اسلام آباد۔9نومبر (اے پی پی):اراکین سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیم پر تیسرے دن بھی بحث جاری رکھی ۔ اتوار کو ایوان بالا کے اجلاس میں بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ ماضی میں عدلیہ کو عدالتی نظام کا حصہ ہونے کی بجائے ایک پارٹی کا آلہ کار بنانے کی کوشش کی گئی تاہم سیاسی کارکنوں کی جدوجہد سے عدلیہ کو آزادی ملی ، آئینی ترمیم …
ایوان بالااجلاس،اراکین سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیم پر تیسرے دن بھی بحث جاری رکھی

مزید خبریں
اسلام آباد۔9نومبر (اے پی پی):اراکین سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیم پر تیسرے دن بھی بحث جاری رکھی ۔ اتوار کو ایوان بالا کے اجلاس میں بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ ماضی میں عدلیہ کو عدالتی نظام کا حصہ ہونے کی بجائے ایک پارٹی کا آلہ کار بنانے کی کوشش کی گئی تاہم سیاسی کارکنوں کی جدوجہد سے عدلیہ کو آزادی ملی ، آئینی ترمیم کے صرف عدلیہ کے حوالے سے نکتہ پر تقریر کی گئی ہے ۔
اپوزیشن ارکان کی تقاریر صرف ایک گرفتاری اور رہائی پر ختم ہوئی ہے ، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپوزیشن نے ترامیم کے باقی نکات کو تسلیم کر لیا ہے ، انہیں اپنی تجاویز کمیٹی کے سامنے پیش کرنی چاہیے تھیں ۔ سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ ہمیں ملک کو آگے لیکر جانا چاہئے ، وزیر خزانہ بہترین انداز میں کام کر رہے ہیں ۔سید مسرور احسن نے کہا کہ اپوزیشن کو تنقید برداشت کرنی چاہئے ،
گزشتہ تین سال میں انہوں نے ایوان کو بلڈوز کیا ، ہم نے ماضی میں ملکر آمریت کے خلاف جدوجہد کی ۔ 1973 میں شہیدذوالفقار علی بھٹو نے متفقہ آئین دیا ۔ سینیٹر افنان اللہ نے کہاکہ اپوزیشن کے کسی رکن نے آئینی ترمیم کے حوالے سے کوئی تجویز نہیں دی ۔ اپوزیشن والے تنخواہیں اور مراعات لیتے ہیں لیکن کمیٹی اجلاس میں نہیں آتے، انہیں اپنے دور حکومت میں سول بالادستی یاد نہیں آتی ۔سینیٹر سرمد علی نے کہاکہ تحریک انصاف کو صرف جھوٹ بولنا آتا ہے ، پی ٹی آئی مکافات عمل کا سامنا کر رہی ہے ۔
وفاقی آئینی عدالت میثاق جمہوریت کا حصہ ہے ۔ پاکستان پیپلزپارٹی اپنے وعدے کے مطابق اس کی حمایت کر رہی ہے ،27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے پارلیمنٹ کے کردار کو مستحکم کیا جا رہا ہے ۔سینیٹر دنیش کمارنے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم پہلے سینیٹ میں پیش کرنا خوش آئند ہے ،اس حوالے سے ہماری تجاویز پر بھی غور کیا جائے ۔ بھارت میں ریاست اقلیت مخالف ہے اور پاکستان میں ریاست اقلیتوں کی حامی ہے ۔
پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی پر عمل کیا جاتا ہے ۔سینیٹر حاجی ہدایت اللہ نے کہاکہ حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم میں ہماری ترامیم اور خدشات پرغور کیا ہے جس پر ان کے شکر گزار ہیں ۔سینیٹرز سیف اللہ ابڑو ، روبینہ خالد ، فیصل جاوید ، علی ظفر، اعظم سواتی،حامد خان، زرقا تیمور سہروردی ، نسیمہ احسان نے بھی بحث میں حصہ لیا ۔








