اسلام آباد۔10نومبر (اے پی پی):ایوان بالا کے اجلاس میں ارکان نے چوتھے روز مسلسل 27ویں آئینی ترمیم پر تفصیلی بحث جاری رکھی۔پیرکوایوان بالا کا اجلاس صدر نشیں منظور احمد کاکڑ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ارکان سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیم کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی۔سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے کہا کہ آئینی عدالت کے قیام پر میثاق جمہوریت میں اتفاق ہوا تھا، مگر اٹھارویں ترمیم …
ایوان بالا کے اجلاس میں ارکان نے چوتھے روز مسلسل 27ویں آئینی ترمیم پر تفصیلی بحث جاری رکھی

مزید خبریں
اسلام آباد۔10نومبر (اے پی پی):ایوان بالا کے اجلاس میں ارکان نے چوتھے روز مسلسل 27ویں آئینی ترمیم پر تفصیلی بحث جاری رکھی۔پیرکوایوان بالا کا اجلاس صدر نشیں منظور احمد کاکڑ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ارکان سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیم کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی۔سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے کہا کہ آئینی عدالت کے قیام پر میثاق جمہوریت میں اتفاق ہوا تھا، مگر اٹھارویں ترمیم میں یہ شق شامل نہیں کی جا سکی تھی۔ آئینی عدالت کے قیام سے وفاق مضبوط ہوگا اور صوبوں کو حق مل سکے گا۔ انہوں نے ہائی کورٹ کے ججز کی دوسری ہائی کورٹ میں ٹرانسفر کے معاملے اور سپریم کورٹ کے آئینی تنازعات کے حل پر بھی روشنی ڈالی۔
سینیٹر آغا شاہ ذیب درانی نے کہا کہ سپریم کورٹ میں پچاس ہزار کیسز زیر التوا ہیں اور ہر سال دس ہزار نئے کیسز رجسٹرڈ ہوتے ہیں، لہٰذا کیسز کے حل کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ملک کو 1973ء کا آئین اور اٹھارویں ترمیم دی، اور وہ 27ویں ترمیم کو ملک و قوم کی مضبوطی کے لیے ضروری سمجھتی ہے۔ پیپلز پارٹی نے اقلیتوں کے حقوق اور جمہوریت کے فروغ کے لیے بھی اقدامات کا ذکر کیا۔۔سینیٹر عامر چشتی نے کہا کہ ایم کیو ایم سے چھبیسویں آئینی ترامیم میں وعدہ کیا گیا تھا کہ ان کے مطالبات ستائیسویں ترمیم میں شامل کیے جائیں گے، لیکن اب اٹھائیسویں ترمیم کا عمل جاری ہے۔
انہوں نے صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ وہ ملک اور عوام سے وفادار ہیں۔سینیٹر قراۃ العین مری نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ارکان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف تصویریں لہرانے اور کاپیاں پھاڑنے میں ماہر ہیں، اور آئینی ترامیم پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ستائیسویں ترمیم ایوان میں لائی جائے تو وہ اس کی حمایت کریں گے۔سینیٹر طاہر خلیل نے کہا کہ حق حکمرانی صرف عوام کے منتخب نمائندوں کو حاصل ہے۔انہوں نے بلوچستان میں حلقہ بندیوں کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ نبی کریم ﷺ اور قائداعظم کی ہدایات کے مطابق سب برابر ہیں۔انہوں نے جھنڈے کے سفید رنگ کے معنی پر بھی روشنی ڈالی، جو اتحاد اور ذمہ داری کی علامت ہے۔
سینیٹر عبدالقادر خان نے کہا کہ پارلیمنٹری سسٹم کی عزت اور احترام کرنا ہر ریاستی ادارے کی ذمہ داری ہے، اور دنیا نے دیکھا کہ ترقی یافتہ ممالک نے اپنی جمہوریت کو مضبوط بنا کر عوامی فلاح کو یقینی بنایا۔انہوں نے کہا کہ ریاست کے تین ستون ،لیجسلیچر، ایگزیکٹو اور جوڈیشری،سب کے متوازن کردار سے ہی مضبوط ریاست قائم کی جا سکتی ہے۔ موجودہ حالات میں سپریم کورٹ میں 50 ہزار سے زائد کیسز زیرالتوا ہیں، جس کی وجہ سے عوام کو بروقت انصاف نہیں مل رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارش اور لابنگ کی بجائے عدلیہ کو عوام کے حقیقی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ فیڈرل آئینی عدالت صرف آئینی معاملات کے لیے قائم کی جائے گی تاکہ عدالتی وسائل سیاسی یا مالیاتی کیسز پر ضائع نہ ہوں، اور غریب عوام کے کیسز کو بھی بروقت سنا جا سکے۔
موجودہ سول جسٹس سسٹم کا پاکستان 124 ویں اور کریمنل نظام 108 ویں نمبر پر ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہتری کی اشد ضرورت ہے۔سینیٹر عبدالقادر نے آئینی ترمیم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پارلیمنٹ کے ذریعے جمہوری طریقے سے کی جا رہی ہے اور چھوٹی سیاسی جماعتوں کے جائز مطالبات پر بھی عمل درآمد ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ستائیسویں ترمیم میں ایم کیو ایم، اے این پی اور باپ پارٹی کے مطالبات تسلیم کیے جانے چاہئیں تاکہ تمام سیاسی فریقین کی شمولیت یقینی بنائی جا سکے۔
اجلاس میں ارکان نے 27ویں آئینی ترمیم پر مثبت اور تعمیری بحث جاری رکھنے پر زور دیا اور ملک کی آئینی سالمیت اور جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔پی ٹی آئی کے اراکین اجلاس کے دوران ایوان سے باہر چلے گئے، تاہم انہوں نے رسمی طور پر واک آوٹ کا اعلان نہیں کیا۔ پریزائیڈنگ آفیسر نے وزرا کی غیر موجودگی پر نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ وزرا کو اجلاس میں طلب کیا جائے۔








