اسلام آباد ۔ 13 مارچ (اے پی پی)وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ 22کروڑ عوام کی طرح ہم بھی توقع رکھتے ہیں کہ نیب قانون کے یکساں اطلاق کو یقینی بنائے گا اور ادارے کے اندر سے انتقام کی بو نہیں آئے گی ، کمزور کو دھر لینا اور طاقتور کو چھوڑ دینے کا تاثر ختم ہونا چاہیے، نیب اگر …
بائیس کروڑ عوام کی طرح ہم بھی توقع رکھتے ہیں کہ نیب قانون کے یکساں اطلاق کو یقینی بنائے گا اور ادارے کے اندر سے انتقام کی بو نہیں آئے گی ، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 13 مارچ (اے پی پی)وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ 22کروڑ عوام کی طرح ہم بھی توقع رکھتے ہیں کہ نیب قانون کے یکساں اطلاق کو یقینی بنائے گا اور ادارے کے اندر سے انتقام کی بو نہیں آئے گی ، کمزور کو دھر لینا اور طاقتور کو چھوڑ دینے کا تاثر ختم ہونا چاہیے، نیب اگر کسی کوگرفتار کرنے سے پہلے حقائق کا جائزہ لے ،قانونی تقاضے پورے کرے اورگرفتار ی کے بعد اس سے جڑے الزامات کو ثابت کرے اس کے بعد عدالتوں کا عمل ہے کہ وہ جسے چاہے رہا کرے یا سزا سنا دے ،حکومت میڈیا سے تصادم نہیں چاہتی اور نہ ہی میڈیا سے ٹکراﺅ کسی حکومت کے لئے موزوں ہوتا ہے، موجودہ حکومت میڈیا کی آزادی پر کامل یقین رکھتی ہے ،میر شکیل الرحمان میڈیا ہاﺅس کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ کاروباری شخصیت بھی ہیں ان کی گرفتاری بطور کارورباری شخصیت ہوئی ہے ، ایک شخص کو میڈیا کی آزادی سے جوڑنا صحافتی اقدارکی خلاف ورزی ہے ، کسی فرد واحد کا ذاتی مالیاتی ایشو نیب کے پاس زیر تفتیش ہے تو اس سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں ،صحافتی کاز کسی فرد واحد کے مفاد سے بہت بالاتر ہوتا ہے ۔ وہ جمعہ کو پی آئی ڈی کے میڈیا سینٹر میں میڈیا کو بریفنگ دے رہی تھیں ۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ جنگ اور جیو گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کا میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا، صحافتی برادری سے تعلق رکھنے والے ایک رکن نے صحافتی برادری کے دوسرے رکن کے خلاف درخواست دی جس پر حکومت کا کوئی اختیار نہیں ہے، میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کے معاملے پر حکومت کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا احتساب کا نعرہ ہے اور وہ کرپشن فری پاکستان چاہتے ہیں، پاکستان کے 22 کروڑ عوام کی طرح ہم بھی نیب سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ قانون کا یکساں اطلاق کرے گا، ہم چاہتے ہیں کہ نیب کے اقدامات سے ایسی بو نہیں آنی چاہیے کہ کمزور کو پکڑ لیا جائے اور طاقتور کو چھوڑ دیا جائے، ہم نیب کو ایک طاقتور ادارے کے طور پر آگے بڑھتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی قیادت میں آزاد ادارے غیر جانبدارانہ طریقے سے اپنا کام کر رہے ہیں، کل کے واقعے میں نیب کے کردار کو حکومت کے ساتھ نتھی کرنا اور یہ تاثر دینا کہ حکومت نے صحافتی برادری کو قتل کر دیا ہے یہ صحافتی اقدار کی خلاف ورزی ہے۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کسی ادارے کے مالک کی کاروباری اور مالی معاملات میں ہونے والی انکوائری یا گرفتاری کو میڈیا کے ساتھ جوڑنا اور اسے حکومت کے خلاف رائے دینے کے لیے جوڑنا بھی صحافتی اقدار کی نفی ہے، اس عمل کو ایک آزاد اور خود مختار ادارہ جو کر رہا ہے اسے حکومت کی خواہش کے تابع کرنے کا بیان دینا بھی ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین کامل ہے کہ اگر نیب میر شکیل الرحمان صاحب کو ایسے الزامات کے تحت گرفتار کرتی ہے جس کے تحت انھوں نے اس وقت کے وزیراعظم سے ایسے پلاٹ لیے اور ان پلاٹس سے وزیراعلیٰ سے کوئی رعائت لی اور اسے کسی ذاتی فائدے کے لیے استعمال کیا تو ان الزامات کا سامنا کریں، جب دونوں فریق اپنا مو¿قف عدالت میں لاتے ہیں تو عدالت حقائق کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے جن حقائق کی بنیاد پر میر شکیل الرحمان کا ریمانڈ لیا ہے، ہم امید رکھتے ہیں کہ نیب ٹھوس ثبوت سامنے لائے گا تاکہ نیب کے مو¿قف کو آئین اور قانون کی بالادستی حاصل ہو، اسی طرح میر شکیل الرحمان اور ان کے میڈیا گروپ سے وابستہ صحافی بھی حکومت پر تیر برسانے کے بجائے ثبوت عدالت میں پیش کریں کیونکہ عدالتوں پر کسی کو شق نہیں ہے، جیو اور جنگ گروپ کو بھی عدالت سے یہی توقع رکھنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کے واقعے کو حکومت یا وزیراعظم کے ساتھ جوڑنا صحافتی اقدار کی نفی ہے، اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو آپ اس پر اپنا ضرور مو¿قف پیش کریں لیکن حکومت کا مو¿قف بھی لیں کیونکہ یہ میڈیا کی صحافتی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب حکومتی نہیں آزاد ادارہ ہے، توقع رکھتے ہیں کہ عدالتیں آئین اور قانون کی روشنی میں ثبوتوں کی بنیاد پر فیصلہ کریں گی۔








