ایچ ای سی میں فیکلٹی کے پے سکیل نظام پر قائم ٹاسک فورس کا اجلاس، ٹی ٹی ایس اساتذہ کو بیس لائن کی 35 فیصد اضافی تنخواہ دینے سے متعلق سفارشات کی منظوری

اسلام آباد۔5مارچ (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت ہائیر ایجوکیشن میں فیکلٹی کے پے سکیل نظام پر قائم ٹاسک فورس کا آٹھواں اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایچ ای سی اور صوبائی ہائیر ایجوکیشن محکموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ٹینیور ٹریک سسٹم (ٹی ٹی ایس ) کی تنخواہیں …

اسلام آباد۔5مارچ (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت ہائیر ایجوکیشن میں فیکلٹی کے پے سکیل نظام پر قائم ٹاسک فورس کا آٹھواں اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایچ ای سی اور صوبائی ہائیر ایجوکیشن محکموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ٹینیور ٹریک سسٹم (ٹی ٹی ایس ) کی تنخواہیں 2021 سے منجمد ہیں، جس کے باعث اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں قابل اور باصلاحیت اساتذہ کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی ایس اسکیل میں 35 فیصد فرق ختم ہو چکا ہے، تاہم اس نظام کو مزید مؤثر اور مسابقتی بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یونیورسٹیوں میں قابل اساتذہ موجود نہ رہے تو اعلیٰ تعلیم کا نظام شدید بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹیوں میں ٹیلنٹ لانے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے پے اسکیل میں ترمیم ناگزیر ہے۔وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ بہتر تنخواہیں اسکیل کے ساتھ کارکردگی کے اشاریے بھی سختی سے نافذ کیے جائیں تاکہ تعلیمی معیار میں بہتری یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے ٹی ٹی ایس میں شامل اساتذہ کو بیس لائن کی 35 فیصد اضافی تنخواہ دینے سے متعلق سفارشات کی منظوری بھی دی۔

احسن اقبال نے زور دیا کہ ایچ ای سی صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر یونیورسٹیوں کے لیے بجٹ میں اضافہ یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ ہر پی ایچ ڈی ڈگری یکساں معیار کی نہیں ہوتی، اس لیے دنیا کی 50 بہترین یونیورسٹیوں سے پی ایچ ڈی کرنے والے اساتذہ کو خصوصی مراعات دی جانی چاہئیں تاکہ عالمی معیار کی تحقیق اور تدریس کو فروغ دیا جا سکے۔اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ ہائیر ایجوکیشن کے نظام کو عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔