ایوان بالااجلاس،اسلام آباد خودکش دھماکے کی شدید مذمت، متاثرین کیلئے مالی معاوضے کا اعلان

اسلام آباد۔9فروری (اے پی پی):ایوان بالا نے پیر کے روز اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ میں 6فروری جمعہ کے روز ہونے والے خودکش دھماکے کی شدید مذمت کی اور شہداء اور زخمیوں کے اہل خانہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ حکومت نے متاثرہ افراد کے لیے مالی معاوضے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہر شہید کے خاندان کو 10 لاکھ روپے اور زخمیوں …

اسلام آباد۔9فروری (اے پی پی):ایوان بالا نے پیر کے روز اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ میں 6فروری جمعہ کے روز ہونے والے خودکش دھماکے کی شدید مذمت کی اور شہداء اور زخمیوں کے اہل خانہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ حکومت نے متاثرہ افراد کے لیے مالی معاوضے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہر شہید کے خاندان کو 10 لاکھ روپے اور زخمیوں کو پانچ لاکھ روپے تک کی امداد دی جائے گی۔ملک کی سیکورٹی صورتحال پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کا اجتماعی مقابلہ کر رہا ہے اور یہ وقت سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا نہیں۔

انہوں نے دہشت گردی کو قومی چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے تدارک کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کی یکجہتی اور مربوط اقدامات ضروری ہیں۔انہوں نے قانون و انتظام کے قیام کو وفاق اور صوبوں کی مشترکہ آئینی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومتیں انسداد دہشت گردی اقدامات اور صلاحیت سازی پر خصوصی توجہ دیں۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات زیادہ ہیں، جس پر توجہ مرکوز کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ انٹیلیجنس پر مبنی کارروائیوں اور معلومات کی بروقت شیئرنگ نے دہشت گردانہ حملوں کو روکنے میں مدد دی، بعض کالعدم تنظیمیں بشمول اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے نامزد گروپس، بیرونی معاونت کے ساتھ دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔انہوں نے ایوان کو آگاہ کیا کہ اسلام آباد دھماکے کے چار مشتبہ افراد گرفتار کر لیے گئے ہیں اور مبینہ ماسٹر مائنڈ بھی حراست میں ہے۔ تحقیقات جاری ہیں تاکہ سہولت کاروں کی شناخت کی جا سکے اور ملوث نیٹ ورک کو تباہ کیا جا سکے۔

بحث میں سینیٹر شیریں رحمان نے گفتگو میں بعض وزراء کی غیر حاضری پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ پارلیمنٹ میں زیادہ فعال شمولیت اور ضرورت پڑنے پر ان کیمرہ بریفنگ سے انسداد دہشت گردی پالیسی پر اتفاق رائے بنایا جا سکتا ہے۔سینیٹر دنیش کمار نے عبادت گزاروں کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ انسانیت اور مذہبی ہم آہنگی پر حملہ ہے ، ایسے حالات میں قومی یکجہتی ضروری ہے۔ سینیٹر پرویز رشید نے انتباہ کیا کہ دہشت گردی انتہا پسند نظریات سے جنم لیتی ہے اور قومی المیوں پر سیاست نہیں ہونی چاہیے

۔سینیٹر عابد شیر علی نے قومی ایکشن پلان کے مؤثر نفاذ اور صوبوں میں فنڈز کے مناسب استعمال پر زور دیا۔ دیگر سینیٹرز بشمول اعظم سواتی، ضمیر گھمرو، عون عباس، مسرور احسن اور کامران مرتضیٰ نے بھی اپنی رائے کا اظہار کیا۔ایوان نے معمول کے اجلاس کو معطل کر کے اس المناک واقعے پر تفصیلی بحث کی اور قومی یکجہتی اور مربوط اقدامات کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف عزم کا اعادہ کیا۔