کاروباری حلقوں کا وفاقی بجٹ 2026-27 میں پنشنرز، ملازمین اور تعمیراتی شعبے کے لیے بعض اقدامات کا خیرمقدم

وفاقی حکومت کے مالی سال 2026-27 کے بجٹ نے خیبر پختونخوا میں پنشنرز، سرکاری ملازمین، مزدوروں، تنخواہ دار طبقے اور تعمیراتی شعبے سے وابستہ افراد کے لیے نئی امیدیں پیدا کر دی ہیں

پشاور۔ 12 جون (اے پی پی):وفاقی حکومت کے مالی سال 2026-27 کے بجٹ نے خیبر پختونخوا میں پنشنرز، سرکاری ملازمین، مزدوروں، تنخواہ دار طبقے اور تعمیراتی شعبے سے وابستہ افراد کے لیے نئی امیدیں پیدا کر دی ہیں، جبکہ کاروباری حلقوں نے بعض اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہوئے مزید اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

85 سالہ ریٹائرڈ سرکاری ملازم مثال خان نے پنشن میں سات فیصد اضافے کے اعلان کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مشکل معاشی حالات میں لاکھوں پنشنرز اور سرکاری ملازمین کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے مطابق اضافی آمدنی گھریلو اخراجات، بچوں کی تعلیم اور علاج معالجے کے بڑھتے ہوئے اخراجات پورے کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، تاہم مہنگائی کے پیش نظر پنشن اور تنخواہوں میں مزید اضافے کی گنجائش موجود ہے۔18.771 کھرب روپے حجم کے وفاقی بجٹ کا مقصد معاشی استحکام کو مضبوط بناتے ہوئے ملک کو سرمایہ کاری اور ترقی کی نئی راہ پر گامزن کرنا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں مالیاتی نظم و ضبط اور اصلاحات کے ذریعے معیشت کو استحکام ملا ہے اور اب توجہ برآمدات، صنعتی جدیدکاری اور سرمایہ کاری کے فروغ پر مرکوز ہے۔خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں بجٹ پر مجموعی ردعمل مثبت رہا۔ سرکاری ملازمین نے تنخواہوں میں اضافے کو مہنگائی کے دباؤ میں ایک اہم ریلیف قرار دیا۔ محکمہ تعلیم سے وابستہ عمر خان کے مطابق خوراک، تعلیم، صحت اور یوٹیلیٹی بلوں کے بڑھتے اخراجات کے باعث ملازمین کو ایسے اقدامات کی اشد ضرورت تھی۔کم از کم اجرت میں 10 فیصد اضافے کے فیصلے کو بھی مزدور طبقے نے سراہتے ہوئے اسے کم آمدنی والے خاندانوں کے معیارِ زندگی میں بہتری کی جانب اہم قدم قرار دیا۔تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس میں مجوزہ کمی کو بھی مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹیکس سلیبز میں تبدیلی اور اضافی سرچارج کے خاتمے سے متوسط طبقے کی قابلِ استعمال آمدنی میں اضافہ ہوگاتعلیمی شعبے سے تعلق رکھنے والی اسسٹنٹ پروفیسر سندس امین نے کہا کہ ٹیکس میں ریلیف تنخواہ دار افراد کے مالی بوجھ میں کمی لانے میں مدد دے گا، جبکہ ماہر تعلیم ڈاکٹر محمد نعیم نے ان اقدامات کو مہنگائی سے متاثرہ لاکھوں خاندانوں کے لیے حوصلہ افزا قرار دیا۔دوسری جانب پراپرٹی اور تعمیراتی شعبے میں بھی بجٹ کے باعث امید کی نئی لہر دیکھی جا رہی ہے۔ بجٹ تجاویز کے مطابق جائیداد کی خرید و فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس میں نمایاں کمی کی تجویز دی گئی ہے، جس سے سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔نوشہرہ سے تعلق رکھنے والے تعمیراتی شعبے کے نمائندوں وصال خان اور ارشاد خان نے کہا کہ ٹیکسوں میں کمی سے جائیداد کی خرید و فروخت آسان ہوگی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا۔ ان کے مطابق تعمیراتی شعبے کی سرگرمیوں میں اضافے سے اسٹیل، سیمنٹ، فرنیچر، پائپ اور ٹرانسپورٹ سمیت متعدد صنعتوں کو بھی فائدہ پہنچے گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔تاہم کاروباری حلقوں نے محتاط ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر جنید الطاف نے سپر ٹیکس کے خاتمے اور بعض اصلاحاتی اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور روزگار کے فروغ کے لیے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ سابق صدر زاہد اللہ شنواری نے بھی بے روزگاری اور صنعتی جمود جیسے مسائل پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔مجموعی طور پر خیبر پختونخوا میں وفاقی بجٹ 2026-27 کو ایک ایسے بجٹ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس نے پنشنرز، ملازمین، مزدوروں اور کاروباری طبقے کو مالی دباؤ میں کچھ ریلیف اور معاشی استحکام کی امید فراہم کی ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب بجٹ میں اعلان کردہ مراعات اور سہولتوں کے اثرات عملی طور پر عام شہریوں تک پہنچیں گے۔ ماہرین کو امید ہے کہ بجٹ اہداف کے حصول، زرعی ترقی، غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔