نیشنل سکول آف پبلک پالیسی کے زیر اہتمام ’’پاکستان میں نایاب ارضی معدنیات: مواقع اور چیلنجز‘‘ کے موضوع پر 2 روزہ چوتھی پبلک پالیسی کانفرنس منعقد ہوئی۔
معدنی وسائل کی ترقی کیلئے مربوط قومی پالیسی وقت کی اہم ضرورت ، وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں ملکی معیشت درست سمت میں گامزن ہے،احسن اقبال

مزید خبریں
لاہور۔17اگست (اے پی پی):نیشنل سکول آف پبلک پالیسی (این ایس پی پی)کے زیر اہتمام "پاکستان میں نایاب ارضی معدنیات:مواقع اور چیلنجز” کے موضوع پر 2 روزہ چوتھی پبلک پالیسی کانفرنس پیر کو منعقد ہوئی۔
بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی (بی این یو)اور بر کی انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اینڈ ریسرچ (بی آئی پی پی) کے اشتراک سے منعقدہ اس کانفرنس میں ماہرین ارضیات، جامعات کے اساتذہ، صنعت کاروں اور ماہرین کی کثیر تعداد موجود تھی۔کانفرنس کے انعقاد کا مقصد پاکستان میں معدنیات کی تلاش،عالمی منڈی کے رجحانات،ماحولیاتی خدشات،پائیدار استخراج،ویلیو ایڈیشن اور موثر پالیسی سازی کیلئے اسٹریٹجک تعاون کا جائزہ لینا تھا۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی،ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کانفرنس سے ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل اور اہم معدنی ذخائر سے مالا مال ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ان وسائل کو جدید ٹیکنالوجی،ویلیو ایڈیشن، سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی سے منسلک کرکے ملکی معیشت کو مضبوط بنایا جائے،حکومت معدنی شعبے میں اصلاحات، جدید ارضیاتی سروے،سرمایہ کاری کے فروغ اور معدنیات کی مقامی پراسیسنگ کے لیے متعدد اقدامات بروئے کار لا رہی ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال میں نایاب ارضی معدنیات کی اہمیت غیر معمولی طور پر بڑھ چکی ہے،یہ معدنیات جدید الیکٹرانکس، مصنوعی ذہانت، قابلِ تجدید توانائی، برقی گاڑیوں،دفاعی ٹیکنالوجی اور دیگر جدید صنعتی شعبوں میں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں،ہمیں معدنی ذخائر کی پراسیسنگ،ریفائننگ اور ویلیو ایڈیشن پر توجہ دینا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ حکومت معدنی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے جیو لوجیکل ڈیٹا، سروے اور تحقیق کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات بروئے کار لا رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت معدنی وسائل کی تلاش اور سرمایہ کاری کے لیے پالیسی اور ریگولیٹری ماحول کو بہتر بنا رہی ہے،منرل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن اتھارٹی( ایم آئی ایف اے) کے پلیٹ فارم پر کان کنی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے فروغ، رائلٹی اور لائسنسنگ سے متعلق معاملات کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔احسن اقبال نے کہا کہ حکومت کی ترجیح یہ ہے کہ پاکستان کے معدنی وسائل کو ملکی صنعت کے ساتھ منسلک کیا جائے تاکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں،درآمدی انحصار کم ہو اور برآمدات میں اضافہ ہو۔انہوں نے کہا کہ معدنی شعبے میں حقیقی معاشی فائدہ اسی وقت حاصل ہوگا جب خام معدنیات کی بجائے ویلیو ایڈڈ مصنوعات تیار کی جائیں گی،حکومت کی جانب سے نایاب ارضی اور اہم معدنیات کی تحقیق و پراسیسنگ کے لیے عملی اقدامات بھی جاری ہیں،پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر)کے ذریعے گلگت بلتستان میں قیمتی دھاتوں اور اہم معدنیات کی تلاش کا منصوبہ اور اسکردو میں جدید معدنی ٹیسٹنگ لیبارٹری اور جدید تجزیاتی و پراسیسنگ سہولیات کا قیام حکومتی ٹھوس اقدامات کا عکا س ہے، بلوچستان میں معدنی وسائل کی سائنسی بنیادوں پر نشاندہی کیلئے جیو ریسورس سروے جیسے منصوبے بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں، ان اقدامات کا مقصد اہم معدنی زونز کی نشاندہی،دستیاب ارضیاتی معلومات کی تشریح اور سرمایہ کاری کے لیے قابلِ اعتماد ڈیٹا فراہم کرنا ہے،حکومت نے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری کیلئے اصلاحات کا عمل بھی تیز کیا ہے،جس کا مقصد ملک کو ذمہ دارانہ اور پائیدار معدنی سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش مرکز بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر اہم معدنیات کی بدلتی ہوئی سپلائی چین میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے،پاکستان کے پاس معدنی وسائل کی صورت میں قدرتی سرمایہ موجود ہے،ضرورت اس امر کی ہے کہ اسے جدید علم،تحقیق، ٹیکنالوجی اور بہتر حکمرانی کے ذریعے معاشی قدر میں تبدیل کیا جائے،نایاب ارضی معدنیات کے شعبے میں کامیابی کے لیے حکومت، تعلیمی اداروں،تحقیقاتی مراکز اور نجی شعبے کے درمیان مضبوط شراکت داری ناگزیر ہے۔صوبوں،جامعات،تحقیقاتی اداروں اور نجی شعبے کے درمیان مربوط تعاون سے ہم نایاب ارضی معدنیات کی عالمی ویلیو چین میں موثر مقام حاصل کر سکتے ہیں۔احسن اقبال نے مزید کہا کہ معرکہ حق میں دشمن کو دندان شکن جواب دیا،اب وقت آ گیا ہے کہ معاشی اور ترقیاتی معرکے میں کامیابی حاصل کرکے بھی دنیا کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے جب اقتدار سنبھالا تو پاکستان ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑا تھا،وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں ملکی معیشت کو درست سمت میں گامزن کر دیا ہے،اڑان پاکستان کے تحت2035 تک پاکستان کو ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کے ہدف کے حصول کے لیے بحیثیت قوم ہمیں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔کانفرنس کے شرکا ءنے پاکستان کے معدنی امکانات،نایاب ارضی عناصر کے استخراج،جدید ٹیکنالوجی کے استعمال،سرمایہ کاری کے فروغ، ماحولیاتی تحفظ اور وفاق و صوبوں کے درمیان تعاون سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔کانفرنس کا مقصد پاکستان کے معدنی وسائل کو محض استخراجی سرگرمی یا خام مال کی برآمد تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں صنعتی ترقی، ویلیو ایڈیشن، روزگار، سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور قومی سلامتی سے مربوط کرکے طویل المدت اقتصادی اثاثے میں تبدیل کرنے کے لیے پالیسی سمت متعین کرنا ہے۔قبل ازیں ریکٹر نیشنل سکول آف پبلک پالیسی لاہور فرحان عزیز خواجہ نے کانفرنس کے انعقاد کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی اور کہا کہ نایاب ارضی معدنی عناصر ہائی ٹیک صنعتوں، گرین انرجی کے حل اور جدید ٹیکنالوجیز کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں،عالمی سطح پر ان معدنیات کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے،تاہم پاکستان کی وسیع ارضیاتی صلاحیت ابھی بڑی حد تک دریافت طلب ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایس پی پی کی چوتھی بین الاقوامی کانفرنس اسی اہم قومی ضرورت کے پیشِ نظر پالیسی سازوں،صنعتی رہنماوں اور محققین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر رہی ہے۔ کانفرنس کا مقصد پاکستان میں معدنیات کی تلاش،عالمی منڈی کے رجحانات، ماحولیاتی خدشات، پائیدار استخراج، ویلیو ایڈیشن اور موثر پالیسی سازی کے لیے اسٹریٹجک تعاون کا جائزہ لینا ہے۔ڈین نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک پالیسی ڈاکٹر نوید الہی نے ادارے کے بارے تعارفی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل سکول آف پبلک پالیسی پاکستان کا ایک ممتاز ادارہ ہے،جسے سرکاری ملازمین کو تین سطحی تربیت فراہم کرنے کا مینڈیٹ حاصل ہے،این ایس پی پی معیشت، طرزِ حکمرانی، پالیسی سازی اور امن و امان سے متعلق عصری امور پر تحقیق کے ذریعے عوامی پالیسی کے شعبے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ادارہ تربیتی کورسز کی تشکیل اور انعقاد میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے اور زیرِ ملازمت افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لیے اقدامات کرتا ہے تاکہ وہ موثر عوامی خدمات کی فراہمی کے قابل ہو سکیں۔نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک پالیسی،نیشنل سکول آف پبلک پالیسی کا ایک لازمی حصہ اور تحقیقی بازو ہے۔کانفرنس کے پہلے روز 3 سیشن منعقد ہوئے،پہلے سیشن کا موضوع ’’پاکستان میں نایاب ارضی معدنیات کی حکمرانی‘‘ تھا،سیشن کے کلیدی مقررین میں قائم مقام ریزیڈنٹ نمائندہ یو این ڈی پی وان نگوین اور سابق ڈین پی اے ایس سی لاہور ڈاکٹر شجاعت علی جبکہ مباحثین میں ڈپٹی ڈائریکٹر جی ایس پی،ڈاکٹر شہباز محمد،ڈاکٹر اصغر علی،ڈاکٹر سیف الرحمن اور ڈاکٹر یامینہ سلمان شامل تھے۔سیشن میں اسکالرز ذونش جاوید، ڈاکٹر غلام جیلانی اور ڈاکٹر محمد فیصل اعوان نے پاکستان میں نایاب ارضی معدنیات کے استخراج، ماحولیاتی اثرات، ذمہ دارانہ حکمرانی، جغرافیائی سیاست، جیو اکنامکس اور پائیدار ترقی سے متعلق اپنے تحقیقی مقالے پیش کیے۔دوسرے سیشن کا موضوع ’’نایاب ارضی معدنیات کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ: پالیسی اور اسٹریٹجک فریم ورک‘‘ تھا ، سیشن کے کلیدی مقررین میں ڈائریکٹر جنرل جیولوجیکل سروے آف پاکستان عدنان عالم اعوان اور سابق ڈی جی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن کوئٹہ معراج عارف تھے جبکہ پینلسٹ میں پروفیسر ڈاکٹر محمد حسن، ڈاکٹر ممتاز محمد شاہ، پروفیسر ڈاکٹر محمد بشارت، ڈاکٹر سجاد احمد، ڈاکٹر محمد اسحاق کاکڑ اور پروفیسر ڈاکٹر شاہد غازی شامل تھے- اس سیشن میں جامعات اور ارضیاتی شعبے سے وابستہ ماہرین نایاب ارضی معدنیات کی تلاش اور استعمال کے لیے جدید ٹیکنالوجی،پالیسی اور اسٹریٹجک فریم ورک پر تبادلہ خیال کیا گیا۔تیسرے اور آخری سیشن کا موضوع ’’پاکستان میں نایاب ارضی معدنیات کے ارضیاتی امکانات‘‘ تھا جبکہ اس سیشن کے کلیدی مقررین میں پروفیسر آف انرجی، یونیورسٹی آف ڈیلاویئر امریکہ ڈاکٹر سلیم ایچ علی اور ڈائریکٹر بی سی پی آر، بی این یو لاہور سفیر منصور احمد خان تھے ۔مباحثین میں ڈاکٹر زینب احمد، ڈاکٹر آصف کامران، ڈاکٹر عائشہ اظہر اور پروفیسر ڈاکٹر محمد نواز چوہدری شامل تھے جبکہ ڈاکٹر سراج بشیر بلوچ، ڈاکٹر قادسیہ اکرم اور ڈاکٹر راہب حسین نے اپنے تحقیقی مقالے پیش کئے- آخری سیشن میں پاکستان میں نایاب ارضی معدنیات کے امکانات،بلوچستان کی معدنی اہمیت،عالمی طاقتوں کے درمیان مسابقت،مقامی خدشات، سلامتی کے مسائل اور آسٹریلیا و سعودی عرب کی اہم معدنی پالیسیوں کے تقابلی جائزے سمیت مختلف تحقیقی موضوعات زیرِ بحث لائے گئے۔اس موقع پر سوال و جواب کے سیشنز بھی منعقد ہوئے،جس میں اسپیکرز نے کانفرنس کے شرکا کے سوالات کے جوابات بھی دیئے۔ریکٹر نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی لاہور فرحان عزیز خواجہ اور ڈین نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک پالیسی ڈاکٹر نوید الہی نے محقیقین اور مباحثین میں شیلڈز بھی تقسیم کیں۔







