صدر فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری فاروق یوسف شیخ
بجٹ میں رئیل اسٹیٹ، برآمدات اور کاروباری شعبوں کیلئے مراعات خوش آئند، حکومت صحت اور سرمایہ کاری پر مزید توجہ دے، صدر فیصل آباد چیمبر

مزید خبریں
فیصل آباد ۔ 12 جون (اے پی پی):صدر فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری فاروق یوسف شیخ نے وفاقی بجٹ2026-27 میں کاروباری، صنعتی، برآمدی اور رئیل اسٹیٹ شعبوں کے لیے متعارف کرائی گئی مراعات کو ملکی معیشت کی بحالی، سرمایہ کاری کے فروغ اور ٹیکس نیٹ کی توسیع کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے متعدد اقدامات سے کاروباری برادری کا اعتماد بحال ہوگا،
اقتصادی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی اور پاکستان عالمی سطح پر ایک مثبت معاشی تشخص کے ساتھ آگے بڑھے گا، تاہم صحت اور بعض دیگر سماجی شعبوں کے لیے مزید وسائل مختص کرنے کی ضرورت ابھی برقرار ہے۔صدر چیمبر نے بجٹ پر اپنے ردعمل میں کہا کہ رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبہ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ درجنوں صنعتیں براہ راست یا بالواسطہ طور پر اس شعبے سے وابستہ ہیں۔ اس لیے جب رئیل اسٹیٹ کا شعبہ متحرک ہوتا ہے تو اس کے مثبت اثرات پوری معیشت پر مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جائیداد کے لین دین پر ودہولڈنگ ٹیکس کو کم کرکے 2.75 فیصد کرنا اور پراپرٹی کی خرید و فروخت پر عائد بعض دیگر ٹیکسوں میں کمی حکومت کا ایک مثبت اور دوررس فیصلہ ہے جس سے سرمایہ کاری کا عمل دوبارہ متحرک ہوگا اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری ایک طویل عرصے سے مطالبہ کر رہی تھی کہ ایسے ٹیکسوں اور مالی بوجھ میں کمی کی جائے جو سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ حکومت نے بجٹ میں بعض اہم شعبوں کے لیے ریلیف دے کر اس جانب پیش رفت کی ہے جس پر وزیراعظم، وزیر خزانہ اور معاشی ٹیم خراج تحسین کی مستحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کی مضبوطی کا انحصار نجی شعبے کی ترقی پر ہے اور جب کاروباری طبقے کو اعتماد اور سہولت میسر آتی ہے تو اس کے مثبت اثرات روزگار، پیداوار اور قومی آمدن کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے برآمدی شعبے کے لیے سپر ٹیکس میں 10 فیصد سے 8 فیصد تک کمی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ چھوٹے برآمد کنندگان کے لیے اس بوجھ میں نرمی کاروباری برادری کا دیرینہ مطالبہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے بعض ایسے ٹیکسوں میں بھی کمی کی ہے جو برآمدات کے فروغ میں رکاوٹ بن رہے تھے، جس پر وزیراعظم، وزیر خزانہ اور اقتصادی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت برآمدات بڑھانے اور زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم کرنے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کو سخت مسابقت کا سامنا ہے، اس لیے برآمد کنندگان کے لیے لاگت میں کمی اور مالی سہولتوں کی فراہمی ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق سپر ٹیکس میں کمی اور بعض چھوٹے برآمد کنندگان کو ریلیف دینا اس شعبے کے لیے حوصلہ افزا اقدام ہے جس سے برآمدی سرگرمیوں کو تقویت مل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک سفر کرنے والے کاروباری افراد کے لیے بزنس کلاس ٹکٹوں پر عائد فیس کا خاتمہ بھی ایک مثبت قدم ہے کیونکہ عالمی منڈیوں تک رسائی اور تجارتی روابط کے فروغ کے لیے پاکستانی برآمد کنندگان کی بین الاقوامی سطح پر موجودگی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی صنعت کاروں اور برآمد کنندگان کو عالمی منڈیوں میں نئی راہیں تلاش کرنے، تجارتی نمائشوں میں شرکت کرنے اور بین الاقوامی خریداروں سے روابط بڑھانے کے لیے مسلسل بیرون ملک سفر کرنا پڑتا ہے، لہٰذا اس حوالے سے دی گئی سہولتیں کاروباری روابط کے فروغ میں مددگار ثابت ہوں گی۔ انہوں نے کریڈٹ کارڈز پر عائد ٹیکس میں کمی کو دستاویزی معیشت کے فروغ کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ جدید معیشتوں کی بنیاد ڈیجیٹل اور شفاف مالی نظام پر ہوتی ہے۔ ماضی میں بعض اضافی ٹیکسوں کی وجہ سے لوگ بینکنگ اور ڈیجیٹل ادائیگیوں سے گریز کرنے لگے تھے جس کے نتیجے میں معیشت کی دستاویزیت کا عمل متاثر ہو رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا یہ اقدام نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کو آسان بنائے گا بلکہ مالی شفافیت کو بھی فروغ دے گا۔ انہوں نے چھوٹے تاجروں کے لیے متعارف کرائے گئے فکسڈ ٹیکس نظام کو بھی خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ لاکھوں چھوٹے کاروباروں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے لیے اعتماد سازی بنیادی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹیکس دہندگان کی تعداد آبادی اور معاشی حجم کے مقابلے میں اب بھی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے کاروباروں کو اعتماد میں لے کر انہیں ٹیکس نظام کا حصہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اور تاجروں کے درمیان اعتماد کی فضا مزید مضبوط ہو جائے تو لاکھوں نئے افراد رضاکارانہ طور پر ٹیکس نیٹ میں شامل ہو سکتے ہیں جس سے قومی آمدن میں نمایاں اضافہ ممکن ہوگا۔ انہوں نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کو عوامی ریلیف کا اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کے تناظر میں عوام کو سہولت فراہم کرنا ضروری ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ صنعتوں اور کاروباری اداروں کے لیے بھی ایسے اقدامات کیے جانے چاہئیں جو ان کی پیداواری لاگت کم کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر صنعتوں کو مناسب سہولتیں اور سازگار ماحول فراہم کیا جائے گا تو وہ بہتر انداز میں روزگار پیدا کرنے اور کارکنوں کو بہتر اجرتیں دینے کے قابل ہوں گی۔ صدر چیمبر نے ملکی دفاع کے لیے تین ہزار ارب روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے قومی سلامتی، استحکام اور عالمی سطح پر ملک کے وقار کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور مستحکم پاکستان ہی مضبوط معیشت کی بنیاد بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصے میں پاکستان کی سفارتی کامیابیوں اور عالمی تنازعات میں مثبت کردار کے باعث دنیا میں ملک کا تشخص بہتر ہوا ہے جس کے معاشی فوائد بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک تجارتی وفود کے دوروں کے دوران پاکستانی کاروباری برادری کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ مثبت ماحول ملا ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کے بارے میں اعتماد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت کو بیرونی سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ بیرون ملک موجود پاکستانی سرمایہ کاروں کو بھی وطن میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینی چاہیے تاکہ صنعتی ترقی اور معاشی سرگرمیوں میں مزید اضافہ ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کوبیرون ملک منتقل ہونے والے پاکستانی سرمایہ کو دوبارہ ملک میں لانے کے لیے مزید پرکشش مراعات دینی چاہئیں۔ انہوں نے صحت کے شعبے کے لیے مختص فنڈز کو ملک کی آبادی اور ضروریات کے مقابلے میں ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جدید ہسپتالوں، طبی سہولتوں اور صحت عامہ کے منصوبوں پر مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ اس لیے بجٹ منظوری سے قبل اس شعبے کے لیے مزید وسائل مختص کرنے پر غور کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح انہوں نے تعلیم کے شعبے کے لیے مختص وسائل کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی حقیقی ترقی تعلیم، ہنر اور انسانی وسائل کی بہتری سے وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان تعلیمی سہولیات کا فرق ختم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ہر بچے کو یکساں تعلیمی مواقع میسر آ سکیں اور اس مقصد کے لیے مزید سرمایہ کاری کی ضرورت برقرار رہے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بجٹ کی منظوری سے قبل کاروباری برادری اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی تجاویز پر سنجیدگی سے غور کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش معاشی چیلنجز کا حل قومی اتحاد، پالیسیوں کے تسلسل، سرمایہ کاری کے فروغ، برآمدات میں اضافے اور تعلیم و صحت جیسے بنیادی شعبوں پر توجہ میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کاروباری برادری ملکی معیشت کو مستحکم بنانے، برآمدات بڑھانے اور پاکستان کو اقتصادی ترقی کی نئی منزلوں تک پہنچانے کے لیے حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی کیونکہ پاکستان کی معاشی خوشحالی اجتماعی کوششوں اور قومی یکجہتی سے ہی ممکن ہے۔







