بابری مسجد کا انہدام محض ایک عبادت گاہ کا خاتمہ نہیں، مسلمانوں کے مذہبی ورثے کو مٹانے کے ایک وسیع تر ایجنڈے کا حصہ تھا، غلام محمد صفی

اسلام آباد۔6دسمبر (اے پی پی):کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینئر غلام محمد صفی نے کہا ہے کہ 6 دسمبر 1992 بھارت کی تاریخ کا ایک ایسا سیاہ دن ہے جس نے نہ صرف اس کے سیکولر دعوئوں کی حقیقت آشکار کی بلکہ ریاستی سرپرستی میں پنپنے والی ہندوتوا انتہاپسندی کے خطرناک عزائم کو بھی پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا،پانچ صدی پرانی تاریخی مسجد کا انہدام کسی بےقابو …

اسلام آباد۔6دسمبر (اے پی پی):کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینئر غلام محمد صفی نے کہا ہے کہ 6 دسمبر 1992 بھارت کی تاریخ کا ایک ایسا سیاہ دن ہے جس نے نہ صرف اس کے سیکولر دعوئوں کی حقیقت آشکار کی بلکہ ریاستی سرپرستی میں پنپنے والی ہندوتوا انتہاپسندی کے خطرناک عزائم کو بھی پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا،پانچ صدی پرانی تاریخی مسجد کا انہدام کسی بےقابو ہجوم کا خود رو عمل نہیں تھا بلکہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی اعلیٰ قیادت کی نگرانی میں ایک منظم اور سوچا سمجھا منصوبہ تھا، جس کا مقصد بھارت کے سیاسی نقشے کو مذہبی بنیادوں پر ازسر نو ترتیب دینا تھا۔

بابری مسجد کی شہادت کے 33 سال مکمل ہونے پر اپنے بیان میں کنونیئر غلام محمد صفی نے کہا کہ 1992 کے وہ دلخراش مناظر اب بھی دنیا بھر کے مسلمانوں کی اجتماعی یادداشت میں زندہ ہیں، اور یہ سانحہ اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ بھارت میں مذہبی اقلیتیں مسلسل عدم تحفظ، امتیازی سلوک اور ریاستی جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔ نومبر 2019 میں بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی زمین ہندو اکثریت کے حوالے کرکے نہ صرف انصاف کے بنیادی اصولوں سے انحراف کیا بلکہ اس فیصلے نے واضح طور پر ظاہر کر دیا کہ بھارت کا عدالتی نظام بھی ہندوتوا نظریے کے اثر و رسوخ سے محفوظ نہیں رہا۔

ایک تاریخی مسجد کے انہدام کے باوجود اسی مقام کو مندر کی تعمیر کے لیے مختص کرنا انسانی حقوق، بین الاقوامی قانون اور عدالتی غیرجانبداری کے مسلمہ اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔غلام محمد صفی نے کہا کہ بابری مسجد کا انہدام محض ایک عبادت گاہ کا خاتمہ نہیں تھا بلکہ مسلمانوں کے مذہبی ورثے کو مٹانے کے ایک وسیع تر ایجنڈے کا حصہ تھا، جس کا تسلسل آج پورے بھارت میں صاف نظر آتا ہے۔ بی جے پی حکومت کھلے عام ہزاروں مساجد کو مندر سازی کے منصوبوں کے لیے نشانہ بنا رہی ہے، جو مسلمانوں کی مذہبی شناخت پر براہِ راست حملہ ہے۔

کنونیئر غلام محمد صفی نےاس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ مودی انتظامیہ اور بھارتی قابض افواج جموں و کشمیر میں بھی اسی انتہاپسندانہ پالیسی کو جاری رکھے ہوئے ہیں، جہاں مساجد کی تالہ بندی، نمازِ جمعہ پر پابندی، لاؤڈ سپیکرزکی ضبطی اور عبادت گاہوں پر چھاپے جو مذہبی آزادی کی بدترین پامالی ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں مساجد کی بے حرمتی اور ان کی بندش کوئی وقتی یا انفرادی کارروائی نہیں بلکہ اس ہندوتوا ایجنڈے کا براہ راست تسلسل ہے جو 1992 میں بابری مسجد پر حملے کے ساتھ نمایاں ہوا تھا۔

مقصد یہ ہے کہ کشمیری مسلمانوں کی اجتماعی مذہبی شناخت کو کمزور کیا جائے، ان کے سماجی و روحانی ڈھانچے کو متاثر کیا جائے اور انہیں مسلسل خوف اور جبر کی کیفیت میں رکھا جائے۔ یہ پالیسی نہ صرف مذہبی آزادی کے بنیادی حقوق کو پامال کرتی ہے بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینئر غلام محمد صفی نے کہا کہ مودی حکومت کے فاشسٹ اقدامات، اقلیتوں کے بنیادی حقوق کی پامالی اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی سیاسی بیانیہ بھارت کو ایسی خطرناک سمت کی طرف لے جا رہا ہے جسے عالمی ماہرین ممکنہ نسلی تطہیر کے خدشات سے تعبیر کر رہے ہیں۔

بھارت میں اسلامی شناخت کو مٹانے، سیاسی آوازوں کو دبانے اور مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے کا یہ تسلسل خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی شدید خطرہ بن چکا ہے۔انہوں نے عالمی برادری، اقوام متحدہ، او آئی سی اور انسانی حقوق کے تمام ذمہ دار اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف منظم جبر، جموں و کشمیر میں مساجد کی بے حرمتی، مذہبی پابندیوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیں۔

بھارتی حکومت کو اس کے جرائم پر جوابدہ ٹھہرایا جانا ناگزیر ہے، کیونکہ خاموشی مزید ظلم کو جنم دیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بابری مسجد آج بھی مزاحمت، عدل اور حق کے مطالبے کی ایک روشن علامت ہے۔ 33سال گزرنے کے باوجود یہ سوال پوری قوت کے ساتھ موجود ہے کہ کیا ایک ریاست طاقت اور تعصب کے بل پر انصاف کو ہمیشہ کے لیے دفن کر سکتی ہے۔ حریت کانفرنس انصاف، حقِ خودارادیت اور مذہبی آزادی کی جدوجہد جاری رکھے گی اور عالمی برادری سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اس جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرے۔

مزید خبریں