال متوقع ہے۔دریائے راوی اور چناب سے منسلک نالوں میں بھی کم سے درمیانے درجے کے بہاؤ کا امکان ہے۔این ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں کو ہنگامی ٹیمیں، ضروری ریسکیو وسائل کو تیار رکھنے، حساس آبادیوں کے لیے انخلا کے راستے اور محفوظ مقامات کی نشاندہی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ عوام گلیشیئرز، گلیشیئر سے آنے والے دریاؤں، ندی نالوں اور خطرناک مقامات کے قریب غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں اور کسی بھی غیر معمولی پانی کے بہاؤ یا سطح میں اچانک اضافے کی فوری اطلاع دیں۔عوام کو ممکنہ طور پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے،مون سون کے دوران پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، ملبے کے ریلوں اور اچانک آنے والے سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ سفر سے پہلے موسم کی تازہ ترین پیش گوئی اور سڑکوں کی صورتحال ضرور معلوم کریں۔ اگر شدید بارش یا کسی بھی ممکنہ خطرے کی وارننگ جاری ہو تو غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔سیلابی پانی یا تیز بہاؤ کو پیدل یا گاڑی کے ذریعے ہرگز عبور نہ کریں۔ یاد رکھیں، تیز بہاؤ والا پانی خواہ کم گہرا ہی کیوں نہ دکھائی دے، انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور انسانوں یا گاڑیوں کو بہا لے جا سکتا ہے۔مون سون کے دوران برساتی ندی نالوں کے بہاؤ میں اچانک شدید اضافہ بھی ہو سکتا ہے لہذا ایسے علاقوں میں سیاحتی سرگرمیوں کے دوران محتاط رہیں اور تیز بہاؤ والے پانی کے ریلوں سے دور رہیں۔ سفر کے دوران اپنے ساتھ پینے کا پانی، خشک خوراک، ٹارچ، ابتدائی طبی امداد کا سامان، پاور بینک اور ہنگامی رابطہ نمبرز ضرور رکھیں۔احتیاطی تدابیر اختیار کریں، متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کریں اور انتظامیہ کی جانب سے بند کی گئی سڑکوں پر سفر سے مکمل گریز کریں۔عوام این ڈی ایم اے کی آفیشل ایپ‘پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ”سے بروقت معلومات حاصل کریں۔

مزید خبریں
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی عمران ندیم کی ملاقات، پارلیمانی امور، قانون سازی اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال اسلام آباد۔17اگست (اے پی پی):سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے پیر کو سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی عمران ندیم نے ملاقات کی جس میں پارلیمانی امور، قانون سازی اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ ملاقات میں پارلیمانی اداروں کے استحکام اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے مشترکہ کاوشیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کہا گیا ۔ ملاقات میں عوامی مسائل کے حل اور قانون ساز اداروں کی موثر کارکردگی سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔ سپیکر قومی اسمبلی نے پارلیمانی اداروں کے درمیان باہمی رابطوں اور تجربات کے تبادلے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ مضبوط پارلیمانی ادارے ہی جمہوریت کے استحکام کی ضمانت ہیں، تمام قانون ساز اداروں کے درمیان باہمی مشاورت اور تجربات کا تبادلہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپیکر کانفرنس پارلیمانی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے ایک موثر پلیٹ فارم ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی نے گلگت بلتستان اسمبلی کے نومنتخب اراکین کے لیے انسٹیٹیوٹ آف پارلیمانی سروسز میں تربیتی پروگرام کے انعقاد پر زور دیا اور انہوں نے عمران ندیم کو سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی اور ان کے لئے سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی عمران ندیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔ سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی عمران ندیم نے پارلیمانی تعاون کے فروغ کے لیے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے کردار کو سراہا۔