ای سی سی نے دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کے لئے مالی وسائل فراہم کرنے کے ضمن میں 500 ملین ڈالر مالیت کے یورو بانڈ کے اجرا کی منظوری دیدی

اسلام آباد۔24دسمبر (اے پی پی):کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کے لئے مالی وسائل فراہم کرنے کے ضمن میں 500 ملین ڈالر مالیت کے یورو بانڈ کے اجراء کی منظوری دیدی، اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کراچی ٹرانسفارمیشن پلان پر تفصیلی غور کیا گیا اور اس کی تائید کی گئی، ای سی سی نے ہدایت کی ہے کہ تمام …

اسلام آباد۔24دسمبر (اے پی پی):کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کے لئے مالی وسائل فراہم کرنے کے ضمن میں 500 ملین ڈالر مالیت کے یورو بانڈ کے اجراء کی منظوری دیدی، اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کراچی ٹرانسفارمیشن پلان پر تفصیلی غور کیا گیا اور اس کی تائید کی گئی، ای سی سی نے ہدایت کی ہے کہ تمام متعلقہ حلقوں سے منظوری لینے کے بعد اسے کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے، ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کراچی ٹرانسفارمیشن پلان سے متعلق ضابطے کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے کی بھی ہدایت کی، اجلاس میں 5 تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری دی گئی۔ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو یہاں وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں وفاقی وزیر نجکاری محمد میاں سومرو، وزیر توانائی عمر ایوب خان، وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر، مشیر تجارت عبدالرزاق دائود، وزیر ریلوے اعظم سواتی، معاون خصوصی پٹرولیم ندیم بابر، معاون خصوصی بجلی تابش گوہر، وزیر بحری امور علی حیدر زیدی، وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا اور گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزارت آبی وسائل کی جانب سے دیامر بھاشا اور مہمند ڈیمز کی تعمیر کے لئے مالی وسائل کی فراہمی کے ضمن میں واپڈا کے 500 ملین ڈالرمالیت کے یورو بانڈ کی سمری پیش کی گئی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 500 ملین ڈالر یورو بانڈ کے اجراء کی منظوری دی اور اس ضمن میں طریقہ کار طے کرنے کے لئے وزارت خزانہ اور سٹیٹ بینک سے مشاورت کرنے کی ہدایت کی۔ وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کی جانب سے کراچی ٹرانسفارمیشن پلان پر تفصیلی پریذنٹیشن دی گئی۔ اجلاس میں کراچی ٹرانسفارمیشن پلان پر تفصیلی غور کیا گیا اور اس کی تائید کی گئی۔ ای سی سی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ حلقوں سے منظوری لینے کے بعد اسے کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے۔ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کراچی ٹرانسفارمیشن پلان سے متعلق ضابطے کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے کی بھی ہدایت کی۔ وزارت میری ٹائم افیئرز کی جانب سے اجلاس میں بی او ٹی کی بنیاد پر 5 ٹرمینلز کی تعمیر کے ضمن میں ماسٹر پلان میں ترامیم پیش کی گئیں۔ ان ٹرمینلز کے باعث بندرگاہ پر کنٹینروں کی ہنڈلنگ میں سہولت ملے گی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 2 ایل این جی ٹرمینلز سمیت 5 ٹرمینلز کے قیام کے لئے ماسٹر پلان میں منظوری دی، ان میں 2 کثیر المقاصد کارگو ٹرمینل اور ایک مربوط کنٹینر ٹرمینل شامل ہیں جو بی او ٹی کی بنیاد پر چلائے جائیں گے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں وزارت توانائی کی جانب سے سوئی کمپنیز کی جانب سے ایل این جی ایئر میکس پراجیکٹس کو ختم کرنے کی تفصیلی سمری پیش کی گئی، تفصیلی بحث و مباحثے کے بعد ای سی سی نے فیصلہ کیا کہ دروش، آیون اور چترال ٹائون میں سوئی ناردرن کے ان پراجیکٹس کو ترک کیا جائے گا، اس کے لئے زمین اور آلات کو کم سے کم نقصان کی بنیاد پر شفاف طریقے سے ڈسپوز اپ کیا جائے گا۔ وزارت توانائی کی جانب سے اجلاس میں گورنمنٹ ہولڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کے قرضوں کی ادائیگی اور آئی ایس جی ایس ایل گیس کی درآمد و بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سے متعلق منصوبوں کے بارے میں سمری پیش کی گئی، گورنمنٹ ہولڈنگز نے آئی ایس جی ایس ایل کے تمام اخراجات و مصارف کے لئے 15 دسمبر 2016ء کو ای سی سی کے اجلاس کے فیصلے کے مطابق درمیانی مدت کے قرضے حاصل کئے تھے، اس ضمن میں مختلف تجاویزکا جائزہ لیا گیا۔ ای سی سی نے ہائی پاور بورڈ سے کلیئرنس کی صورت میں تجویز کی منظوری دی۔ اجلاس میں وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے کرائیو جینک آکسیجن ٹینک کی درآمد پر ڈیوٹی اور ٹیکس کے خاتمے کی سمری کی منظوری بھی دی گئی، اس سے مسابقتی نرخوں پر آکسیجن کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔اجلاس میں پاکستان کریڈٹ گارنٹی کمپنی کے شیئر ہولڈنگ سٹرکچر کی منظوری بھی دی گئی، نئے سٹرکچر کے مطابق کمپنی میں حکومت کے شیئرز کا حصہ 70 فیصد سے کم کر کے 49 فیصد کر دیا جائے گا۔اجلاس میں پائیدار اہداف اچیومنٹ پروگرام کے تحت مختلف منصوبوں کی تکمیل کے لئے 75.71 کروڑ روپے، کم ترقی یافتہ علاقوں میں طلباء کوفیسوں کی واپسی کے لئے ہائرایجوکیشن کمیشن کی درخواست پر 50 کروڑ روپے، وزیراعظم کے کم لاگت گھروں کی تعمیرکی سکیم کے تحت بلاسود قرضوں کی فراہمی کے لئے 50 کروڑ روپے، پی ایس ڈی پی کے تحت سندھ اور بلوچستان میں وزارت ہائوسنگ اور پاک پی ڈبلیو ڈی کے تحت سکیموں کے لئے 4189 ملین روپے اور آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے عالمی بینک کے پبلک فانشل مینجمنٹ اینڈ اکائونٹیبلٹی سروس ڈیلیوری پراجیکٹ کے لئے 32.7 کروڑ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری دی گئی۔