اے این ایف کا نمل کے اشتراک سے منشیات کے خلاف آگاہی کے حوالے سے آگاہی سیمینار کا انعقاد

اسلام آباد۔11نومبر (اے پی پی):اے این ایف نارتھ کے زیر اہتمام نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل)میں منشیات سے بچاؤ اور بحالی کے حوالے سے ایک آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کی قیادت ریجنل کمانڈر اے این ایف نارتھ بریگیڈیئر حسن عباس نے کی۔ سیمینار کا مقصد طلبہ، والدین اور اساتذہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی لعنت اور اس کے خاتمے کے لئے اجتماعی کوششوں سے آگاہ کرنا …

اسلام آباد۔11نومبر (اے پی پی):اے این ایف نارتھ کے زیر اہتمام نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل)میں منشیات سے بچاؤ اور بحالی کے حوالے سے ایک آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کی قیادت ریجنل کمانڈر اے این ایف نارتھ بریگیڈیئر حسن عباس نے کی۔ سیمینار کا مقصد طلبہ، والدین اور اساتذہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی لعنت اور اس کے خاتمے کے لئے اجتماعی کوششوں سے آگاہ کرنا تھا۔تقریب میں ڈائریکٹر جنرل نمل بریگیڈیئر محمد رفیق خان، ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز ڈاکٹر محمد ریاض شاد، والدین، اساتذہ اور بڑی تعداد میں طلبہ نے شرکت کی۔

اپنے کلیدی خطاب میں ریجنل کمانڈر اے این ایف (نارتھ) بریگیڈیئر حسن عباس نے اے این ایف کے تین بنیادی شعبوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ اے این ایف ہر سال تقریباً 350 میٹرک ٹن منشیات تلف کرتی ہے۔ بریگیڈیئر حسن عباس نے خبردار کیا کہ منشیات معاشرے کے لئے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہیں اور یہ والدین کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے بھی ایک بڑا چیلنج ہیں۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے منشیات کی لت ایک ایسا کاروبار بن چکی ہے جو صحت کو تباہ کرتا ہے اور منشیات مافیا کو فائدہ پہنچاتا ہے۔

انہوں نے ویپ، ویلو اور سگریٹ کو منشیات کی لت کا آغاز قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اے این ایف حکومت اور بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے ان مصنوعات پر پابندی کے لئے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نوجوانوں کو اس برائی سے بچانے کے لئے خاندانی رابطے اور والدین کی نگرانی کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ڈاکٹر محمد ریاض شاد، جو نمل کی اینٹی ڈرگ کمیٹی (اے ڈی سی ) کے سربراہ بھی ہیں، نے اپنے خطاب میں کہا کہ منشیات کا استعمال زندگی کے سکون، مقصد اور کارکردگی کو تباہ کر دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نشہ آور اشیاء کا استعمال خاص طور پر طلبہ کے لئے نقصان دہ ہے جو ان کی سماجی، نفسیاتی اور مالی حالت پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ ڈاکٹر شاد نے اس بات پر زور دیا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے اجتماعی عزم اور معاشرتی شمولیت ضروری ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نمل اپنی اینٹی ڈرگ کمیٹی کے ذریعے آگاہی سیمینارز، مشاورتی سیشنز، اے این ایف اور دیگر سرکاری اداروں کے ساتھ تعاون، نفسیاتی مدد کی فراہمی اور طلبہ کو مثبت و تعمیری سرگرمیوں میں شامل کر کے اس چیلنج کا مقابلہ کر رہا ہے۔

ماہر نفسیات اور اے این ایف ری ہیبیلیٹیشن سینٹر کی میڈیکل آفیسر ڈاکٹر زارا کرن نے ایک تفصیلی تکنیکی پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے شرکاء کو اے این ایف کی بحالی کی سہولیات کے بارے میں آگاہ کیا جو مفت علاج اور مشاورت فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے ’’یوتھ ایمبیسڈر پروگرام‘‘ کے بارے میں بھی بتایا اور طلبہ کو منشیات سے پاک معاشرہ بنانے میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دی۔

تقریب کے آخر میں سوال و جواب کا ایک انٹریکٹو سیشن منعقد کیا گیا جس میں طلبہ اور والدین نے منشیات کی روک تھام، بحالی کے طریقہ کار اور نشے کے نفسیاتی پہلوؤں پر سوالات کئے۔سیمینار کے اختتام پر بریگیڈیئر حسن عباس کو یادگاری شیلڈ پیش کی گئی جس کے بعد طلبہ، اساتذہ اور اے این ایف نمائندگان نے ایک آگاہی واک میں حصہ لیا جس میں منشیات سے پاک معاشرہ قائم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

مزید خبریں