ایڈز لاعلاج مرض نہیں،اس کے علاج کے مراکز بڑھا رہے ہیں،اس حوالے سے آگاہی کی ضرورت ہے، ڈاکٹر مصطفی کمال

وفاقی وزیر برائے قومی صحت ڈاکٹر مصطفی کمال نے کہا ہے کہ ایڈز لاعلاج مرض نہیں،اس کے علاج کے مراکز بڑھا رہے ہیں،پاکستان میں علاج کے مراکز میں 84 ہزار مریض رجسٹرڈ ہیں تاہم ان میں علاج کرانے والوں میں 20 ہزار غائب ہیں۔

اسلام آباد۔10جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی صحت ڈاکٹر مصطفی کمال نے کہا ہے کہ ایڈز لاعلاج مرض نہیں،اس کے علاج کے مراکز بڑھا رہے ہیں،پاکستان میں علاج کے مراکز میں 84 ہزار مریض رجسٹرڈ ہیں تاہم ان میں علاج کرانے والوں میں 20 ہزار غائب ہیں۔بدھ کو قومی اسمبلی میں زہرہ ودود فاطمی سمیت دیگر کے ملک بھر میں بالخصوص بچوں میں ایچ آئی وی /ایڈز کے کیسز میں تیزی سے ہونے والے اضافے سے متعلق توجہ دلائو نوٹس کے جواب میں وفاقی وزیر قومی صحت نے بتایا کہ حکومت بھرپور توجہ دے رہی ہے۔گزشتہ دنوں تونسہ اور اسلام آباد سے دو خبریں آئیں، لاڑکانہ،کراچی اور تونسہ میں بچوں میں ایڈز ڈرپ کے دوبارہ استعمال سے پھیلا۔یواین ڈی پی کے مطابق 3 لاکھ 66 ہزار مریض ہیں، ہمارے اے آر ٹی سنٹر میں 84 ہزار لوگ رجسٹرڈ ہیں، ایچ آئی وی کے مریضوں کو ان اے آر ٹی مراکز میں ادویات کے لئے آنا پڑے گا، ان مراکز کی تعداد سو سے بڑھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ایڈز لاعلاج نہیں ہے، اس کا علاج ہے، اس حوالے سے آگاہی کی ضرورت ہے، اس کے پھیلنے کے کئی عنصر ہیں۔گزشتہ سال میں 37 ہزار اور 2026ء میں تین لاکھ 72 ہزار سے زائد کی سکریننگ کی گئی، اس میں عالمی ادارہ سپورٹ کرتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پانچ قسم کی سرنجز پر پابندی لگائی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ آگاہی پر بہت زور دے رہے ہیں،بیرون ملک سے صحت کے مسائل کی وجہ سے ڈی پورٹ ہونے والوں کو ڈی پورٹ ہونے پر میڈیکل چیک اپ کے بغیر نہیں جانے دیتے۔ہماء اختر چغتائی کے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ کراچی،تونسہ اور لاڑکانہ میں سرنجز کے غلط استعمال کی وجہ سے بچوں میں ایچ آئی وی کے کیس رپورٹ ہوئے۔618 کیسز میں اسلام آباد کے رہائشی 210 ہیں، 90 فیصد بالغ اس کا شکار ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اے آر ٹی مراکز 52 سے بڑھا کر 92 کئے ہیں، سکریننگ میں بھی اضافہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں ’’سکن کراس‘‘ کرنے میں ایچ آئی وی،ہیپاٹائٹس بی سی کے ٹیسٹ لازمی قرار دینے کے لئے قانون سازی کرنے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبے بھی اس پر فعال ہیں۔چاروں صوبوں کے وزراء صحت سے رابطہ ہے۔جی بی اور کشمیر کے وزراء سے بھی رابطہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ایڈز کا مریض اگر دوائی استعمال کرتا ہے تو وہ مرض پھیلنا ختم ہوجاتا ہے۔اس کی ہیلپ لائن کا دوہفتوں میں آغاز کر رہے ہیں جہاں پر بات کرکے رہنمائی لی جاسکے گی۔انہوں نے کہا کہ آگاہی کے حوالے سے ہم سے کوتاہی ہوئی ہے لیکن اب اس کی بہت جارحانہ آگاہی مہم چلائیں گے۔