باہمی اعتماد، مفاد، مساوات اور تہذیبی تنوع کے احترام پر مبنی اصول ایس سی او کو کثیرالجہتی تعاون کا کامیاب ماڈل بنانے میں کردار ادا کر رہے ہیں، چینی سفیر

اسلام آباد۔4فروری (اے پی پی):پاکستان میں عوامی جمہوریہ چین کے سفیر جیانگ ژائی ڈونگ نے کہا ہے کہ باہمی اعتماد، باہمی مفاد، مساوات اور تہذیبی تنوع کے احترام پر مبنی اصول جنہیں مجموعی طور پر ’’شنگھائی سپرٹ‘‘ کہا جاتا ہے، شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کو باہمی فائدے پر مبنی کثیرالجہتی تعاون کا ایک کامیاب ماڈل بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز …

اسلام آباد۔4فروری (اے پی پی):پاکستان میں عوامی جمہوریہ چین کے سفیر جیانگ ژائی ڈونگ نے کہا ہے کہ باہمی اعتماد، باہمی مفاد، مساوات اور تہذیبی تنوع کے احترام پر مبنی اصول جنہیں مجموعی طور پر ’’شنگھائی سپرٹ‘‘ کہا جاتا ہے، شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کو باہمی فائدے پر مبنی کثیرالجہتی تعاون کا ایک کامیاب ماڈل بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز (نپس) کے زیر اہتمام چینی سفارت خانے کے تعاون سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی سیمینار سے خطاب کر رہے تھے جو ایس سی او کے قیام کی 25ویں سالگرہ کے موقع پر ’’25 سالہ ایس سی او: شنگھائی سپرٹ کے ذریعے ایک نئے عالمی تناظر کی تشکیل‘‘ کے عنوان سے منعقد کیا گیا۔

سیمینار میں ایس سی او کے بڑھتے ہوئے کردار کا جائزہ لیا گیا جس میں کثیر قطبی عالمی نظام کے فروغ، پائیدار ترقی اور منصفانہ بین الاقوامی تعاون پر توجہ مرکوز کی گئی۔ مقررین نے تنظیم کو محض ایک علاقائی اتحاد کے بجائے گلوبل سائوتھ کی امن، طویل المدتی استحکام اور مشترکہ خوشحالی پر مبنی خواہشات کا مظہر قرار دیا جہاں اتفاق رائے پر مبنی فیصلہ سازی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ چینی سفیر نے اپنے تفصیلی خطاب میں شنگھائی سپرٹ کے ارتقاء پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس کے رہنما اصولوں نے ایس سی او کو سیاسی اعتماد، اقتصادی تعاون اور عوامی روابط کے فروغ کا ایک موثر پلیٹ فارم بنایا ہے جو مشترکہ مستقبل کی حامل عالمی برادری کے تصور کو تقویت دیتا ہے۔

تقریب میں پاکستان کے مستقل نمائندہ برائے اقوام متحدہ سفیر نبیل منیر نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی جو ایس سی او فریم ورک کے ساتھ پاکستان کی سٹریٹجک وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔ سیمینار کے آغاز پر ریکٹر نسٹ ڈاکٹر محمد زاہد لطیف نے کہا کہ یہ تقریب جدید سوچ اور وسیع مشاورت کی ایک اہم کاوش ہے اور نپس کے ذریعے نسٹ ایس سی او کے مشترکہ ترقیاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے کثیرالجہتی تحقیق میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

روس کے سفیر البرٹ پی خوریف نے کہا کہ ایس سی او ایک زیادہ جمہوری اور منصفانہ عالمی نظام کی بنیاد بن چکی ہے جو رکن ممالک کے درمیان علاقائی سلامتی کے استحکام اور اقتصادی روابط کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سفیر نبیل منیر نے کہا کہ پاکستان ایس سی او کو اپنی خارجہ پالیسی کا ایک مرکزی ستون سمجھتا ہے، بالخصوص علاقائی اقتصادی انضمام، توانائی کے تحفظ اور مشترکہ سلامتی کے شعبوں میں اور شنگھائی سپرٹ کو عملی اقدامات میں ڈھالنے کے لیے اجتماعی کوششوں کے عزم کا اعادہ کیا۔

سیمینار میں ماہرین کے پینل مباحثے بھی منعقد ہوئے جن میں گرین ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل رابطہ کاری، انسداد دہشت گردی اور ثقافتی تبادلوں کے ذریعے موجودہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے پر غور کیا گیا۔ نپس اور چینی سفارت خانے کے اس مشترکہ اقدام کو دوطرفہ تعاون کی ایک مضبوط مثال قرار دیا گیا جو وسیع تر کثیرالجہتی مکالمے اور علاقائی استحکام کے فروغ میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔

 

مزید خبریں